لا تزال الحدود المصطنعة تجر علينا الويلات!
لا تزال الحدود المصطنعة تجر علينا الويلات!

الخبر:   في 6 أيار/مايو 2022 بث راديو ليبرتي الخبر التالي: لقي ثلاثة أفراد من قرغيزستان مصرعهم نتيجة استخدام الأسلحة النارية على الحدود القرغيزية الأوزبيكية. في 5 أيار/مايو، استخدم حرس الحدود الأوزبيكي أسلحة ضد ثلاثة أشخاص من قرغيزستان في منطقة تيباقورغان بولاية جلال أباد حيث تمر الحدود القرغيزية الأوزبيكية. وقد أفادت بذلك خدمة راديو ليبرتي القرغيزية بالإشارة إلى معلومات دائرة حرس الحدود في قرغيزستان التابعة للجنة الدولة للأمن القومي في قرغيزستان. ...

0:00 0:00
Speed:
May 11, 2022

لا تزال الحدود المصطنعة تجر علينا الويلات!

لا تزال الحدود المصطنعة تجر علينا الويلات!

الخبر:

في 6 أيار/مايو 2022 بث راديو ليبرتي الخبر التالي:

لقي ثلاثة أفراد من قرغيزستان مصرعهم نتيجة استخدام الأسلحة النارية على الحدود القرغيزية الأوزبيكية.

في 5 أيار/مايو، استخدم حرس الحدود الأوزبيكي أسلحة ضد ثلاثة أشخاص من قرغيزستان في منطقة تيباقورغان بولاية جلال أباد حيث تمر الحدود القرغيزية الأوزبيكية. وقد أفادت بذلك خدمة راديو ليبرتي القرغيزية بالإشارة إلى معلومات دائرة حرس الحدود في قرغيزستان التابعة للجنة الدولة للأمن القومي في قرغيزستان.

وبحسب جهاز الأمن نُقل ثلاثة مدنيين من مواليد 1974 و1998 و2000 مصابين بأعيرة نارية إلى مستشفى منطقة أولابوقا وتوفوا هناك دون استعادة وعيهم.

يبلغ طول الحدود بين قرغيزستان وأوزبيكستان 1378 كيلومتراً...

وصرح ميرلان كامتشيبيكوف رئيس إدارة قرية أكتام في منطقة أولابوقا في ولاية جلال أباد للخدمة القرغيزية لراديو الحرة يوم 6 أيار/مايو أن ثلاثة أفراد من عائلة واحدة من قرغيزستان قتلوا برصاص حرس الحدود الأوزبيكي. وبحسبه فإن القتلى أب يبلغ من العمر 48 عاما وأبناؤه الذين تتراوح أعمارهم بين 22 و24 عاما.

التعليق:

هذه ليست أول مأساة تحدث في هذه الحدود المصطنعة، فقد كانت هناك العديد من المآسي من قبل أيضا. فعلى سبيل المثال في 31 أيار/مايو 2020 اندلع نزاع على الحدود بين منطقة سوخ في أوزبيكستان ومنطقة قدمجاي في قرغيزستان وأضرمت النيران في المنازل ورشق الناس من الجانبين بعضهم بعضا بالحجارة. وفي 28 كانون الثاني/يناير 2021 أصيب 11 شخصاً وقُتل 2 في تبادل النيران على الحدود القرغيزية الطاجيكية بين حراس الحدود من الجانبين. ونزاع آخر على الحدود بين قرغيزستان وطاجيكستان في 1 أيار/مايو 2021 أودى بحياة أكثر من 40 شخصاً وجرح أكثر من 200... يمكن الاستشهاد بالعديد من الأمثلة الأخرى أيضا على مثل هذه المصائب والمآسي. وتستمر النزاعات على هذه الحدود المصطنعة حتى يومنا هذا، أي أن هذه الحدود المصطنعة تستمر في جرّ المآسي، وفيها يُقتَل المسلمون الأبرياء.

كما هو معلوم فإن الكفار الاستعماريين رسموا حدوداً مصطنعة بين بلادنا على أساس اتفاقية سايكس بيكو وقسموها إلى دويلات صغيرة، لأن شعارهم هو فرق تسد. وباتباع الشعار نفسه قام الشيوعيون الروس أيضاً بتقسيم آسيا الوسطى إلى أوزبيكستان وقرغيزستان وتركمانستان وطاجيكستان وكازاخستان. حتى الآن أيضا يولي الغرب بقيادة أمريكا اهتماماً وثيقاً لتعزيز هذه الحدود المصطنعة. فعلى سبيل المثال تنص استراتيجية الولايات المتحدة لآسيا الوسطى 2019-2025 على ما يلي: استثمرت الولايات المتحدة أكثر من 90 مليون دولار في أمن الحدود في آسيا الوسطى وأجرت أكثر من 200 تدبير في تدريب الكوادر ودربت أكثر من 2600 من حرس الحدود. وقدمت الولايات المتحدة هذا المبلغ لإنشاء 13 نقطة حدودية عملياتية أيضا عبر المنطقة.

إن أداة أمريكا السياسية - الأمم المتحدة - أيضا تعمل بنشاط على هذه القضية. فعلى سبيل المثال قام المكتب الإقليمي للمساعدة الحدودية في آسيا الوسطى التابع لمكتب الأمم المتحدة المعني بالمخدرات والجريمة (UNODC) بتزويد لجنة الجمارك الحكومية في أوزبيكستان بمعدات حماية شخصية بقيمة 6000 دولار. وبدعم من مكتب الأمم المتحدة المعني بالمخدرات والجريمة تم افتتاح مكتب جديد للتعاون عبر الحدود عند نقطة التفتيش الحدودية بين كازاخستان وقرغيزستان في جنوب كازاخستان، وشكر مدير دائرة الحدود بلجنة الأمن القومي لجمهورية كازاخستان دارخان ديلمانوف ممثلة مكتب الأمم المتحدة المعني بالمخدرات والجريمة ميتال قائلا: "يشارك مكتب الأمم المتحدة المعني بالمخدرات والجريمة بنشاط في الحماية المشتركة لحدود الدولة بشخص السيدة أشيتا ميتال...".

تمتلك آسيا الوسطى بما في ذلك أوزبيكستان احتياطيات هائلة من الثروات والموارد الجوفية والسطحية. بالإضافة إلى ذلك لديها قوة عاملة رخيصة، فقد قال الباحث الأمريكي الشهير فرانسيس فوكوياما: "إن آسيا الوسطى ستتوقف عن أن تكون محيط الاقتصاد العالمي ليصبح مركزها". هذا هو السبب في أن هذه المنطقة الغنية، وهي مزرعة لروسيا، تجذب انتباه المستعمرين الآخرين: أمريكا والصين وأوروبا.

شعوب هذه المنطقة: الأوزبيك والقرغيز والكازاخ والطاجيك والتركمان هم المؤمنون والمسلمون. إذن فهم إخوة، وهم جسد واحد كما قال رسول الله ﷺ. وهم يجب أن يفهموا أن أعداءهم الحقيقيين هم هؤلاء الكفار المستعمرون. بالنسبة إلى هؤلاء الرأسماليين الاستعماريين فلا أهمية لدماء الشعوب وأرواحها وممتلكاتها وشرفها ولا سيما الشعوب الإسلامية. وهي لا قيمة لها حتى بالنسبة لحكامنا الرأسماليين الذين كانوا شيوعيين بالأمس وأصبحوا اليوم بيادق لهؤلاء المستعمرين. وواقعنا المرير اليوم يدل على ذلك. لذلك يجب علينا نحن المسلمين أن نتخلص من هذه الحدود الزائفة وأن نتوحد بوصفنا أمة واحدة في ظل دولة الخلافة الراشدة التي وعد بها الله سبحانه وبشر بها رسول الله ﷺ. وإلا فإن هذه الحدود المصطنعة ستستمر في جرّ المآسي والمصائب علينا.

﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست