لا تَسْتَضِيئوا بِنَارِ الآلية الثلاثية فإنها رجس من عمل الكفار
لا تَسْتَضِيئوا بِنَارِ الآلية الثلاثية فإنها رجس من عمل الكفار

الخبر: أورد موقع أخبار الأمم المتحدة في 24 أيار/مايو 2022 الخبر التالي: حذر ممثل الأمين العام الخاص، فولكر بيرتس من العواقب الناجمة عن غياب التوصل إلى حل للمأزق الحالي في السودان، مشيرا إلى أن تلك العواقب ستتجاوز حدود البلاد وستستمر على مدى جيل كامل. وقدم رئيس بعثة الأمم المتحدة المتكاملة لدعم المرحلة الانتقالية في السودان يونيتامس، إحاطة إلى مجلس الأمن، شدد فيها على أن الأمر متروك للسودانيين للاتفاق على مخرج من هذه الأزمة.

0:00 0:00
Speed:
June 01, 2022

لا تَسْتَضِيئوا بِنَارِ الآلية الثلاثية فإنها رجس من عمل الكفار

لا تَسْتَضِيئوا بِنَارِ الآلية الثلاثية فإنها رجس من عمل الكفار

الخبر:

أورد موقع أخبار الأمم المتحدة في 24 أيار/مايو 2022 الخبر التالي:

حذر ممثل الأمين العام الخاص، فولكر بيرتس من العواقب الناجمة عن غياب التوصل إلى حل للمأزق الحالي في السودان، مشيرا إلى أن تلك العواقب ستتجاوز حدود البلاد وستستمر على مدى جيل كامل.

وقدم رئيس بعثة الأمم المتحدة المتكاملة لدعم المرحلة الانتقالية في السودان يونيتامس، إحاطة إلى مجلس الأمن، شدد فيها على أن الأمر متروك للسودانيين للاتفاق على مخرج من هذه الأزمة.

وقال ممثل الأمين العام إن الأزمة التي تواجه السودان هي أزمة محلية ولا يمكن حلها إلا من قبل السودانيين.

"في حين إن المسؤولية الأساسية عن تغيير هذه الديناميكيات تقع على عاتق أصحاب المصلحة السودانيين أنفسهم، فإنني قلق بشأن العواقب طويلة المدى، حيث نراقب المزيد من التآكل في قدرة الدولة، الهشة أصلا، ورأس المال البشري في السودان".

وقال إن الهدف من تلك المحادثات تمحور حول استطلاع آراء أصحاب المصلحة حول مضمون وشكل عملية المحادثات التي يقودها ويملكها السودانيون، مشيرا إلى أن جميع المكونات تقريبا أبدت استعدادها للمشاركة بشكل إيجابي في جهود التيسير التي تقوم بها البعثة.

التعليق:

يبدو أن أمريكا متحمسة لإجراء الحوار بأسرع فرصة حتى تستتب لها الأمور فهي تدفع عملاءها بقوة نحو ذلك. فقد صرح البرهان مرارا وتكرارا التزام الحكومة الكامل بعملية حوار سوداني جامع للتوصل إلى حل توافقي للأزمة الراهنة التي تمر بها البلاد. وكذلك تصريح عضو مجلس السيادة الانتقالي الفريق بحري مهندس إبراهيم جابر إبراهيم الذي أوردته وكالة الأنباء السودانية في 2022/5/27م والذي قال فيه: "نؤكد دعمنا الكامل للمجهودات التي تبذلها الآلية الثلاثية لإنجاح الحوار بين الأطراف السودانية". وكذلك تصريح محمد الحسن ود لباد الذي قال فيه: "إن الآلية جاهزه للإسراع في العملية السياسية وقدمت رؤية مفصلة لعملية الحوار السياسي".

وقد أشارت الآلية الثلاثية أنها عقدت محادثات أولية مع المكونات الرئيسية للمجتمع في السودان والطيف السياسي طوال شهر نيسان/أبريل، "وشمل ذلك الأحزاب والائتلافات السياسية وممثلي لجان المقاومة والشباب والجيش والحركات المسلحة، وقادة الطرق الصوفية والجماعات النسائية والأكاديميين".

وفي المقابل يوجد تعنت كبير من الأحزاب أوروبية الهوى تجاه هذه الآلية وهذا الحوار بقصد رفع سقف المطالب والمشاركة في الحكم ومناصفته مع أمريكا.

فقد أعلن حزب البعث السوداني كما أوردت (نبتة نيوز) رفضه لخطوات الآلية الثلاثية للأمم المتحدة (يونيتامس) والاتحاد الأفريقي والإيقاد، ودعا الآلية للالتزام بدورها كمسهلة للحوار فقط بين الفرقاء السودانيين. وقال الناطق الرسمي باسم حزب البعث السوداني محمد وداعة "إن البعثة الأممية في السودان تقوم بأدوار خطرة في السودان منفردة ومجتمعة مع الاتحاد الأفريقي وممثل الإيقاد". وكذلك أوردت عزة برس تصريحا لعضو اللجنة المركزية بالحزب الشيوعي صدقي كبلو، قال فيه: "إن الآلية الثلاثية تبحث عن شرعية للانقلاب، وإن حزبه يرفض ذلك". وكذلك رفض حزب المؤتمر السوداني ذلك الحوار.

إن هذه اللجنة الثلاثية المكونة من اليونيتامس والاتحاد الأفريقي والإيقاد ما هم إلا أذرع للكافر المستعمر أمريكا كانت أو أوروبا، وهم في صراع محموم تريد بريطانيا من خلاله الضغط على عملاء أمريكا للمشاركة في الحكم وإيجاد موطئ قدم لها والنفوذ إلى الجيش، وهمهم الوحيد هو خدمة أسيادهم، فهم ينفذون تعليماتها حرفيا حتى يخضعوا نفوذها لها بالكامل في تنافس محموم. وهم لا يرقبون فينا إلا ولا ذمة، فلا يغرنكم كلامهم المعسول من أنهم يريدون لنا الوفاق وأن تتوحد كلمة أهل السودان وأن يجتمعوا على كلمة سواء.

فهذا الصراع الأمريكي الأوروبي ليس لأهل السودان فيه ناقة ولا جمل، بل هو تكريس للحكم المدني واستمرار هذا النظام الرأسمالي العلماني المتعفن الذي أذاق أهل السودان الويلات وجعلنا تحت الانتداب الأمريكي. فالحذر الحذر من الركون إلى مثل هذا الحوار، والحذر الحذر من أن يرضى أهلنا في السودان بالاستضاءة بنار هذه الآلية الثلاثية العميلة.

وقد حذرنا الله سبحانه من الركون إلى الكافرين وعملائهم الذين لا يرضون لنا غير العنت والمشقة، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ﴾.

فالمخرج والملجأ والمأمن هو في تحكيم نظام الإسلام في ظل خلافة راشدة على منهاج النبوة تقطع أيادي الكافرين الخبيثة عن بلادنا وننعم فيها بتطبيق أحكام الإسلام، ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقَى وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الخالق عبدون علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست