لا احتفال بخيانة الانتصارات!
لا احتفال بخيانة الانتصارات!

الخبر:   أصدر الرئيس أردوغان رسالة تهنئة بمناسبة يوم النّصر في 30 آب/أغسطس، قال فيها: "على حدّ تعبير غازي مصطفى كمال، فإن نصر 30 آب/أغسطس هو "عمل عظيم حدّد مرةً أخرى في التاريخ القوة العليا والبطولة للجيش التركي والضباط الأتراك وهيئة الأركان". وبهذا النّصر، الذي هو النّصب الخالد لفكرة الحرية والاستقلال للأمة التركية، أعلنت أمتنا للعالم أجمع أنها لن تسمح بإخضاع إرادتها، وبهذه المناسبة، أتذكر مرةً أخرى غازي مصطفى كمال، مؤسّس جمهوريتنا، القائد الأعلى، قائد الهجوم الكبير ورفاقه في السلاح بالشّكر، وأدعو الله أن يرحم جميع شهدائنا وقدامى المحاربين". (وكالات، 2023/08/2023م)

0:00 0:00
Speed:
September 16, 2023

لا احتفال بخيانة الانتصارات!

لا احتفال بخيانة الانتصارات!

(مترجم)

الخبر:

أصدر الرئيس أردوغان رسالة تهنئة بمناسبة يوم النّصر في 30 آب/أغسطس، قال فيها: "على حدّ تعبير غازي مصطفى كمال، فإن نصر 30 آب/أغسطس هو "عمل عظيم حدّد مرةً أخرى في التاريخ القوة العليا والبطولة للجيش التركي والضباط الأتراك وهيئة الأركان". وبهذا النّصر، الذي هو النّصب الخالد لفكرة الحرية والاستقلال للأمة التركية، أعلنت أمتنا للعالم أجمع أنها لن تسمح بإخضاع إرادتها، وبهذه المناسبة، أتذكر مرةً أخرى غازي مصطفى كمال، مؤسّس جمهوريتنا، القائد الأعلى، قائد الهجوم الكبير ورفاقه في السلاح بالشّكر، وأدعو الله أن يرحم جميع شهدائنا وقدامى المحاربين". (وكالات، 2023/08/30م)

التعليق:

الجمهورية التركية، التي تأسست على أنقاض دولة الخلافة العثمانية، هي دولة العطلات الرسمية. إن النظام الجمهوري العلماني، الذي قام رغم أنهم مسلمون يؤمنون بالله، ولم يحقق أي نجاح يذكر ضد الدول الكافرة المعادية لتركيا منذ تأسيسه، يحتفل بالنصر من خلال الاستيلاء على قصص بطولات المسلمين في التاريخ بالكذب والتحريف. ويعد يوم النّصر 30 آب/أغسطس، الذي جُرّد من معناه وروحه، أحد هذه الأعياد ويتم الاحتفال به رسمياً منذ عام 1935.

مما لا شك فيه أنه لا يمكن الكشف عن الوجه الحقيقي للتاريخ في مقال قصير، ولكن من المعلوم أن كل الحروب التي خاضتها الخلافة، حتى إعلان الجمهورية، كانت من أجل الإسلام. فقد تحرّرت أراضي الأناضول التي احتلتها دول الحلفاء بقيادة بريطانيا نتيجة مقاومة الأمة الإسلامية المكونة من العديد من الشعوب من الشرق والغرب. وفي هذه الحرب، التي يطلق عليها "حرب الاستقلال" التي استمرت حوالي أربع سنوات، تصرّف المسلمون بروح الإسلام وقاتلوا الكفار بفهم الجهاد. وشواهد القبور في النصب التذكاري لشهداء تشاناكالي مع أسمائهم ومسقط رأسهم لا تزال شواهد حية.

إنّ الحلقة الأخيرة من هذا الصراع، المعركة المعروفة باسم معركة القائد الأعلى الميدانية، دارت ضد اليونانيين تحت سيطرة البريطانيين، بدأ الهجوم في 26 آب/أغسطس 1922 ضد اليونانيين الذين احتلوا إزمير وضواحيها. وفي 30 آب/أغسطس، تراجع اليونانيون عن طريق تدمير الأماكن التي مرّوا بها. بعد ذلك، غادروا أراضي الأناضول بالكامل. في هذه الحرب، بالإضافة إلى النضال الصادق للجنود، كانت هناك لعبة متعمدة لبريطانيا. فمن ناحية، أرادت حرمان فرنسا وإيطاليا واليونان التي دخلت معهم الحرب، وأن تكون لها الكلمة المنفردة على البقية العثمانية، ومن ناحية أخرى، أرادت الاستيلاء على مصطفى كمال، الذي شارك في هذه الحرب كقائد أعلى، من جانبها بإشراقه. ولذلك فإن انسحاب اليونانيين كان بطلب من بريطانيا نفسها.

ومع ذلك، حتى لو كان هناك خداع، فهناك انتصار. وإذا كان يجب إحياء ذكراه، فيجب أن يكون ذلك وفقاً لروحه. لكن هذا النصر، مثل انتصار غاليبولي وغيره، قد انحرف عن روحه وهدفه. بادئ ذي بدء، يُعزى كل النجاح فيه تقريباً إلى مصطفى كمال والكادر المؤسس للجمهورية، وهو ما كان مقصوداً في ذلك اليوم. ثانياً، إن المسلمين الذين قاتلوا وضحّوا بحياتهم في هذه الحروب لم يكونوا أتراكاً فقط. ثالثا، المسلمون الذين ضحّوا بحياتهم في الجبهات والأشخاص الذين قدموا كل أنواع الدعم خلف الجبهات، ناضلوا بروح الإسلام ومن أجل القيم الإسلامية. لكن في كتب التاريخ وفي ذكرى هذا النصر يبرز الثناء على الكادر المؤسس للجمهورية والقومية التركية. بل يتمّ التأكيد على أنّ المعركة لم تخض إلاّ بالروح التركية ومن أجل الجمهورية والعلمانية.

وتستخدم رسالة أردوغان هذا العام اللغة المضللة نفسها، حيث يمتدح ضباط وأفراد قيادة الجيش التركي، لكنه لم يذكر الإسلام والخلافة التي حارب المسلمون واستشهدوا من أجلها. إن ما يفعله أردوغان هو خداع صريح للمسلمين الذين دعموه من أجل التحرر من الأفكار والإملاءات الكمالية. وكما قال رسول الله ﷺ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» وقال ﷺ أيضا: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ».

وأخيراً، واستناداً إلى عبارات "الجيش المجيد" و"الجيش القوي" التي يتمّ تسليط الضوء عليها في كل احتفالات يوم 30 آب/أغسطس، فمن الضروري أن نطرح الأسئلة التالية: إذا كنا نتحدث حقاً عن جيش مجيد وقوي، وهو كذلك، فلماذا لا ينصر هذا الجيش المسلمين؟! وماذا يفعل هذا الجيش والمسلمون يذبحون في فلسطين وسوريا وكشمير وتركستان الشرقية وأراكان وغيرها؟! وكيف يمكن أن يحتفظ بمكانته كـ"بيت نبي"؟! وكيف يمكن لهذا الجيش الذي يوصف جنوده بـ"مهمتشيك" (الجندي التركي) أن يكون جزءا من الناتو الصليبي الكافر؟!

إن الإجابة على هذه الأسئلة يجب البحث عنها في بنية النظام الجمهوري الكاذب الذي قام على دماء المسلمين وخيانة الحكام الذين يحرسونه. لأنه مهما كنت قويا، طالما أن الكفار ممسكون بحبلك، فلن يكون المجد إلاّ مصدر فخر باق في صفحات التاريخ الجميلة، وستكون قوتك ضدّ المسلمين، وليس لهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست