لا تحكموا على حاكم سوريا بمعايير لا تناسبُه
لا تحكموا على حاكم سوريا بمعايير لا تناسبُه

الخبر:   رداً على سؤال حول ما إذا كان سيتمّ السماح بالمشروبات الكحولية في سوريا، أجاب أحمد الشرع: "هناك أشياء كثيرة لا أستطيع التحدث عنها ببساطة لأنها مسائل قانونية". وأضاف أنه سيتمّ تشكيل لجنة من الخبراء القانونيين في سوريا لصياغة دستور جديد: "سيقررون. وأي حاكم أو رئيس سيكون عليه الالتزام بالقانون". (المصدر). وزيرا خارجية ألمانيا وفرنسا كانا في دمشق يوم الجمعة 3 كانون الثاني/يناير، إلاّ أنّ الشّرع لم يصافح وزيرة الخارجية الألمانية لأنها امرأة. (المصدر)

0:00 0:00
Speed:
January 11, 2025

لا تحكموا على حاكم سوريا بمعايير لا تناسبُه

لا تحكموا على حاكم سوريا بمعايير لا تناسبُه

(مترجم)

الخبر:

رداً على سؤال حول ما إذا كان سيتمّ السماح بالمشروبات الكحولية في سوريا، أجاب أحمد الشرع: "هناك أشياء كثيرة لا أستطيع التحدث عنها ببساطة لأنها مسائل قانونية". وأضاف أنه سيتمّ تشكيل لجنة من الخبراء القانونيين في سوريا لصياغة دستور جديد: "سيقررون. وأي حاكم أو رئيس سيكون عليه الالتزام بالقانون". (المصدر).

وزيرا خارجية ألمانيا وفرنسا كانا في دمشق يوم الجمعة 3 كانون الثاني/يناير، إلاّ أنّ الشّرع لم يصافح وزيرة الخارجية الألمانية لأنها امرأة. (المصدر)

التعليق:

أثار الخبران المذكوران نقاشات بين المسلمين في سوريا، وكذلك المسلمين في مختلف أنحاء العالم.

فمن ناحية، أدان المسلمون سؤال مراسل هيئة الإذاعة البريطانية جيرمي بوين، الذي سافر آلاف الكيلومترات لطرح سؤال تافه حول مصير الخمور.

وانتقد كثيرون بوين لأنه، على خلفية الصعوبات والدّمار الذي تواجهه السلطات السورية الجديدة، وكذلك على خلفية حجم جرائم نظام الأسد السابق التي لا يمكن تصورها، والتي كشفت عنها حالة سجن صيدنايا، أبدى مراسل إحدى وسائل الإعلام الغربية اهتمامه بمسألة مستقبل الخمور في سوريا!

ومن ناحية أخرى، يدور نقاش بين المسلمين حول رفض أحمد الشرع مصافحة وزيرة الخارجية الألمانية أنالين بيربوك لأنها امرأة.

ونظر كثيرون إلى هذه الخطوة التي اتخذها أحمد الشرع باعتبارها مظهراً غير متصور للإسلام في العلاقات الدولية، واعتبروا هذا التصرف من جانب الممثل الرئيسي للسلطات السورية الحالية انتصاراً للإسلام.

وفيما يتعلق بهذين الخبرين، يجب على الأمة الإسلامية أن تفهم بوضوح ما يلي:

إنّ سؤال المراسل الغربي حول مصير الخمور ليس غبياً أو غير مناسب، بل على العكس من ذلك، من الضروري تقييم هذا السؤال باعتباره نوعاً من اختبار ورقة دوار الشمس الذي يختبر به العالم الغربي السلطات السورية الجديدة.

وهذا يشبه على سبيل المثال، كيف تشترط الدول الأوروبية دائماً تقريباً قضية التكامل الأوروبي والمساعدة الاقتصادية للدّول المرشحة لعضوية الاتحاد الأوروبي بضرورة إجراء الإصلاحات، حيث تكون القضية الأكثر أهمية هي حماية حقوق المثليين جنسياً. بالنسبة للعالم الغربي، فإن الترويج لمثل هذه القضايا هو مسألة حياة أو موت، لأنه إذا وافق الجانب الذي يفرضون إرادتهم عليه على تنفيذ المعايير الغربية في مجال المثليين جنسياً، فسوف يوافق على كل شيء آخر؛ على إصلاحات وتنازلات أكثر أهمية.

وبالمثل، فيما يتعلق بسوريا، فإن وضع الخمور هو الاختبار الأكثر أهمية، والمؤشر الأكثر أهمية للتنازلات من جانب الحكومة السورية الجديدة. لذلك، هذا ليس سؤالاً غبياً وغير مهم آخر يجب على المسلمين في سوريا اعتباره تافهاً.

ولكن من المؤسف أنّ أحمد الشرع لم يعط إجابة واضحة ودقيقة على هذا السؤال، مؤكداً أنّ هذا سؤال لا يحقّ له ببساطة الحديث عنه، وأنّ مصير هذا السؤال سوف تقرّره لجنة خاصة ستضع دستوراً جديداً!

والحقيقة أن تحريم الخمر يؤكده النّص القطعي للقرآن، الذي لا ينطوي على أي تفسير أو خلاف. وبالتالي فإن كل مسلم ليس له الحقّ فحسب، بل إنه ملزم بإعلان تحريمه القاطع.

وفيما يتعلّق برفض المصافحة، تجدر الإشارة إلى أنّ أحمد الشرع ليس مسلماً عادياً، يمكن تقييم أفعاله من خلال الانتباه إلى قضايا مثل أداء الصلوات الخمس، أو صيام شهر رمضان، أو رفض القسم، أو رفض شرب الخمر، أو كما نتعامل في هذه الحالة، رفض مصافحة امرأة، وفقاً للرأي الشرعي المعروف في هذه القضية.

ولا شكّ أنّ طلب الله تعالى من الشاب الذي أصبح مكلفاً ويسانده والده يختلف عن طلب رئيس العشيرة الذي يستطيع بفضل نفوذ معين منحه الله له أن يشجع عشيرته كلها على الالتزام بالإسلام.

كذلك فإن المطلب من شخص هو في الواقع حاكم للمسلمين سيكون مختلفاً عن المطلب من الرجل المذكور أو رئيس العشيرة.

لا شكّ أنه إذا كان الأول يكفيه أداء واجبات الإسلام الفردية، فإن الحكام سيكونون ملزمين أيضاً، بالإضافة إلى الواجبات الفردية، بتطبيق الإسلام على مستوى المجتمع بأكمله الموكول إليه.

لذلك فإن أداء الصلاة خمس مرات في اليوم، وإعفاء اللحية، وقراءة القرآن الكريم بشكل جميل، وأداء فريضة الحج لا يمكن أن تكون معايير لتقييم حاكم دولة إسلامية. لا شكّ أن المعيار هنا يجب أن يكون مدى تطبيقه الكامل والسليم لأحكام الشريعة في المجتمع.

منذ انهيار الخلافة، كان هناك طغاة في تاريخ هذه الأمة قاموا حتى بالحجّ مثل رؤساء مصر السابقين (جمال عبد الناصر، أنور السادات أو حسني مبارك)، أو حاكم الشيشان الحالي رمضان قديروف.

ولا شكّ أن ثواب مظاهر الإسلام الفردية التي قام بها أحمد الشرع عند الله تعالى، إلا أنه اليوم هو الحاكم الفعلي للشام، ولا بد أن يكون معيار تقييمه متوافقاً مع مكانة المنصب الذي يشغله.

وقد انتقد الله تعالى قريشاً لأنهم وضعوا رعاية الحجاج والمسجد الحرام على قدم المساواة مع الإيمان بالله واليوم الآخر والجهاد في سبيله:

﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾.

وكذلك فإن وضع فرد ضعيف وحاكم دولة مسلمة على قدم المساواة والحكم عليهما بمعايير واحدة هو إغفال غير عادل مدان في القرآن والسنة.

وفي الختام، تجدر الإشارة إلى أنّ هذا الخلط في معايير تقييم الخبرين المذكورين مرتبط بأفكار العلمانية التي ترسّخت في أذهان كثير من المسلمين، ما دفعهم إلى رؤية قضية الخمر كمظهر من مظاهر الغباء، وكذلك إلى رؤية حكام المسلمين كمظاهر فردية للإسلام، وغضّ النظر عن خلو تصرفاتهم من الأعمال الإسلامية التي تتناسب مع مكانة المنصب الذي يشغلونه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فضل أمزاييف

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست