لا أمن ولا أمان ولا استقرار ولا سلام إلا بقلع كيان يهود
لا أمن ولا أمان ولا استقرار ولا سلام إلا بقلع كيان يهود

الخبر:   نقل موقع أر تي أرابيك على الإنترنت الأحد 2016/7/10م، تصريح وزير الخارجية المصري سامح شكري الأحد 10 تموز/يوليو في مؤتمر صحفي مع رئيس وزراء كيان يهود بنيامين نتنياهو "أن الإرهاب يعرقل عملية السلام في المنطقة، وأضاف يجب إقامة دولة فلسطينية تعيش بسلام جنبا إلى جنب مع كيان يهود"، مشيرا إلى أن "امتداد الصراعات والنزاعات المسلحة في المنطقة يهدد استقرارها وشعوبها"، واختتم شكري كلمته قائلا "القيادة المصرية تدعم حلا عادلا وآمنا للسلام في الشرق الأوسط، ونحن جادون في تقديم جميع أشكال الدعم لتحقيق هذا الهدف"، من جهته قال بنيامين نتنياهو "أبارك مقترح السيسي بشأن مبادرة مصر لتحقيق السلام مع الفلسطينيين والسعي للسلام في المنطقة"، مضيفا "أدعو الفلسطينيين لأن يحذو حذو مصر والأردن والذهاب للمفاوضات فإنها السبيل الوحيد لتجاوز العقبات والتوصل إلى سلام يرتكز على مبدأ (دولتين لشعبين)".

0:00 0:00
Speed:
July 16, 2016

لا أمن ولا أمان ولا استقرار ولا سلام إلا بقلع كيان يهود

لا أمن ولا أمان ولا استقرار ولا سلام إلا بقلع كيان يهود

الخبر:

نقل موقع أر تي أرابيك على الإنترنت الأحد 2016/7/10م، تصريح وزير الخارجية المصري سامح شكري الأحد 10 تموز/يوليو في مؤتمر صحفي مع رئيس وزراء كيان يهود بنيامين نتنياهو "أن الإرهاب يعرقل عملية السلام في المنطقة، وأضاف يجب إقامة دولة فلسطينية تعيش بسلام جنبا إلى جنب مع كيان يهود"، مشيرا إلى أن "امتداد الصراعات والنزاعات المسلحة في المنطقة يهدد استقرارها وشعوبها"، واختتم شكري كلمته قائلا "القيادة المصرية تدعم حلا عادلا وآمنا للسلام في الشرق الأوسط، ونحن جادون في تقديم جميع أشكال الدعم لتحقيق هذا الهدف"، من جهته قال بنيامين نتنياهو "أبارك مقترح السيسي بشأن مبادرة مصر لتحقيق السلام مع الفلسطينيين والسعي للسلام في المنطقة"، مضيفا "أدعو الفلسطينيين لأن يحذو حذو مصر والأردن والذهاب للمفاوضات فإنها السبيل الوحيد لتجاوز العقبات والتوصل إلى سلام يرتكز على مبدأ (دولتين لشعبين)".

التعليق:

أرض فلسطين هي أرض خراجية تحوي المسجد الأقصى مسرى رسول الله eأولى القبلتين وثالث الحرمين الشريفين، وهي مملوكة للأمة بعمومها وليست لأهل فلسطين وحدهم، وقضية تحريرها واقتلاع كيان يهود الغاصب منها هي قضية كل الأمة وهو واجب على جيوش الأمة لا ينفك من أعناقهم ولا تبرأ منه ذمتهم، فلا يجوز بيعها ولا التنازل عنها ولا التفاوض عليها ولا أن تصبح دولة مستقلة ذات سيادة داخل الإطار الذي رسمه سايكس وبيكو، بل يجب أن تكون جزءا من دولة إسلامية واحدة تجمع المسلمين من مشرقهم إلى مغربهم في كيان واحد يحمي بيضتهم ويدافع عنهم ويتبني قضاياهم، وبهذا وحده يكون حل قضية فلسطين التي لم تصبح قضية ولم يغتصبها يهود إلا بعد سقوط الخلافة وتمزيق جسد الأمة الواحد إلى ما يزيد عن خمسين خرقة مهلهلة بعضها لا يغطي عورة نملة،

أيها المتآمرون على الأرض المباركة! ألا فلتعلموا أن تآمركم لن يعطي حقا لمن لا حق لهم في أرض فلسطين ولو سلم وتنازل كل إخوانكم الخونة، فالخونة المتآمرون لا يقررون بل يملي عليهم السيد ما يفعلون، ولعل أمريكا الآن تريد أن تسرع بحل الدولتين حتى تطمئن على كيان يهود قبل أن يصبح التفاوض أمراً بعيد المنال وخاصة في ظل ثورة الأمة في الشام التي تؤرق أمريكا والغرب كله، فرأت أن تعجل بقيام كيان يشكل سياجا آخر حول كيان يهود ويحفظ أمنه ولو كيانا هشا من سلطة ورقية، وما تحرك وزير الخارجية المصري إلا بتعليمات محددة من البيت الأبيض داخل الرؤية الأمريكية لحل قضية فلسطين على أساس الدولتين والتي يماطل فيها يهود ويقبل بها وبأقل منها من وضعتهم أمريكا على رأس سلطة لحماية الاحتلال من أهل فلسطين الذين لم ولن يقبلوا بالتفاوض على شبر من أرضها الطيبة.

أيها المتآمرون! قرروا ما شئتم فلن تغيروا شيئا في نفوس الأمة بما تقررون، فأمة قدمت آلاف الشهداء لن تنسى قضيتها وستسعى دوما وحتما لاسترجاع حقوقها، ولا يمنعها من ذلك إلا هؤلاء الحكام الذين سخروا أنفسهم وجيوش الأمة لحماية وحراسة كيان يهود الهش، إلا أن الأمة التي بدأت تتململ وهي تسعى للفكاك والانعتاق من قيود هؤلاء الحكام حتما ستنتصر في النهاية على الغرب وأذنابه في ظل الخلافة على منهاج النبوة التي ستجيش الجيوش لتحرير كل البلاد الإسلامية المغتصبة وليس فلسطين وحدها وتقتلع كيان يهود المسخ إلى غير رجعة، فليس لهم أمن ولا أمان في بلادنا ولا سلم لهم ولا سلام معهم بعدما ولغوا في دماء المسلمين وفعلوا بهم ما فعلوا.

أيها المسلمون! إن التآمر عليكم وعلى دينكم شديد ويشتد وتضيق حلقاته حتى تكاد الأمة تختنق، إلا أن وعد الله ناجز ﴿حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَاءُ﴾ فلا تهنوا ولا تحزنوا وعوا على ما يصلح حالكم، وطالبوا بها بيضاء نقية كما تركها لكم نبيكم e؛ خلافة على منهاج النبوة؛ فبها وحدها تعود فلسطين كاملة كما حفظتها قرونا عديدة وكما لم تغتصب إلا بسقوطها على يد الهالك مصطفى كمال، فاعملوا لها مع العاملين مخلصين لله ولا يرهبنكم الغرب وآلته العسكرية فالله أقوى وأعلى وأعز وهو ناصر جنده ومعز دينه ولو كره الكافرون، فاعلموا أنهم يعانون كما تعانون وترجون من الله ما لا يرجون ولكنكم الأعلون والله معكم ﴿وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ إِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَالَا يَرْجُون وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ فما ترجونه عز الدنيا الذي لا عز دونه وكرامة الآخرة التي لا كرامة بعدها والله ناصركم ومعينكم والله غالب على أمره.

﴿كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست