لا فكرة ولا غاية ولا هدف يجمعهم  فما الذي سيوحدهم؟!
لا فكرة ولا غاية ولا هدف يجمعهم  فما الذي سيوحدهم؟!

قالت السياسية الأمريكية، سارة بالين، حاكمة ولاية ألاسكا السابقة، والمرشحة السابقة لمنصب نائب الرئيس الأمريكي، إن "حركة حياة السود مهمة مهزلة" في أعقاب موجة الاحتجاجات التي اجتاحت أمريكا بعد مقتل رجلين من السود على يد الشرطة الأسبوع الماضي.

0:00 0:00
Speed:
July 11, 2016

لا فكرة ولا غاية ولا هدف يجمعهم فما الذي سيوحدهم؟!

لا فكرة ولا غاية ولا هدف يجمعهم

فما الذي سيوحدهم؟!

الخبر:

قالت السياسية الأمريكية، سارة بالين، حاكمة ولاية ألاسكا السابقة، والمرشحة السابقة لمنصب نائب الرئيس الأمريكي، إن "حركة حياة السود مهمة مهزلة" في أعقاب موجة الاحتجاجات التي اجتاحت أمريكا بعد مقتل رجلين من السود على يد الشرطة الأسبوع الماضي. وأضافت بالين في تدوينة على صفحتها الرسمية على موقع "فيسبوك" أن الأمريكيين من أصول أفريقية أو أصول آسيوية "يقسمون الأمة الأمريكية"، وفي السياق ذاته، حث أوباما الأمريكيين على ألا ينظروا إلى الولايات المتحدة وكأنها آخذة في الانقسام إلى مجموعات متعارضة، داعيا رعايا بلاده إلى أن يكونوا أكثر تضامنا في مواجهة العنف الذي تشهده بلادهم. وأضاف: "عندما يتحدث البعض عن استقطاب كبير، وعن عودتنا إلى أوضاع الستينات، فهذا ليس صحيحا، فليس هناك أعمال شغب، ولا نرى الشرطة تقمع الاحتجاجات السلمية". (المصدر: الجزيرة نت، CNN العربية)

التعليق:

إن ما يحدث في الولايات المتحدة الأمريكية يكمن جوهره في أمور متعددة، تجمل في ثلاث نقاط رئيسية، إنهم مجتمع فاقد لفكرة تجمعهم وهدف يسعون لتحقيقه وغاية يريدون أن يصلوا إليها. فمن ناحية أنهم مجتمع يخلو من فكرة يجتمعون عليها ويتوحدون لأجلها، فهم يتصدرون قائمة التمييز العنصري على أساس لون البشرة على المستوى العالمي، فعلى الرغم من أن أصحاب البشرة السوداء يشكلون ما نسبته 20% من السكان إلا أنهم يعتبرون من الأقليات في المجتمع ويتم التعامل معهم بهذه النظرة الضيقة، فالمجتمع في أمريكا بثقافته العنصرية التي تميزه عن غيره من المجتمعات يغذي هذا المفهوم، بل ويصرح بهذا كبار المفكرين والسياسيين وهذا الأمر ليس بمخفي أو غير معلوم، فقد كان من دواعي اختيار أوباما ليكون حاكما لأمريكا أن الأقلية السوداء في أمريكا أصبحت تعي أنها تستغل ويمارس عليها التهميش والتحييد في كثير من الحقوق التي يتمتع بها أي أمريكي صاحب بشرة بيضاء، فقام المفكرون بدغدغة مشاعر السود والتلاعب بأفكارهم بعرض شخص كأوباما ليحكم الولايات المتحدة الأمريكية، فكانت هذه خطوة إضافية في إبقاء الولايات المتحدة كما نراها اليوم، ولكنها ما هي إلا خطوة لتأجيل تقسمها ووقوعها في الفوضى.

أما من ناحية أنهم مجتمع يفتقد إلى هدف يسعون إلى تحقيقه فهذا أمر لا شك فيه، فالمجتمع في أمريكا مجتمع قائم على النفعية المقيتة التي يسيرها المال وأصحابه، ولهذا لا يوجد عامل مشترك ولا هدف مشترك بين صاحب المال وبين من يخدمه، فأصحاب الأموال يسعون لتجميع الأموال وامتلاك البلاد والعباد، وفي الطرف الآخر لا نجد السكان يكترثون لهذه الفكرة ولا يلقون لها بالاً، فنرى بذلك عدم انسجام بين الطرفين، وهذا مدعاة إلى التفتت والانقسام. فكيف يمكن أن يكون مثل هذا الشعب متوحداً ومتناغماً مع بعضه إن كانت فكرة العبودية متأصلة فيه ولكن بأشكال مختلفة ومتنوعة أبسطها التمييز على أساس لون البشرة. والغريب في الأمر أن العبودية تأخذ طابعاً عاماً لشعب ولكنها تأخذ طابعاً خاصاً لأصحاب تلك البشرة فهم مستعبدون بشكلين اثنين، التعامل معهم كأفراد من الدرجة الثانية والتعامل معهم بمجموعهم كأنهم عبيد لأصحاب رؤوس الأموال، أفبعد هذا يبقى هدف يجمعهم؟!!

أما أن المجتمع في أمريكا يخلو من الغاية التي يمكن أن تجمعهم فهذا أمر جلي واضح، فالناس يعيشون في أعلى درجات الانعزالية والفردية المدمرة للمجتمعات، فكل شخص لا يكترث للآخر ولا يلقي له بالا ولا حتى يفكر بغيره مجرد تفكير، فكيف إن كان هذا الآخر ينظر إليه على أنه دخيل وعبد لا يستحق ما هو فيه كما هي النظرة إلى أصحاب البشرة السوداء، أفبعد هذا يمكن أن يكترثوا لما يحدث لهم وما يجري عليهم بتخطيط من قبل الحكام الحقيقيين للبلد، أفبعد هذا يمكن أن يكون عندهم غاية مشتركة يسعون لتحقيقها؟!

وأخيرا فإن عوامل التوحد في أي مجتمع مهما كان تكمن في ثلاث نقاط رئيسية، أفكار مشتركة متناغمة مع طبيعتهم، ومشاعر متبادلة ومتساوية بينهم، ونظام يجمعهم ويضمن لهم حقوقهم وواجباتهم. إن المجتمع في أمريكا يخلو من أفكار صحيحة تجمع الأفراد ويخلو من مشاعر متبادلة يسعون لبقائها ويحافظون عليها، أما النظام فهو ليس من جنسهم ولا يتوافق مع طبائعهم البشرية فيطبق عليهم بقوة الشرطي وصرامة القانون، فمتى ضعف الشرطي وخفت صرامة القانون انقض الأفراد على كل شيء وتفكك المجتمع وانقلب الأمر على أصحابه، وما نشاهده الآن من أحداث هي في أصلها ناجمة عن شدة الشرطي المفرطة وصرامة القانون القاسية فنتج عن ذلك التمرد والعصيان على الشرطي والنظام، وهذا قانون طبيعي فكثرة الشدة تولد الانفجار.

إن المجتمع في أمريكا على هاوية الانفجار والتفكك لأسباب كثيرة منها العنصرية القائمة على لون البشرة، والواقع الحالي للمجتمع هناك أشبه ما يكون بمن ينتظر رصاصة الرحمة لإنهائه وإقامة نظام يسعد البشرية ويرضي خالقهم، وهذا النظام ليس سوى نظام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. ماهر صالح – أمريكا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست