كيان يهود يستهدف الأردن والأردن يشجب!
كيان يهود يستهدف الأردن والأردن يشجب!

الخبر:   عبّرت وزارة الخارجية الأردنية، يوم الاثنين 2023/3/20، عن إدانتها واستنكارها الشديدين لاستخدام وزير المالية في كيان يهود بتسلئيل سموتريتش، خلال مشاركته في فعالية عقدت الأحد في باريس، خريطة لكيان يهود تضم حدود الأردن وفلسطين المحتلة. ...

0:00 0:00
Speed:
March 27, 2023

كيان يهود يستهدف الأردن والأردن يشجب!

كيان يهود يستهدف الأردن والأردن يشجب!

الخبر:

عبّرت وزارة الخارجية الأردنية، يوم الاثنين 2023/3/20، عن إدانتها واستنكارها الشديدين لاستخدام وزير المالية في كيان يهود بتسلئيل سموتريتش، خلال مشاركته في فعالية عقدت الأحد في باريس، خريطة لكيان يهود تضم حدود الأردن وفلسطين المحتلة.

التعليق:

تأتي هذه الحادثة بعد أقل من شهرين على المُلاسنة التي حصلت في مجلس الأمن في 2023/1/6 بين مندوبي كيان يهود والأردن في الأمم المتحدة حول احتلالٍ أردنيّ للضفّة الغربية. وفي كلتا الحادثتين كان الرد من طرف الأردن شاحبا، ولد ميتا ولم يترك أثرا على أرض الواقع. أما رد كيان يهود على النحيب الأردني فقد جاء سريعا من خلال خطوات عملية تمثلت في تصعيد الحرب على أهل فلسطين، والإمعان في القتل والحبس وهدم المنازل، وتمرير قانون يقر عقوبة الإعدام لمن يتم أسرهم من الفلسطينيين خلافا لجميع الأعراف والقوانين الدولية وشريعة الأنبياء والرسل، ومن ثم نقض الاتفاقية التي بموجبها تمت إزالة 4 مستوطنات في شمال الضفة الغربية، ما يمكّن عودة آلاف من كيان يهود إلى الضفة الغربية لزيادة حجم الاستيطان. بل إن كيان يهود رد على احتجاج الأردن على وصفها أنها محتلة لجزء من فلسطين والذي يعتبره يهود جزءاً من أرضهم، ردوا باعتبار الأردن ذاته كياناً قائماً كله على أرض يهود، والذي تمكن كيان يهود من تحرير الجزء الأكبر منه عام 1948 ومن ثم عام 1967 وبقي عليهم ما تبقى منه والمسمى اليوم بالأردن.

هكذا تكون الردود العملية وإن كانت جائرة من كيان يهود، وليس كما هي ردود الكيانات التي صنعتها الجهة نفسها التي صنعت كيان يهود. والفرق واضح جلي. جهة تتصرف وتضرب العالم وقوانينه بكعب نعلها غير آبهة بشيء، وجهة تكتفي بالبكاء والعويل والارتماء إلى أسفل دركات القانون الدولي لعل أحداً يبدي عليهم شفقة. وهيهات هيهات فالحقوق لا تحفظ، والمسلوب لا يرد هكذا، ولا يسلم الشرف الرفيع من الأذى حتى يراق على جوانبه الدم.

فما الذي يمنع يهود اليوم من التمدد والتوسع في كل فلسطين ويُتبعه الأردن وجزء من السعودية وسوريا؟ أهو خشيتهم من دول وقعت معهم معاهدات مخزية ويتشدقون بأنهم لم ينقضوا شيئا منها؟ أو من دول عمدت إلى بناء جيوش فائقة التسلح ليقفوا صناديد على جبهات قتال كيان يهود ويهود يعلمون أن هذه الجيوش في الواقع قد تحولت إلى أداة قمع لشعوبها وحماية أنظمة تقف سدا منيعا للحفاظ على كيان يهود ظنا من هذه الأنظمة أن يهود ملاذهم الآمن من غضب الشعوب؟ لا شك أن كيان يهود لا يخشى من هذا ولا ذاك. ولا يحسب حسابا لأي شيء.

والحقيقة أن كيان يهود لا يقيم وزنا لأي شريعة أو قانون أو عرف أو معاهدة إلا بالقدر الذي يرى فيه يهود ضررا مؤكدا على كيانهم. وحين يرون أن الأقوى في المنظومة الدولية كأمريكا منشغل عنه وعن كثير من القضايا كما هي الحال في حرب أوكرانيا، عندها يغذون السير لتحقيق مآربهم. وقد مردوا على الخداع والكذب، فهم يعتبرون الخداع والكذب على غيرهم من الشعوب والأديان جزءاً من ثقافتهم ودينهم، كما أنهم مردوا على التحدي لأوامر الله والكذب على أنبيائهم إيمانا منهم أن الله لن يعاقبهم فهم شعبه المختار ﴿وَقَالُواْ لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُوداً أَوْ نَصَارَى﴾.

الأنظمة الحاكمة ومن يتولون شؤون بلاد العرب المجاورة ليهود أو غير المجاورة، لا شك أنهم يعلمون تمام العلم أن كيان يهود لا يمكن التعامل معه إلا بجيوش جرارة تتسلح بعقيدة قتالية منبثقة عن عقيدة التوحيد الإسلامية ومن ثم بأسلحة قادرة على اقتلاع هذا الكيان وشروره من جذوره. ولكنهم عاهدوا من هو دون الله من طواغيت الأرض أن لا يقفوا ولو على نصف قدم ضد كيان يهود فهو بالنسبة لهم صمام أمان لعروشهم وكياناتهم أو هكذا يظنون.

لن يتوانى كيان يهود عن طرد مئات الآلاف من الفلسطينيين من أراضيهم، ولن يتوانى يهود عن قلع كيان الأردن وأن يستبدلوا به سلطة كالسلطة الفلسطينية، تقوم بالتنسيق معهم لكبح جماح من يفكر بالتحرير، واستعادة المغتصب من الأراضي، واقتلاع كيانهم من جذوره. لن يتوانى يهود عن تحقيق غاياتهم المعلنة أو المخفية والتي كشف عنها مندوبهم في الأمم المتحدة وأخيرا بن غفير وسموترفتش.

هذا عدوكم أيها المسلمون كاشفا أوراقه، باسطا خططه، مبرزا قوته فماذا أنتم فاعلون؟ لا تجدون معتصماً يجيب استغاثة نسائكم، فهل فكرتم في بعث معتصم جديد منكم؟! لا تجدون بينكم ومنكم صلاح الدين يلبي نداء الأقصى فيقسم ألا يبتسم حتى يحرر الأقصى من الصليبيين. فهل فكرتم في بعث صلاح الدين من أبنائكم يرفع راية الجهاد لينسي يهود ومن شايعهم وساوس الشيطان؟ نعم أيها المسلمون الذين عكفتم اليوم على الصيام والقيام في رمضان وعقدتم العزم لزيارة البيت الحرام معتمرين ومن ثم حاجين. ألم تعلموا أن دم كل مسلم رجلا كان أو امرأة يراق في فلسطين اليوم له من الحرمة والقدسية أكثر من حرمة الكعبة وهي أطهر وأقدس بقعة خلقها الله على وجه البسيطة؟ ألم يأن للذين آمنوا منكم أن تخشع قلوبهم لذكر الله وما نزل من الحق في تعظيم حرمات دماء المسلمين ووضعها في مرتبتها التي أنزلها الله إياها؟!

ختاما أقول لقد سئمت أمتنا الشجب والاستنكار وصناعة حائط مبكى يؤمه الرؤساء والملوك والأمراء والشيوخ ومن والاهم وسار على درهم.

عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ‏قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ‏ ‏ﷺ ‏يَطُوفُ ‏بِالْكَعْبَةِ ‏وَيَقُولُ: «‏مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْراً».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست