لا النظام البرلماني البريطاني ولا النظام الرئاسي الأمريكي!  الحلّ الوحيد هو نظام الخلافة الراشدة
لا النظام البرلماني البريطاني ولا النظام الرئاسي الأمريكي!  الحلّ الوحيد هو نظام الخلافة الراشدة

الخبر: أعلن حزب الشعب الجمهوري، والحزب الديمقراطي، وحزب المستقبل، وحزب الديمقراطية والتقدم، والحزب الجيد، وحزب السعادة، عن اقتراح التعديل الدستوري المطلوب للانتقال إلى النظام البرلماني المعزز ببرنامج حضره 6 من قيادات الأحزاب السياسية. (وكالات الأنباء)

0:00 0:00
Speed:
December 26, 2022

لا النظام البرلماني البريطاني ولا النظام الرئاسي الأمريكي! الحلّ الوحيد هو نظام الخلافة الراشدة

لا النظام البرلماني البريطاني ولا النظام الرئاسي الأمريكي!

الحلّ الوحيد هو نظام الخلافة الراشدة

(مترجم)

الخبر:

أعلن حزب الشعب الجمهوري، والحزب الديمقراطي، وحزب المستقبل، وحزب الديمقراطية والتقدم، والحزب الجيد، وحزب السعادة، عن اقتراح التعديل الدستوري المطلوب للانتقال إلى النظام البرلماني المعزز ببرنامج حضره 6 من قيادات الأحزاب السياسية. (وكالات الأنباء)

التعليق:

 يتكون مشروع الدستور الذي أعدّه قادة المعارضة، من جدول لستة أفراد، من 84 مادة و9 عناوين. وقد تمّ الإعلان عن التعديل الدستوري المقترح للجمهور تحت شعار "حان وقت الديمقراطية".

في مقترح جدول الستة لتعديل الدستور من أجل الانتقال إلى نظام برلماني معزّز، هناك بعض اللوائح المهمة التي تبرز على النحو التالي:

-       ينتخب الشعب الرئيس كما في النظام الحالي وبحصوله على الأغلبية المطلقة من الأصوات الصحيحة أي بأصوات لا تقل عن 51 بالمائة.

-       العتبة الانتخابية 7 في المئة ستنخفض إلى 3 في المئة.

-       إن حقيقة أن المدعي العام لمحكمة النقض يمكنه رفع دعوى إغلاق ضدّ الأحزاب السياسية، سيكون مرتبطاً بإذن من الجمعية الوطنية الكبرى لتركيا.

-       بدلاً من مجلس الوزراء الرئاسي، يتم تشكيل مجلس للوزراء على غرار النظام القديم.

-       ستلغى سلطة وزارة الداخلية في تعليق عضوية رؤساء البلديات وأعضاء المجالس، وسيتم استبدال قرارات مجلس الدولة بها.

-       إعادة تنظيم نظام حالة الطوارئ. وبناءً عليه، تعود سلطة إعلان حالة الطوارئ إلى مجلس الوزراء الذي يرأسه الرئيس، ولا يمكن إصدار مرسوم حالة الطوارئ.

-       سيتم إغلاق مجلس القضاة والمدعين العامين وإنشاء مجلس للقضاة ومجلس للنيابة العامة.

-       ستتمّ زيادة عدد أعضاء المحكمة الدستورية من 15 إلى 22. ولن يتم تحديد 20 عضواً من طرف الجمعية الوطنية الكبرى لتركيا، ولن يتمّ تحديد أقسامهم من الرئيس. وسيتمّ زيادة عدد أقسام المحكمة من قسمين إلى أربعة أقسام.

أولاً، يتضمن هذا الاقتراح الدستوري الذي أعدته أحزاب المعارضة العودة إلى النظام البرلماني البريطاني، الذي يقوم على مصالح بريطانيا وليس الشعب، بدلاً من النظام الرئاسي الأمريكي. المعارضة تتلاعب بالكلمات وتقول إنها تريد الانتقال من نظام برلماني إلى نظام برلماني قوي.

قامت تركيا بالانتقال إلى نظام الحكم الرئاسي على النمط الأمريكي من خلال الاستفتاء الذي أجري في عام 2017. وحقق حزب العدالة والتنمية العديد من المكاسب السياسية مع هذا النظام الجديد. وبهذه الطريقة، اكتسب حزب الأكراد تفوقاً في العديد من المؤسسات، وخاصة الجيش والقضاء، حيث ترسخ البريطانيون لما يقرب من ثمانين عاماً. الانتخابات الرئاسية المقبلة لعام 2023 حاسمة بالنسبة للبريطانيين. جدول الستة الذي يمثل البريطانيين، يولي أهمية كبيرة لهذه الانتخابات. إذا فاز حزب العدالة والتنمية، الموالي لأمريكا، في انتخابات عام 2023، فإن البريطانيين يعرفون جيداً أن هذه الخسارة ستكون كارثة بالنسبة لهم. لهذا السبب، يقترح الجدول المكون من ستة أشخاص هذا الدستور، الذي أعده من خلال إظهار الدستور الحالي للمجتمع كدستور لشخص واحد أو دستور يسمح به، باعتباره انتقالاً إلى ما يسمى بالتعددية والديمقراطية والإنسانية؛ نظام برلماني قوي وموجه نحو الحقوق. لذلك، بينما يريد حزب العدالة والتنمية مواصلة النظام الحالي بفوز كبير في انتخابات عام 2023، فإن أحزاب المعارضة المكونة من طاولة لستة أعضاء تريد الفوز في الانتخابات والتحوّل إلى نظام برلماني معزز.

في الوقت نفسه، عندما ننظر إلى الاقتراح الدستوري الذي أعدته طاولة الستة، نرى أنه يتم إرسال رسائل دافئة إلى الناخبين الأكراد. يحتاج حزب العدالة والتنمية والجدول لستة أصوات الناخبين الأكراد للفوز في انتخابات 2023. خاصة في الاقتراح الدستوري الذي أعده جدول الستة، نرى أنه يتمّ إرسال رسائل دافئة إلى كل من الناخبين من حزب الشعوب الديمقراطي والأكراد. على سبيل المثال؛ هناك بعض الموضوعات التي تجعل إغلاق الأحزاب أمراً صعباً، وتمنع تعيين الأمناء في البلديات، وتجعل الحصانة التشريعية صعبة. بالإضافة إلى ذلك، تمّ تضمين إلغاء المراسيم التشريعية التي صدرت خلال حالة الطوارئ فيما يتعلق بناخبي منظمة غولن الإرهابية الأجانب وإعطاء صلاحيات كبيرة للرئيس، في مسودة الدستور الجديد.

وترى أحزاب المعارضة التي تشكل طاولة الستة مصدر كل المشاكل المجتمعية في الحكومة الرئاسية أو النظام الرئاسي. يحاولون تشكيل رأي عام في المجتمع في هذا الاتجاه والتلاعب بالمجتمع. ويعلنون للجمهور أن الدستور الجديد الذي يقترحونه والنظام البرلماني المعزّز الذي سيطبق هذا الدستور سيكونان الحلّ لجميع الأزمات.

منذ عام 1923م وحتى اليوم، تمّ إجراء ما مجموعه ثلاثة تعديلات دستورية وتم تعديل عشرات المواد. على الرّغم من عشرات الترتيبات المتّخذة، لم يكن هناك تغيير إيجابي في مسار المجتمع. في فترة تطبيقه، لم يحقق النظام البرلماني أدنى نجاح في حل مشاكل الشعب. وبالطريقة نفسها، فإن النظام الرئاسي المطبق حالياً غير كافٍ، بل إنه فشل في هذا الصدد.

في الواقع، كلا النظامين لا يختلفان كثيراً بعضهما عن بعض. بل هما في الأساس الشيء نفسه. كلا النظامين يخدم مصالح الكفار المستعمرين، وكلاهما يقوم على أساس النظام الرأسمالي الديمقراطي العلماني، الذي تفصل ركائزه الأساسية الدين عن الحياة وهو نظام غير إسلامي. كلا النظامين لا يعطي الإسلام رأياً في المجال العام، بل هو نظام اقتلع الإسلام من جميع مناحي الحياة وهو معادٍ للإسلام.

لذلك، فإن هذا الاقتراح الدستوري الذي أعده جدول الستة لن يتمكن أبداً من إنهاء الأزمات المجتمعية والاستقطابات المجتمعية الحالية تماما مثل الدساتير السابقة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست