كيف يجوع بلد تجري فيه الأنهار إلا من كيد الدول المتصارعة على ثرواته المتخمة؟!
كيف يجوع بلد تجري فيه الأنهار إلا من كيد الدول المتصارعة على ثرواته المتخمة؟!

الخبر: قالت الأستاذة سهيلة يوسف، مديرة إدارة التغذية بمحلية المفازة، في تعميم صحفي إن إدارتها قامت بعدد من التدخلات بمراكز الإيواء، لإنقاذ الأطفال والأسر، من خطر الإصابة بأمراض سوء التغذية، واصفة الأوضاع بالمعسكر بأنها بالغة التعقيد، مضيفة أن المسوحات التي تم تنفيذها، أثبتت وجود حالات سوء تغذية بمضاعفات، ...

0:00 0:00
Speed:
June 04, 2024

كيف يجوع بلد تجري فيه الأنهار إلا من كيد الدول المتصارعة على ثرواته المتخمة؟!

كيف يجوع بلد تجري فيه الأنهار إلا من كيد الدول المتصارعة على ثرواته المتخمة؟!

الخبر:

قالت الأستاذة سهيلة يوسف، مديرة إدارة التغذية بمحلية المفازة، في تعميم صحفي إن إدارتها قامت بعدد من التدخلات بمراكز الإيواء، لإنقاذ الأطفال والأسر، من خطر الإصابة بأمراض سوء التغذية، واصفة الأوضاع بالمعسكر بأنها بالغة التعقيد، مضيفة أن المسوحات التي تم تنفيذها، أثبتت وجود حالات سوء تغذية بمضاعفات، تم تحويلها لعيادة معسكر الطنيدبة المجاورة بالإضافة إلى 7 حالات سوء التغذية الحاد، و22 حالة أخرى بسوء التغذية المتوسط، ولفتت إلى وجود 5 أطفال معرضين لخطر الإصابة بأمراض سوء التغذية، حيث وجهت نداءات لتدارك زيادة الحالات في ظل الأوضاع الصعبة، المحدقة بالمعسكر.

تجدر الإشارة إلى أن المعسكر لا توجد به عيادة، لتقديم خدمة الرعاية الطبية، ويتم تحويل الحالات المرضية للمراكز والمستشفيات المجاورة للمعسكر. (وكالة السودان للأنباء، 2024/05/31م)

التعليق:

هذه الأرقام بمثابة استغاثة لخطر محدق بالأطفال وأسرهم في محلية، من أكبر محليات إنتاج الحبوب الغذائية في السودان، وطلبا للمساعدة، فبسبب التدهور الاقتصادي الناتج عن نقص التمويل، والحرب الدائرة رحاها في السودان، حذرت منظمة الأغذية والزراعة العالمية "الفاو" في 20 آذار/مارس 2024م، أن إنتاج الحبوب انخفض بنسبة 46%، وقال تاجر المحاصيل ببورصة أسواق القضارف فيصل عبودة، لسودان تربيون في 16 نيسان/أبريل 2024م، إن "إنتاج هذا الموسم تراجع نتيجة لقلة الأمطار ونقص التمويل الزراعي"، وحذر عبودة من تراجع المساحات الزراعية خلال الموسم المقبل، في ظل إعسار المزارعين والمنتجين، بعد عجز الدولة عن تسويق المحاصيل، والجبايات العالية التي تفرضها حكومة الولاية على الحبوب، وأشار إلى أن توقف عمليات التصدير، وتأثير النزاع القائم على التسويق، رفع من نسبة التجار المعسرين، وهذا ينذر بتراجع المساحات الزراعية. وإن كل طفل يعاني من سوء التغذية، يعني أيضا وجود أسرة تكافح من أجل البقاء على قيد الحياة.

هذه الأزمة في السودان، هي عبارة عن مزيج فتّاك من النزاع، والانهيار الاقتصادي، والحاجة، والعوز الذي يعانيه الناس، وعجز الدولة عن مد يد العون، وتوفير المساعدات اللازمة لإنقاذ حياة الأطفال والأسر المتضررة.

لقد أسفرت سنوات من النزاع المسلح، والتدهور الاقتصادي، والانخفاض الحاد في تمويل المشاريع الزراعية، عن دفع المجتمعات المحلية المنهكة إلى حافة الهاوية، مع تنامي معدلات انعدام الأمن الغذائي. وقد اضطر ذلك العديد من الأسر إلى تقليل كميات، أو جودة الطعام الذي يتناولونه، بينما تلجأ بعض الأسر أحيانا إلى القيام بالأمرين معا، لدرجة تقليص الوجبات إلى وجبتين، لا يتم فيهما سد الرمق.

سيموت المزيد من الأطفال مع كل يوم ينقضي، دون القيام بالعمل اللازم، ليتم الحصول على موارد لازمة لإسعاف، وعلاج، وإنقاذ ما يمكن إنقاذه بشكل عاجل، كي يتمكن من إنقاذ حياة العالقين بين الحياة والموت من أهل السودان، بسبب سوء التغذية. ولا يمكن لكائن من كان أن يقدم مساعدة فعلية مؤثرة، بصورة مجدية غير الدولة، لكنها منشغلة بالصراعات المسلحة، تاركة الناس يتساقطون بسوء التغذية، فلله درهم من لهم إلا الله سبحانه.

وما لم يتم عاجلا ليس آجلا، تحقيق الأمن والاستقرار في جميع أنحاء البلاد، وما لم تتحسن سبل الوصول إلى هؤلاء المرضى بسوء التغذية، كي يتم تزويدهم بالوسائل اللازمة، من المأكل والمشرب ما يكفي حاجتهم الأساسية، فسيستمر أطفال السودان وعائلاتهم في الغرق، في مستويات أعمق من الجوع وسوء التغذية، ليس في مناطق القضارف وحدها، بل في ولايات غرب السودان، والوسط الذي فشل فيه العام الزراعي للمرة الثانية على التوالي، ما يعني تركز الجوع بسبب عدم كفاية كمية الطعام المنتج، وعدم التنوع اللازم، ودخول هذه الولايات ضمن القائمة المرشحة للإصابة بالمجاعة.

كيف يصاب أهل السودان الذي تتدفق فيه الأنهار، والخيرات، وتتدفق الأمطار عليه سنويا بكميات ضخمة (400 ألف متر مكعب سنويا)، ويحوي أجود أنواع التربة البكر، ويتوفر فيه مجتمع فتوة، ذو طاقة جبارة، غير الموارد الأخرى؛ من بترول، ومعادن متنوعة، بالله عليكم كيف يتضور أهل السودان جوعاً وهم ينامون فوق ثروات ظاهرة وباطنة؟

إن السبب هو الخضوع للدول الغربية الرأسمالية، التي تتصارع على خيرات هذا البلد، وهي المتخمة على حساب جوع الناس؟ فإلى متى نظل في هذا الوضع المذل المهين؟ إن الانعتاق من هذا الوضع المأزوم، يتطلب السعي لإقامة دولة الإسلام، التي لا تخضع لسياسات دولة أخرى تسبب الموت، والجوع للناس، ولا تبالي إلا بمصالحها الأنانية، بل دولة الإسلام هي التي تنقذ الناس من الجوع، كما فعل السلطان العثماني عبد المجيد الأول (توفي عام 1861)، عندما مد لإيرلندا يد العون، في وقت أدارت فيه كثير من دول الغرب ظهورها لها، بما في ذلك بريطانيا، التي حملها كثير من الإيرلنديين المسؤولية عن عدم إنقاذ مئات الآلاف من الأرواح.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار (أم أواب) – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست