كيسنجر يحلم بتدمير المسلمين وتحويلهم إلى رماد خسئتَ أيها العجوز الخرف
كيسنجر يحلم بتدمير المسلمين وتحويلهم إلى رماد خسئتَ أيها العجوز الخرف

الخبر:   أدلى وزير الخارجية الأمريكي الأسبق هنري كيسنجر، بتصريحات مدوية وخطيرة، وذلك بعدما ابتلعه صمت طويل حتى كاد الناس ينسون وجوده. وقال كيسنجر في حوار أجرته معه جريدة "ديلي سكيب" الأمريكية، "إن الحرب العالمية الثالثة باتت على الأبواب وإيران ستكون هي ضربة البداية في تلك الحرب، التي سيكون على (إسرائيل) خلالها أن تقتل أكبر عدد ممكن من العرب وتحتل نصف الشرق الأوسط" وذلك بحسب ما أوردته يومية المساء في عددها لنهاية الأسبوع الماضي.

0:00 0:00
Speed:
October 14, 2017

كيسنجر يحلم بتدمير المسلمين وتحويلهم إلى رماد خسئتَ أيها العجوز الخرف

كيسنجر يحلم بتدمير المسلمين وتحويلهم إلى رماد

خسئتَ أيها العجوز الخرف

الخبر:

أدلى وزير الخارجية الأمريكي الأسبق هنري كيسنجر، بتصريحات مدوية وخطيرة، وذلك بعدما ابتلعه صمت طويل حتى كاد الناس ينسون وجوده.

وقال كيسنجر في حوار أجرته معه جريدة "ديلي سكيب" الأمريكية، "إن الحرب العالمية الثالثة باتت على الأبواب وإيران ستكون هي ضربة البداية في تلك الحرب، التي سيكون على (إسرائيل) خلالها أن تقتل أكبر عدد ممكن من العرب وتحتل نصف الشرق الأوسط" وذلك بحسب ما أوردته يومية المساء في عددها لنهاية الأسبوع الماضي.

وأضاف المتحدث ذاته في تصريحاته القوية قائلا: "لقد أبلغنا الجيش الأمريكي أننا مضطرون لاحتلال سبع دول في الشرق الأوسط نظرًا لأهميتها الاستراتيجية لنا، خصوصا أنها تحتوي على البترول وموارد اقتصادية أخرى ولم يبق إلا خطوة واحدة، وهي ضرب إيران".

وزاد قائلا: "عندما تتحرك الصين وروسيا من غفوتهما سيكون (الانفجار الكبير) والحرب الكبرى قد قامت، ولن تنتصر فيها سوى قوة واحدة هي (إسرائيل) وأمريكا.. وسيكون على (إسرائيل) خلالها القتال بكل ما أوتيت من قوة وسلاح، لقتل أكبر عدد ممكن من العرب واحتلال نصف الشرق الأوسط".

وأضاف كيسينجر منذرا بأن "طبول الحرب تدق بالفعل في الشرق الأوسط، والأصم فقط هو من لا يسمعها"، مبرزا أنه إذا سارت الأمور كما ينبغي - من وجهة نظره - فسوف يسيطر كيان يهود على نصف منطقة الشرق الأوسط.

وأشار كيسنجر إلى أن الشباب الأمريكي والأوروبي قد تلقوا تدريبات جيدة خلال القتال في السنوات العشر الماضية، وعندما ستصدر لهم الأوامر بالخروج إلى الشوارع لمحاربة تلك (الذقون المجنونة) - حسب تعبيره - فسوف يطيعون الأوامر ويحولونهم [يقصد المسلمين] إلى رماد. كما صرح كيسينجر أيضا بأن "أمريكا و(إسرائيل) قد جهزتا نعشاً لروسيا وإيران، وستكون إيران هي المسمار الأخير في هذا النعش، بعدما منحتهم أمريكا فرصة للتعافي والإحساس الزائف بالقوة. بعدها ستسقطان للأبد، لتتمكن أمريكا (الماسونية) من بناء مجتمع عالمي جديد، لن يكون فيه مكان سوى لحكومة واحدة تتمتع بالقوة الخارقة".

التعليق:

ثعلب السياسة الأمريكية في القرن الماضي تحول إلى عجوز خرف يحلم بتدمير المسلمين وتحويلهم إلى رماد ويحلم بـ(إسرائيل الكبرى) التي تسيطر على نصف الشرق الأوسط بعد تحطيمها لإيران، ويحلم بتحطيم الصين وروسيا وبروز أمريكا كقوة وحيدة تتمتع بالقوة الخارقة.

قد تملك أمريكا القدرة على المواجهة النووية وإقامة حرب عالمية نووية ثالثة، ولكنه نسي أن أبناء الشعب الأمريكي لا يصلحون للخدمة العسكرية وأن جيش يهود جبناء لا يملكون العقيدة القتالية، وأنهم لم يخوضوا معركة حقيقية مع المسلمين.

عندما تربعت أمريكا على عرش الكرة الأرضية أعلنت حربها على 58 دولة في العالم الإسلامي، فاحتلت أفغانستان، ورغم القوة التدميرية الجوية إلا أنها لم تستطع الدخول في حرب برية ضد طالبان ولم تقوَ على مقاومتها وسرعان ما خرجت منها وهي التي قالت إنها ستبقى فيها إلى الأبد، فأمريكا لا تخرج من بلد احتلته.

ثم ثنّت باحتلال العراق ولكنها واجهت مقاومة شرسة منذ اليوم الأول مما جعلها تخرج من العراق بطريق تحفظ به كرامتها!

وها هي في سوريا لم تستطع على مدى قرابة سبع سنوات فرض حلها السياسي، رغم استعانتها بروسيا وإيران وتركيا وغيرهم من العبيد الذين رضعوا الذل والهوان والضعف.

كم مرة استولى المسلمون على دبابات ليهود ليجدوا فيها الجنود مربوطين بالسلاسل حتى لا يهربوا منها؟!

وكم مرة وجد المسلمون يهود وقد تغوّطوا داخل دباباتهم لم يستطيعوا مغادرتها لقضاء الحاجة من شدة الجبن والرعب الذي يتملكهم؟!

الأمة الإسلامية أمة قوية عزيزة الجانب، لديها عقيدة قتالية، تستطيع مواجهة أعظم الدول قوة، ولولا خيانة الحكام وزمرتهم لما استطاعت أمريكا إدخال جندي واحد إلى بلاد المسلمين ولكنها الخيانة التي ابتلينا بها.

وقد وعدنا الله بأنه لا يملك عدو من الخارج القدرة على تدميرنا، لكن يمكن الانتصار علينا من خلال عدو من داخلنا يأتمر بأمر أعداء الخارج فيوقع العداوة والبغضاء بيننا.

عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ r: «إِنَّ اللَّهَزَوَىلِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَازُوِيَلِي مِنْهَا، وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ، فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ، وَإِنَّ رَبِّي قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ، وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ، يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ، وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا - أَوْ قَالَ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا - حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا،وَيَسْبِيبَعْضُهُمْ بَعْضًا». صحيح أخرجه مسلم.

فلنحذر من الخونة والجواسيس الذين يعملون لصالح أمريكا ويهود وأوروبا وغيرها من قوى الظلم والطغيان والإرهاب، ولنضرب على أيديهم بيد من حديد فهم سبب بلاء الأمة وهزيمتها، لذا وجب على الجيوش أن تدرك أن قوتها في التصدي لأحلام كيسنجر وغطرسته بإزالة الخونة والعملاء ممثلين في الحكام وزمرتهم، ومبايعة خليفة على العمل بكتاب الله تعالى وسنة رسوله r. عندها فقط يمكن الرد على الغطرسة الأمريكية وردهم إلى جحورهم خزايا مدحورين، والقضاء على كيان يهود المسخ.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست