كيان يهود يتهم النظام المصري بالتقصير والفشل في حمايته ومنع تهريب السلاح لحماس!
كيان يهود يتهم النظام المصري بالتقصير والفشل في حمايته ومنع تهريب السلاح لحماس!

الخبر: قالت قناة آر تي على موقعها الأربعاء 2024/9/4م، إن أزمة التصريحات بين القاهرة وتل أبيب، شهدت تطورا جديدا عقب تصريحات نتنياهو مساء الأربعاء، ضد القاهرة، برفضه الخروج من محور فيلادلفيا، وزعمه أن المحور أصبح مجالا لتهريب الأسلحة، وسيطرة كيان يهود عليه أمر أساسي في تحقيق أهداف الحرب، وعلى الفور ردت القاهرة على لسان ما وصف بـ"مصدر رفيع المستوى" بالقول: "رئيس الوزراء (الإسرائيلي) بنيامين نتنياهو يروج الأكاذيب للتغطية على فشله في غزة، وإن ترويجه لتهريب السلاح من مصر أكذوبة أخرى لتبرير فشل حكومته في السيطرة على تهريب السلاح من (إسرائيل) إلى القطاع، معلنا أن الحكومة (الإسرائيلية) فقدت مصداقيتها بشكل كامل داخليا وخارجيا، ولا تزال مستمرة في ترويج أكاذيبها للتغطية على فشلها".

0:00 0:00
Speed:
September 06, 2024

كيان يهود يتهم النظام المصري بالتقصير والفشل في حمايته ومنع تهريب السلاح لحماس!

كيان يهود يتهم النظام المصري بالتقصير والفشل في حمايته ومنع تهريب السلاح لحماس!

الخبر:

قالت قناة آر تي على موقعها الأربعاء 2024/9/4م، إن أزمة التصريحات بين القاهرة وتل أبيب، شهدت تطورا جديدا عقب تصريحات نتنياهو مساء الأربعاء، ضد القاهرة، برفضه الخروج من محور فيلادلفيا، وزعمه أن المحور أصبح مجالا لتهريب الأسلحة، وسيطرة كيان يهود عليه أمر أساسي في تحقيق أهداف الحرب، وعلى الفور ردت القاهرة على لسان ما وصف بـ"مصدر رفيع المستوى" بالقول: "رئيس الوزراء (الإسرائيلي) بنيامين نتنياهو يروج الأكاذيب للتغطية على فشله في غزة، وإن ترويجه لتهريب السلاح من مصر أكذوبة أخرى لتبرير فشل حكومته في السيطرة على تهريب السلاح من (إسرائيل) إلى القطاع، معلنا أن الحكومة (الإسرائيلية) فقدت مصداقيتها بشكل كامل داخليا وخارجيا، ولا تزال مستمرة في ترويج أكاذيبها للتغطية على فشلها".

التعليق:

يأبى النظام المصري على نفسه أن ينال حتى شرف تهريب السلاح لأهلنا في غزة ويتبرأ من ذلك أمام هجوم يهود وهو الذي لم يكتف بخذلانهم بل مشارك في حصارهم وتجويعهم وداعم رئيس للكيان الغاصب وحارس أمين لحدوده الجنوبية! النظام نفسه الذي لم يعد يخفي وجهه القبيح ولا يقف حتى موقف الحياد من قضية فلسطين وأهلها سخر مصر وجيشها وموانئها لحماية الكيان الغاصب ودعمه وإمداده، فازداد تبجح يهود لعلمهم أن النظام لن يستطيع إطلاق رصاصة واحدة تجاهه فضلا عن إعلان الحرب عليه ونقض اتفاقية السلام المبرمة معه، وهو النظام الذي يدعم خزائن يهود بما يزيد عن 1٫5 مليار دولار سنويا جراء استيراد الغاز الذي تنازل لهم عن حقوله بعد اتفاقية ترسيم الحدود.

تبجح يهود فاتهموا النظام الذي يحميهم أنه قصر في وظيفته الموكلة له من قبل سادته في البيت الأبيض ومكن حماس من تهريب السلاح عبر الأنفاق التي تمر أسفل محور فيلادلفيا، ولهذا فهم مضطرون للبقاء فيه لضمان منع التهريب من خلاله. ويأتي الرد المصري على الوتيرة نفسها متبرئاً من تهريب السلاح لغزة متهما نتنياهو بترويج الأكاذيب للتغطية على فشله في غزة، وكأن ما قام به في غزة وما أحرق وقتل من أهلها وما دمر فيها ليس كافيا، وكأن تهريب السلاح لأهل غزة جريمة، وهم من تجب نصرتهم ليس بالسلاح فقط بل بتحريك الجيوش وبكل أنواع الدعم!

إن كيان يهود لا يجوز أن تكون بينه وبين بلاد الإسلام عامة ومصر خاصة أي معاملات تجارية أو اقتصادية أو سياسية أو معاهدات واتفاقيات، فهم دولة محاربة فعلا محتلة لجزء من أرض الإسلام يجب تحريره واستعادته كاملا، فالأمر لا يتعلق بغزة وحدها ولا بغزة والضفة بل بكامل الأرض المباركة فلسطين التي احتلها يهود منذ عقود خلت كقاعدة عسكرية متقدمة للغرب، فكيان المغضوب عليهم وُجد كحاجة وضرورة استراتيجية غربية ضد الإسلام وأمته، ولهذا فهم يقفون خلفه مقدمين كل الدعم بأنفسهم ومن خلال عملائهم حراس الكيان الغاصب الذين يكبلون جيوش الأمة ويمنعونها من اقتلاعه، ويحولون بينه وبين الأمة التي تستطيع القضاء عليه بأياديها العارية ويمنعونها من تحريض أبنائها في الجيوش على نصرتهم.

إن الرد على يهود وتبجحهم يجب أن يكون كرد هارون الرشيد على نكفور ملك الروم وقتها، ولهذا فالأمة بحاجة أولا لمن يسير فيها سيرة هارون الرشيد فيحكمها بالإسلام ويوحد بلادها تحت سلطانه ويجيش جيوشها لحمل الإسلام للعالم بالدعوة والجهاد بعد أن يقتلع كل مستعمر تسلط على أرض الإسلام وانتهك حرمات المسلمين، والأرض المباركة على رأسها وأولها، فتحرير فلسطين يبدأ باقتلاع الأنظمة التي صنعها الغرب ووضعها فوق رؤوسنا ترعى مصالحه في بلادنا وتحمي من يغتصب أرضنا وينهب ثرواتنا بل وتقنن هذا الاغتصاب وهذا النهب وتمنعنا من المطالبة بحقوقنا، وصدق من قال إن تحرير فلسطين يبدأ بتحرير القاهرة.

نعم فتحرير القاهرة يعني اقتلاع نظام العمالة والخيانة الذي يحكم مصر ويكبل أهلها، ويعني تحرير جيشها من قبضة الغرب واستعادته ليكون سلاحا للأمة لا سلاحا موجها نحوها، فيكون درعا للأمة كما كان زمن الناصر صلاح الدين والمظفر قطز والظاهر بيبرس، وتحرير القاهرة يعني الحكم بنظام جديد مغاير يحقق ما يطمح إليه الناس وينسجم مع عقيدتهم وفطرتهم ويعالج كل مشكلاتهم، وليس غير الإسلام ما يستطيع ذلك بتطبيقه واستئناف الحياة من خلاله وبه في ظل دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، ما يعني استعادة الأمة لسلطانها وقيامها فورا بما أوجب الله عليها من تحرير للأرض المباركة ونصرة أهلها، وحينها لن يبقى في الأرض المباركة يهودي واحد.

يا أجناد الكنانة: إنكم مسؤولون أمام ربكم جل وعلا عن كل ما أزهق من أرواح أو أريق من دماء وما يصيبهم على يد يهود بينما تقفون موقف المتفرج! وحسبكم الطفل الذي صرخها قبل أن يصعد إلى ربه "سأخبر الله عن كل شيء"، نعم سيخبره عنكم وسيقول يا رب خذلونا ومكنوا منا عدوك وعدونا، سيقول يا رب لم يحركوا ساكنا لنصرتنا ونحن على مرمى حجر منهم نستغيث ولا مغيث، وسيتعلق في رقابكم أهل الأرض المباركة جميعا أن تركتموهم وحدهم وقد أوجب الله عليكم نصرتهم وتحرير أرضهم وضمان أمنهم، فجهزوا جوابكم فالأمر جد لا هزل، وإنها جنة أو نار، نعيم أو جحيم، فاختاروا لأنفسكم أو سارعوا إلى اقتلاع الكيان الغاصب وقبله كل ما يحول بينه بدءا من نظام العمالة الذي يحكمكم فاقتلاعه واجبكم ونصرة المخلصين العاملين لتطبيق الإسلام واجبكم، فقوموا بما أوجب الله عليكم عسى الله أن يكتب الفتح بكم والنصر على أيديكم فتكونوا من المفلحين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست