لا ينبغي للمسلمين الخوف من الشعوب الغربية
لا ينبغي للمسلمين الخوف من الشعوب الغربية

الخبر: شجع فوز (ترامب) في الرئاسة الأمريكية والتصويت لخروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي الحركاتَ الشعبية في جميع أنحاء أوروبا على اتخاذ موقف حازم ضد النخب الحاكمة في الغرب، والقوة الدافعة وراء نجاح الحركات الشعبية هي قضايا مثل الهجرة والعولمة والخوف من الإسلام، وقد تسبب هذا الأمر الأخير بالألم العميق ليس فقط للسكان المسلمين في الدول الغربية، ولكن أيضا بالنسبة للمسلمين الذين يعيشون في العالم الإسلامي. وهناك فهم منتشر على نطاق واسع بين المسلمين بأن هناك صلة محتملة بين الرئيس الأمريكي المنتخب (ترامب) واليمين المتطرف في أوروبا مما سيتسبب بحرب كارثية أخرى في العالم الإسلامي.

0:00 0:00
Speed:
December 07, 2016

لا ينبغي للمسلمين الخوف من الشعوب الغربية

لا ينبغي للمسلمين الخوف من الشعوب الغربية

الخبر:

شجع فوز (ترامب) في الرئاسة الأمريكية والتصويت لخروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي الحركاتَ الشعبية في جميع أنحاء أوروبا على اتخاذ موقف حازم ضد النخب الحاكمة في الغرب، والقوة الدافعة وراء نجاح الحركات الشعبية هي قضايا مثل الهجرة والعولمة والخوف من الإسلام، وقد تسبب هذا الأمر الأخير بالألم العميق ليس فقط للسكان المسلمين في الدول الغربية، ولكن أيضا بالنسبة للمسلمين الذين يعيشون في العالم الإسلامي. وهناك فهم منتشر على نطاق واسع بين المسلمين بأن هناك صلة محتملة بين الرئيس الأمريكي المنتخب (ترامب) واليمين المتطرف في أوروبا مما سيتسبب بحرب كارثية أخرى في العالم الإسلامي.

التعليق:

بالنسبة لكثير من المسلمين، فالتصويت على خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي، وفوز (ترامب) في البيت الأبيض و(مارين لوبان) في فرنسا، وزيادة شعبية الأحزاب المتطرفة في أوروبا، أدلة لا جدال فيها على توحد القوى الغربية لتدمير الإسلام. وقد تجنب بعض المسلمين مناقشة الحديث عن وحدة الأمة من خلال إقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة خوفًا من أن مثل هذا الكلام سوف يسرّع من التدخل الغربي في بلاد المسلمين. لكن المخاوف حول "الإسلاموفوبيا" من توحد الغرب هي في غير محلها وتؤكد عدم وجود وعي سياسي على الموقف الدولي، فالغرب لا يزال بعيدًا عن الوحدة، وما يفرق الغرب أكثر مما يوحده.

في عام 2003، قال الباحث الفرنسي (دومينيك مويسي) مقولة شهيرة: "الغرب قد انقسم الآن إلى نصفين (الأوروبي، والأمريكي)"، و"الأصولية الإسلامية" و"الإرهاب" الدولي في رأيه لم تعد لديها القدرة على توحيد أوروبا وأمريكا، كما حصل مع التهديد السوفيتي في السابق. ومنذ 11 من أيلول/ سبتمبر 2001، تعمقت الخلافات بين الأوروبيين والأمريكيين حول كيفية مواجهة هذه القضايا. لقد شكت أمريكا بمرارة من عدم وجود الدعم الأوروبي في خوض الحروب في أفغانستان والعراق، وانضمت أوروبا على مضض مع أمريكا في حربها في أفغانستان، وكلما كانت هناك فرصة ممكنة سعت أوروبا إلى النيل من أمريكا في الخفاء، وقد رشت فرنسا وإيطاليا قادة طالبان لعدم مواجهة قواتها، وحاولت بريطانيا النيل من أمريكا في ولاية هلمند، وأبقت ألمانيا قواتها القتالية لتوفير التدريب للأفغان في مناطق آمنة فقط. ينظر الأوروبيون اليوم إلى خطة أوباما في سوريا بازدراء، فهي الخطة التي أوجدت أكبر أزمة للاجئين في أوروبا، كما حملوا الحرب الأمريكية مسؤولية ظهور تنظيم الدولة والهجمات الإرهابية على الشواطئ الأوروبية.

خلاف رئيسي آخر بين أمريكا وأوروبا هو في معالجة أكبر أزمة مالية شهدها العالم، فأوروبا تفضل التقشف، وأمريكا تفضل الحوافز النقدية غير التقليدية، وعلاوة على ذلك، فإن التنافس التجاري وحروب العملة والغرامات الهائلة للبنوك الأوروبية وتسريبات بنما والملاذات الضريبية الأوروبية دفعت إلى اتساع في الخلافات بينهما.

من المرجح أن تقوم إدارة (ترامب) برش الملح على الجروح العميقة في العلاقات عبر الأطلسي، فتعليقات ترامب على تمزيق الشراكة عبر المحيط الهادئ ومنظمة حلف شمال الأطلسي والانفتاح تجاه روسيا لا شك في أنها ستعمق من الانقسامات الراسخة بين الطرفين.

إن المفارقة المحزنة هي أن البلدان الإسلامية لا تزال ضعيفة في استغلال التوترات بين أوروبا وأمريكا للحفاظ على مصالح الأمة الإسلامية، وذلك لأن البلدان الإسلامية هي مجرد أدوات تُستخدم من قبل أوروبا والولايات المتحدة لخوض الحروب بها، فالحروب في السودان وليبيا والصومال واليمن واحتلال يهود لفلسطين والصراع الدائر بين أوروبا وأمريكا هو للهيمنة على هذه البلدان.

إن هذا الوضع المحزن يؤكد على ضرورة العمل لإعادة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة من أجل حماية كرامة الأمة الإسلامية، والوضع في أوروبا وأمريكا اليوم هو أقرب إلى الحقبة المظلمة التي مرت بها الإمبراطورية الرومانية منذ مئات السنين.

في زمن الرسول rولغاية منتصف القرن الخامس عشر تم تقسيم الإمبراطورية الرومانية إلى قسمين: الإمبراطورية الرومانية الغربية وعاصمتها روما، والإمبراطورية الرومانية الشرقية (البيزنطية) وعاصمتها القسطنطينية، وكانت الخلافات بين الإمبراطوريتين عميقة، وكانت الخلافة قادرة على استغلال تلك الاختلافات لفتح إسبانيا، وفتح القسطنطينية في وقت لاحق.

بالنظر إلى عهد السلطان محمد الفاتح، فقد كان السلطان الشاب يدرك أن البابا سوف يفشل في حشد الدعم الأوروبي لمساعدة الإمبراطور البيزنطي قسطنطين الحادي عشر في هجوم عسكري ضد الخلافة العثمانية، وقد استند في فهمه هذا إلى حقيقة نزاع بين طرفي الإمبراطورية الرومانية امتد لمائتين وخمسين عاما، عندما رفضت القسطنطينية دعم الحملات الصليبية الأوروبية ضد صلاح الدين، وبالتالي، فإنه عندما طلب الإمبراطور قسطنطين من البابا تعزيزات عسكرية، كان المزاج العام في أوروبا يمنع من إرسال تلك التعزيزات، فسقطت القسطنطينية بيد المسلمين في 1453م.

أوروبا اليوم تخشى من خوض الحروب في العالم الإسلامي، ومن سفك دماء أبنائها لصالح الشركات الرأسمالية متعددة الجنسيات الأمريكية. بالإضافة إلى ذلك، فإن الأوروبيين يشعرون بالاستياء بشكل كبير من قيادة أمريكا للعالم الغربي، ولا شك أن هذا الشعور سيزيد خلال رئاسة (ترامب)، مصداقا لقوله سبحانه وتعالى: ﴿لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُحَصَّنَةٍ أَوْ مِنْ وَرَاءِ جُدُرٍ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ﴾.

 على الرغم من التوترات الواضحة في العلاقات عبر الأطلسي، فإن العالم الإسلامي غير قادر على اغتنام هذه الفرصة، فلو تم توحيد البلدان الإسلامية والتي تزيد عن الخمسين دولة تحت راية الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فإنه حينها يمكن استغلال الانقسامات في الغرب، ومنع تدخله في بلاد المسلمين. لذلك يجب على المسلمين أن يعملوا لإقامة الخلافة على منهاج النبوة وأن يتوكلوا على الله سبحانه وتعالى وأن لا يخشوا من مواجهة الوحدة الوهمية للغرب.

﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي – باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست