لا تغرنكم أمريكا! فهي وعلى لسان رئيسها تعترف بعجزها وفشلها
لا تغرنكم أمريكا! فهي وعلى لسان رئيسها تعترف بعجزها وفشلها

 الخبر:   صرح الرئيس الأمريكي أوباما يوم 2016/3/23 بأنه "لا يتوقع حدوث نقلة في عملية السلام في الشرق الأوسط قبل أن يغادر منصبه وشدد على تأييده الحل القائم على دولتين يعيش فيهما يهود في سلام جنبا إلى جنب مع أهل فلسطين"، وهذه التصريحات جاءت بعد ورود تقارير تفيد بأن إدارته تدرس المساعي في هذه القضية. وقال: "هذا أمر لم أتمكن من إنجازه.. لا يحدوني أمل خلال الشهور التسعة المقبلة. لقد مضى ستون عاما.

0:00 0:00
Speed:
March 27, 2016

لا تغرنكم أمريكا! فهي وعلى لسان رئيسها تعترف بعجزها وفشلها

لا تغرنكم أمريكا! فهي وعلى لسان رئيسها تعترف بعجزها وفشلها

الخبر:

صرح الرئيس الأمريكي أوباما يوم 2016/3/23 بأنه "لا يتوقع حدوث نقلة في عملية السلام في الشرق الأوسط قبل أن يغادر منصبه وشدد على تأييده الحل القائم على دولتين يعيش فيهما يهود في سلام جنبا إلى جنب مع أهل فلسطين"، وهذه التصريحات جاءت بعد ورود تقارير تفيد بأن إدارته تدرس المساعي في هذه القضية. وقال: "هذا أمر لم أتمكن من إنجازه.. لا يحدوني أمل خلال الشهور التسعة المقبلة. لقد مضى ستون عاما. وذلك لن يحدث خلال الشهور التسعة المقبلة". وقال: "كان هناك حديث عن حل قائم على دولة واحدة أو نوع من الحكومة المقسمة. هذا أمر يصعب عليّ تصور أن يكون مستقرا. توجد حالة عميقة من انعدام الثقة بين الشعبين حاليا.. وتلك المنطقة تشهد فوضى إلى درجة تجعلني مستمرا في الاعتقاد بأن الحل القائم على دولتين هو أفضل سبيل".

التعليق:

لقد راهن العملاء في فلسطين طلاب المال والجاه على أمريكا بأن تقيم لهم دولة تنصبهم فيها حكاما وتملأ جيوبهم بالمال مقابل تنازلهم عن أكثر من 80% من فلسطين لليهود وقبولهم بدولة لا همَّ لها إلا حماية يهود وأن يكونوا خدما لأمريكا وكيان يهود. ولكن أمريكا على لسان رئيسها تعلن فشلها في تحقيق مشروعها فهي دولة عاجزة إذا وجدت من يتحداها ويقف في وجهها. فعلى هؤلاء العملاء أن يتعظوا ويراجعوا أنفسهم ويرجعوا إلى الله وإلى أمتهم وأن لا يتمادوا في غيهم وخياناتهم، فلن ينالوا في الدنيا شيئا، فلن تصبح لهم دولة، بعدما حاولت سيدتهم أمريكا مدة ستين سنة كما ذكر رئيسها ففشلت، فهل ينتظرون مدة ستين سنة أخرى؟!

وأما أهل فلسطين المخلصون فهم رافضون أصلا لذلك ولا ينتظرون يوما واحدا، ولكنهم يدركون أنهم مكبلون ومحاصرون من كل جهة وينتظرون فرج الله بأن يمنّ على المسلمين في المنطقة بخلافة راشدة على منهاج النبوة تسيّر الجيوش لتحرير فلسطين، وعندئذ لن تتمكن أمريكا من الوقوف أمام زحفهم فهي أوهن من بيت العنكبوت لأن إرادتهم وقوتهم الروحية أقوى من كل قواها النووية وأسلحتها الاستراتيجية وصواريخها الباليستية وقد قُهرت أمام ثلة من المسلمين في العراق وأفغانستان، فكيف إذا احتدمت المعركة، بل أم المعارك في فلسطين التي تعتبر قلب الأمة النابض، فكل المسلمين سيهبون هبة رجل واحد، فيقتل المسلمون اليهود حتى يقول الشجر والحجر يا مسلم يا عبد الله هذا يهودي ورائي تعال فاقتله مصداقا لقول رسولهم الكريم eالذي لم تتخلف أية بشارة له من الله عن أن تتحقق لهم على مدى أربعة عشر قرنا.

وأخرى نقولها للعملاء المفاوضين في جنيف ممن يسمون معارضة سورية وهم لا يمثلون أهل سوريا بحال، ها هي أمريكا عاجزة وفاشلة في جنوب الشام بفلسطين، ولم تستطع أن تخمد ثورة الأمة في الشام مدة خمس سنين، وقد أطلقت يد النظام النصيري البعثي يبطش ويقتل، وجلبت إيران وحزبها في لبنان وعصاباتها من كل مكان مندفعة بالأحقاد والثارات الخادعة، وجلبت روسيا عدوة الإسلام، وتدخلت هي بنفسها ومعها حلفاؤها وعملاؤها في المنطقة، ورغم ذلك فشلت. ولو مضى ستون عاما على ثورة الأمة المباركة فلن تخمدها أمريكا ومن تحالف معها، ودليل ذلك أن ثلة من الأمة مضى عليها ستون عاما وقد انطلقت من هذه البلاد وهي تعمل على نشر فكرة الخلافة وقد نجحت في نشرها وتركيزها وقد تجسدت في ثورة الشام، فلم تتمكن أمريكا وبريطانيا وروسيا وحلفاؤها وعملاؤها من إخمادها.

إن أمريكا تراهن على الذين خانوا الثورة من المفاوضين مع عملائها في النظام العلماني الإجرامي، وتنتظر منهم تقديم المزيد من التنازلات على دأب أقرانهم من العملاء المفاوضين مع يهود في فلسطين، فلن ينالوا إلا الخزي والعار وسيفشلون مع سيدتهم أمريكا أمام إرادة الأمة وقوتها الروحية التي تجلت بتضحيات أبنائها في الشام مدة خمسة أعوام، وسيصدق قول رسول الله الكريم e في بشائره لصفوة بلاد الله وهي عقر دار الإسلام، ومن ثم تنزل الخلافة في الأرض المقدسة.

وليعلم المفاوضون من الذين خانوا الثورة وأهدافها والذين يظهر أنهم يئسوا من روح الله واستسلموا لأمريكا التي لا تعمل إلا لمصالحها، وراهنوا عليها لتحقق لهم شيئا بمشيئتها القاصرة، وقد أعلنت عن فشلها وعجزها في فلسطين ولسان حالها يقول بعجزها وفشلها في سوريا، فليعلم أولئك المفاوضون أن المسلمين في طرفي بلاد الشام من شمالها في سوريا إلى جنوبها في فلسطين لن ييأسوا من روح الله ولن يستسلموا لأمريكا ولمن يدور معها حتى يحقق الله بشائره على لسان نبيه محمد eكما حققها بعد عشرات السنين لنبيه يوسف وأبيه يعقوب الذي قال الله على لسانه: ﴿إنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إلاَّ القَومُ الكَافِرونَ﴾ [يوسف: 87]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست