لا يمكن القضاء على الفقر في ظل الرأسمالية
لا يمكن القضاء على الفقر في ظل الرأسمالية

الخبر: بيلا بيرد، المديرة التنفيذية للبنك الدولي المنتهية مدة ولايتها، نصحت الحكومة بالحفاظ على المزيد من مبادرات القضاء على الفقر التي تؤثر على حياة الفئات المحتاجة في البلاد والاستثمار فيها، وذلك لتحقيق أهدافها الإنمائية المختلفة. (أي بي بي ميديا، 14 كانون الثاني/يناير2020)

0:00 0:00
Speed:
January 17, 2020

لا يمكن القضاء على الفقر في ظل الرأسمالية

لا يمكن القضاء على الفقر في ظل الرأسمالية
(مترجم)


الخبر:


بيلا بيرد، المديرة التنفيذية للبنك الدولي المنتهية مدة ولايتها، نصحت الحكومة بالحفاظ على المزيد من مبادرات القضاء على الفقر التي تؤثر على حياة الفئات المحتاجة في البلاد والاستثمار فيها، وذلك لتحقيق أهدافها الإنمائية المختلفة. (أي بي بي ميديا، 14 كانون الثاني/يناير2020)

التعليق:


حملة القضاء على الفقر هي شعار عالمي، محلياً ودولياً، وبشكل رئيسي في البلدان النامية بما في ذلك تنزانيا. وهي تتضمن العديد من الطرق والوسائل التي تعتبر بمثابة حل لقضية الفقر التي تؤثر على الملايين في العالم.


هناك العديد من المؤسسات المحلية والوطنية والدولية التي تشترك فيما يسمى بمكافحة الفقر بمعنى تخفيف المعاناة عن المجتمعات الفقيرة. تم وضع مجموعة من السياسات الواسعة لتنفيذ مشاريع وطنية للقضاء على الفقر. إن تنزانيا، مثلها مثل أي دولة نامية أخرى، تشارك بشكل كامل في قضية مكافحة الفقر كالتزام للقمة الاجتماعية العالمية في كوبنهاغن عام 1995.


وُضعت استراتيجية تنزانيا الوطنية للقضاء على الفقر لعام 1998 وأدرجت قضية القضاء على الفقر في الرؤية بعيدة المدى، رؤية التنمية التنزانية 2025، والسياسة العاجلة والاستراتيجية الوطنية للنمو والحد من الفقر.


وأثناء وجودهم في زنجبار، تم أيضاً دمج سياسات الحد من الفقر في خطة الحد من الفقر في زنجبار، ورؤية التنمية في زنجبار 2020، واستراتيجية زنجبار للنمو والحد من الفقر.


تهدف جميع الاستراتيجيات والمشروعات إلى المشاركة في الحد من انخفاض الدخل من خلال التركيز على النمو، وخلق فرص عمل مستدامة، وإنشاء بنية أساسية ملائمة للإنتاج والأمن الغذائي والحصول على الطاقة لغالبية السكان.


كما تهدف السياسة الزراعية والحيوانية إلى تحويل قطاع الزراعة إلى الإنتاج التجاري وتحسين مستويات المعيشة وزيادة إمكانية حصول الفئات الضعيفة بما في ذلك الفقراء على الأراضي والتعليم.


السؤال المهم الذي يطرح نفسه حول قضية مكافحة الفقر هو: لماذا تعيش شعوب هذه الدول النامية تحت خط الفقر بينما تمتلك دولهم جميع الموارد والإمكانيات اللازمة للقضاء على الفقر؟!


على سبيل المثال، وضعت تنزانيا عددا من الاستراتيجيات للقضاء على الفقر، كما هو مذكور أعلاه، ويحيط بها المحيط الهندي مع مجموعة كبيرة من المنتجات البحرية للأغذية والأرباح، ولديها احتياطي هائل من الغازات الطبيعية، وتمتلك عدداً من المناجم التي تحتوي على كميات ضخمة من الذهب، إلى حد أنها تحتل المركز الثالث في إنتاج الذهب في أفريقيا بعد غانا وجنوب أفريقيا.


فيما يتعلق بالقطاع الزراعي، فإن تنزانيا تحتوي على أراض ضخمة صالحة للزراعة، وموارد بشرية عالية تبلغ قرابة 60 مليوناً مع مصادر مياه ضخمة مثل بحيرة فيكتوريا، والتي تعد من بين البحيرات الضخمة في العالم التي تغطي 65583 ميلاً مربعا، حيث تمتلك تنزانيا وحدها نسبة 49٪ 33.700 كيلومتر مربع، وهي أكبر حصة مقارنة مع الشركاء المجاورين (أوغندا وكينيا). ناهيك عن بحيرة تنجانيقا، ثاني أكبر بحيرة من حيث الحجم في العالم وأعمق بحيرة في أفريقيا التي تحتوي على أكبر كمية من المياه العذبة.


إن الحقيقة الواضحة للجميع هي أن سبب الفقر في تنزانيا وأفريقيا والدول النامية عموماً هو عدم وجود الاستقلالية والرؤية الواضحة، وهذا نتيجة لعدم وجود أساس مبدئي لإرشادهم للمضي بحسبه في شؤونهم. إن تقليدهم الأعمى لبعض السياسات من المبدأ الرأسمالي الغربي لا يؤدي بهم إلى أي مكان سوى استسلام دولهم التام لجشع الدول الرأسمالية الغربية والصين، وشركاتهم متعددة الجنسيات ومؤسساتهم المالية الاستغلالية مثل البنك وصندوق النقد الدوليين وما إلى ذلك. يتم استغلال الدول النامية من الدول الرأسمالية الغربية من خلال السياسيين الفاسدين، حيث يعاني الناس العاديون من الفقر المستمر.


وبالتالي، فإن البيان المذكور أعلاه الذي أدلته المديرة السابقة للبنك الدولي المعني بالقضاء على الفقر هو مجرد استهزاء، مما يبعث على السخرية من حكومة تنزانيا وشعبها، لأنهم يعرفون بالتأكيد أن المصدر الرئيسي للفقر في الدول النامية هو الرأسمالية.


إنّ تنزانيا مثلها مثل جميع الدول النامية لا يمكنها حقاً القضاء على الفقر في ظل المبادرات الرأسمالية التي تديرها السياسات الرأسمالية وأدواتها الاستغلالية، فإن ما نحتاجه لجميع الدول النامية في العالم هو التحرّر الحقيقي من خلال التغيير المبدئي من الرأسمالية إلى الإسلام في ظل دولة الخلافة. قال تعالى: ﴿إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
مسعود مسلم
الممثل الإعلامي لحزب التحرير في تنزانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست