لا أمل في قمة الأمل العربية
لا أمل في قمة الأمل العربية

الخبر:   عقدت الجامعة العربية قمتها السابعة والعشرين في العاصمة الموريتانية نواكشوط يوم 2016/7/25 لتكريس الجهود لحل القضية الفلسطينية تحت مسمى قمة الأمل. وقد عبر وزراء خارجية دولها خلال اجتماعاتهم التحضيرية قبل يوم عن دعمهم للمبادرة الفرنسية الداعية إلى عقد مؤتمر دولي للسلام مع نهاية العام الحالي وإعادة إطلاق مفاوضات سلام بين يهود وعملاء من فلسطين.

0:00 0:00
Speed:
July 27, 2016

لا أمل في قمة الأمل العربية

لا أمل في قمة الأمل العربية

الخبر:

عقدت الجامعة العربية قمتها السابعة والعشرين في العاصمة الموريتانية نواكشوط يوم 2016/7/25 لتكريس الجهود لحل القضية الفلسطينية تحت مسمى قمة الأمل. وقد عبر وزراء خارجية دولها خلال اجتماعاتهم التحضيرية قبل يوم عن دعمهم للمبادرة الفرنسية الداعية إلى عقد مؤتمر دولي للسلام مع نهاية العام الحالي وإعادة إطلاق مفاوضات سلام بين يهود وعملاء من فلسطين.

التعليق:

لقد عقدت هذه القمة وسط غياب أكثر من نصف قادتها لتطلق أول إشارة على فشلها، وكان من المقرر أن تعقد ليومين فاختصرت اجتماعاتها إلى يوم واحد لتطلق ثاني إشارة على فشلها، فتظهر بذلك عدم جديتها وعدم الاهتمام بها عندما لا يحضرها أكثر القائمين عليها وتقوم ببحث مبادرة دولة استعمارية مثل فرنسا داعمة لكيان يهود. وهي الدولة التي لم تتمكن في يوم من الأيام أن تفرض مبادرة على الأطراف ولم تستطع أن تلعب أي دور رئيس في هذه القضية منذ نشأتها، فصاحبة المبادرات هي أمريكا بالدرجة الأولى وبريطانيا بالدرجة الثانية، وفرنسا تؤيد هذه المبادرة أو تلك حتى يكون لها وجود يذكر. ولهذا فإن مبادرتها محكوم عليها بالفشل إن لم تتبناها إحدى تلك الدولتين أو كلتيهما وتقوم وتضع كل ثقلها لإنجاحها، وهذا غير ظاهر حيث إن أكثر العملاء التابعين لتلك الدولتين لم يحضروا قمتهم، مما يثبت أن القمة فاشلة وأن الأمل الذي يرجوه أصحاب القمة لن ينالوه.

وقد أتت هذه القمة في خضم الانتخابات الرئاسية الأمريكية حيث إن يد أمريكا مشلولة ولا تتمكن من القيام بشيء، وهي توعز للأطراف الأخرى أو للعملاء أن يقوموا بشيء ما يشغلون أنفسهم والمنطقة لتظهر أن هناك أعمالاً تجري من أجل حل القضية الفلسطينية حتى تبقي على عملية السلام جارية فلا تتوقف نهائيا وتموت، وفي ذلك ضرر كبير على أمريكا التي تريد أن تفرضها على المنطقة لتثبت أنها صاحبة النفوذ ولتمارس سلطتها وهيمنتها على الأطراف حتى تحقق مصالحها. ولهذا قال أمين عام الجامعة العربية الجديد أحمد أبو الغيط أثناء إلقائه البيان الختامي للقمة: "إن الدول العربية ترحب بالمبادرة المصرية لحل القضية الفلسطينية كما ترحب بالجهود الفرنسية الرامية لعقد مؤتمر دولي للسلام".

وإذا كانت المبادرة الأمريكية بحل الدولتين فاشلة ولم تتمكن أمريكا من تطبيقها وهي الدولة الأولى وصاحبة الإمكانيات الضخمة رغم أنها وضعت كل ثقلها لتنفيذها منذ أن تبنتها في نهاية الخمسينات من القرن الماضي على عهد أيزنهاور، وجاءت إدارة أوباما وحاولت بكل جدية مرتين لبدء مسار المفاوضات ومن ثم تطبيقها وباءت بالفشل، وقد جعلت الدول العربية تتبناها عام 2002 في قمتها ببيروت تحت مسمى المبادرة العربية وقد أظهرتها كأنها من نتاج آل سعود في محاولة لخداع الناس الذين لم يعد ينطلي عليهم شيء. وقد تطرقت القمة إلى مواضيع اليمن وليبيا وسوريا ومحاربة الإرهاب وتأكيد الحلول الأمريكية والغربية لهذه القضايا لتؤكد عمالة هذه الأنظمة واستمرارها في تنفيذ المشاريع الاستعمارية.

والناظر في تاريخ القمم العربية منذ قمتها الأولى على عهد الملك فاروق عام 1946 في ظل الهيمنة البريطانية على مصر بعدما أنشأت بريطانيا الجامعة العربية عام 1945، يجد أن كل هذه القمم لم تصب في صالح العرب، بل في صالح بريطانيا لفترة من الزمن، ومن ثم في صالح أمريكا التي هيمنت عليها فيما بعد بواسطة عملائها. وإذا ظهر شيء أنها لصالح العرب فلم ينفذ، بل نفذ العكس، كالقمة التي عقدت في الخرطوم بالسودان على عهد عبد الناصر عقب هزيمته في حرب حزيران عام 1967 والتي أطلقت شعارا مشهورا "لا اعتراف ولا مفاوضات ولا صلح مع إسرائيل"، ومن ثم تأتي كل القمم بعدها لتصب في خانة الخيانة بالاعتراف والمفاوضات والصلح مع كيان يهود، وإن لم تعترف حتى الآن كل الدول العربية بصورة علنية ورسمية بهذا الكيان المغتصب لأرض فلسطين إلا أنها كلها تعترف ضمنيا بهذا الكيان عند قبولها بحل الدولتين والذي يعني الاعتراف بكيان يهود. وتأتي القمة الأخيرة التي تأمل منها هذه الدول بدء المفاوضات وتحقيق السلام مع العدو لتعجل بالاعتراف العلني والرسمي بكيان يهود، فهي تنتظر الفرصة الأخيرة لتحقيق ذلك، لتحذو حذو النظام في كل من مصر والأردن في خيانتهما.

وإذا نظرنا إلى الناس في البلاد العربية وهم أصحاب القرار الحقيقي، فإننا نرى أنهم لم يعودوا يأبهون بهذه القمم ولا يعطونها أي اهتمام ولا يعولون عليها بشيء، وأصبحوا يدركون أنها صنيعة الدول الاستعمارية وتنفذ أجندتها ومشاريعها وأنه لا خير ولا أمل فيها. ففقدت هذه الجامعة أية مصداقية، فهي ساقطة حكما، وقد ثار الناس ليسقطوا مخلفاتها ويقضوا عليها وما زالوا في ثورتهم الطويلة التي لن تهدأ حتى تحقق هدفها بإذن الله بإسقاط هذه الأنظمة القائمة في هذه البلدان من جذورها، وإزالة الحدود التي رسمتها الدولتان المستعمرتان بريطانيا وفرنسا في اتفاقية سايكس بيكو، والقضاء على كيان يهود الذي تعمل أمريكا على تركيزه بحل الدولتين، ومن ثم طرد كل هذه الدول الاستعمارية وتطهير المنطقة من براثنها، وطريق ذلك هو إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، التي أصبحت مطلب الأمة وأملها، وقد تجلى ذلك في ثورة الأمة بالشام المباركة التي ستنتصر في النهاية بإذن الله رغم حجم المؤامرات وفداحة الخسائر في الأرواح والممتلكات. ونقول لأبناء أمتنا من مشارقها إلى مغاربها الذين يتوقون للتحرير وخاصة للثائرين الصابرين الصادقين منهم في أرض الشام عقر دار الإسلام مذكرين إياهم بقول ربهم: ﴿فَلا تَهِنُوا وتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وأًنْتُمُ الأًعْلَوْنَ واللهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَاَلَكُمْ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست