كيان يهود يشدد قبضته على المسجد الأقصى بينما توجه الأنظمة الخائنة في البلاد الإسلامية جيوشها نحو المسلمين (مترجم)
كيان يهود يشدد قبضته على المسجد الأقصى بينما توجه الأنظمة الخائنة في البلاد الإسلامية جيوشها نحو المسلمين (مترجم)

الخبر: في 7 حزيران/يونيو، أوردت الجزيرة تقريراً عن مجموعة من الخطط والمبادرات "الإسرائيلية" الجديدة الرامية إلى زيادة تشديد قبضتها على القدس الشرقية والأقصى المبارك. وخلال اجتماع عقد مؤخراً لمجلس وزراء كيان يهود بشأن موضوع الأنفاق التي تحفر تحت المسجد المبارك، كشفت الحكومة المجرمة عن مشروع بقيمة 56 مليون دولار يهدف لبناء "قطار كهربائي" يهدف إلى نقل حوالي 3000 زائر في الساعة من القدس الغربية إلى حائط البراق وساحة الصلاة اليهودية التي تقع مباشرة تحت ساحات المسجد الأقصى وقبة الصخرة. ...

0:00 0:00
Speed:
June 12, 2017

كيان يهود يشدد قبضته على المسجد الأقصى بينما توجه الأنظمة الخائنة في البلاد الإسلامية جيوشها نحو المسلمين (مترجم)

كيان يهود يشدد قبضته على المسجد الأقصى

بينما توجه الأنظمة الخائنة في البلاد الإسلامية جيوشها نحو المسلمين

(مترجم)

الخبر:

في 7 حزيران/يونيو، أوردت الجزيرة تقريراً عن مجموعة من الخطط والمبادرات "الإسرائيلية" الجديدة الرامية إلى زيادة تشديد قبضتها على القدس الشرقية والأقصى المبارك. وخلال اجتماع عقد مؤخراً لمجلس وزراء كيان يهود بشأن موضوع الأنفاق التي تحفر تحت المسجد المبارك، كشفت الحكومة المجرمة عن مشروع بقيمة 56 مليون دولار يهدف لبناء "قطار كهربائي" يهدف إلى نقل حوالي 3000 زائر في الساعة من القدس الغربية إلى حائط البراق وساحة الصلاة اليهودية التي تقع مباشرة تحت ساحات المسجد الأقصى وقبة الصخرة. ومن المقرر الانتهاء من المشروع خلال 4 سنوات. وفي الاجتماع نفسه، أعلن رئيس وزراء كيان يهود بنيامين نتنياهو عن تخصيص 14 مليون دولار لإنشاء مصاعد وممرات تحت الأرض لتسهيل وصول اليهود ذوي الاحتياجات الخاصة والمسنين إلى حائط البراق. وقال نتنياهو لوزرائه إن مختلف المشاريع ستعزز علاقة الشعب اليهودي بالمدينة. ووفقاً للجزيرة، فإن كيان يهود وعلى المدى البعيد، يهدف إلى بناء محطة تحت الأرض تربط تل أبيب بالموقع بواسطة قطار سريع. وخلال الاجتماع أيضاً، فقد تم الإعلان عن خطط لإجبار المدارس الفلسطينية في القدس الشرقية لاعتماد المنهاج "الإسرائيلي" الذي يدرس التاريخ الصهيوني فقط ويمحو اتصال الشباب المسلم بالقدس بتعليمهم أن لكيان يهود الحق في المدينة.

وتأتي هذه التصريحات في أعقاب تسهيل سلطة كيان يهود لأعداد قياسية من اليهود المتطرفين والمستوطنين لزيارة المسجد الأقصى وساحاته والسماح للمتطرفين اليهود الذين يؤيدون تدمير وهدم الأقصى بالصلاة في الموقع وأداء الاحتفالات اليهودية هناك، تحت حماية شرطة كيان يهود. كما وتم في شهر نيسان/أبريل، ذبح خروف بالقرب من الأقصى، والذي يعد جزءًا من حفل مرتبط ببناء المعبد اليهودي (الهيكل المزعوم) مكان المسجد الأقصى. وتشير الأرقام "الإسرائيلية" إلى أن حوالي ألف يهودي قد دخلوا إلى ساحات المسجد الأقصى في "يوم القدس" بتاريخ 24 أيار/مايو، وهو يوم عطلة وطنية في كيان يهود حيث يحتفلون باحتلالهم للقدس الشرقية. وهو الحشد الأكبر منذ عقود. وجاء هذا في أعقاب أكبر عدد سنوي من الزيارات التي قام بها المستوطنون للمسجد الأقصى، والذي وصل إلى 15 ألف زيارة في عام 2016. وفي خطاب بمناسبة "يوم القدس"، أشار نتنياهو إلى أن المسجد الأقصى (أو ما يسمى بجبل الهيكل المزعوم) "سيظل دائماً تحت السيادة (الإسرائيلية)".

التعليق:

إن أهداف كيان يهود والذي يرمي إلى تهويد هذا الموقع الإسلامي المقدس واضحة تماماً، هذا فضلاً عن هدفهم بإزالة أهميته ومحو حرمته الدينية من أذهان جيل المستقبل من المسلمين في فلسطين، وقطع ارتباطهم به. كل هذا يحدث تحت نظر وسمع الزعماء في العالم الإسلامي والذين أقاموا علاقات طبيعية مع هذه الدولة الإرهابية بل وجعلوا أنفسهم خط الحماية الأول لهذه الدولة، غير مبالين بتدنيس هذه الأرض المباركة، أرض الإسراء والمعراج وثالث الأمكنة المقدسة عند المسلمين. وبدلاً من توجيه جيوشهم لتحرير هذا المسجد وهذه الأرض المباركة من براثن المحتلين الفجرة، فإن هؤلاء الزعماء الخونة العملاء يختارون بدلاً من ذلك توجيه قنابلهم وأسلحتهم باتجاه إخوانهم وأخواتهم المسلمين بناء على طلب من أسيادهم الغربيين - سواء في سوريا أو العراق أو اليمن أو أفغانستان أو باكستان أو أي مكان آخر -. إن الشيء المقدس الوحيد عند هؤلاء الحكام العملاء هو مصلحتهم وأوامر أسيادهم في واشنطن ولندن وباريس. وعلاوة على ذلك، قامت السلطة الفلسطينية الواهنة والضعيفة بتسليم هذا الموقع المقدس إلى كيان يهود. وفي مقابلة مع القناة الثانية في تلفزيون كيان يهود يوم السبت 3 حزيران/يونيو، قال جبريل الرجوب - أحد كبار أعضاء حركة فتح برئاسة محمود عباس: "نحن ندرك أن الحائط... مقدس لليهود... في نهاية اليوم يجب أن يكون تحت السيادة اليهودية، ليس هناك شك في ذلك".

كل هذا أبعد ما يكون عن تحرير وحماية هذه الأرض المباركة وأماكنها المقدسة التي استظلت في السابق تحت ظل نظام الخلافة المجيد، وتحت قيادات إسلامية تفهم حقاً واجبها والتزاماتها تجاه أمتها ودينها. في الواقع، إن شهر رمضان المبارك قد وقعت فيه معركة حطين عام 1187م، عندما قام القائد العظيم صلاح الدين الأيوبي بتحرير فلسطين من براثن الصليبيين المحتلين واستعادة القدس والأقصى للإسلام والمسلمين. وقبل المعركة، نصحه بعض مستشاريه بتأخير القتال حتى انتهاء الشهر الفضيل، إلا أن صلاح الدين قد أجابهم: "إن حياة الإنسان قصيرة، والموت لا يحدد موعداً، وإن ترك المحتلين في الأراضي الإسلامية ليوم إضافي واحد، على الرغم من قدرتنا على إخراجهم منها، هو عمل فظيع لا أستطيع تحمله". إن إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة هو الحل الوحيد الذي سيتم فيه إرسال القادة العظام أمثال صلاح الدين الأيوبي لتحرير هذه الأرض المباركة واستعادتها تحت راية الإسلام.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست