لا يتطلب النجاح في الحرب القوة العسكرية فحسب، بل يتطلب أيضاً التفكير السياسي
لا يتطلب النجاح في الحرب القوة العسكرية فحسب، بل يتطلب أيضاً التفكير السياسي

الخبر:   أعلن الرئيس الروسي فلاديمير بوتين تعبئة عسكرية جزئية. كما أعلن أنهم يدعمون استقلال دونيتسك ولوهانسك. وقال بوتين: الدول الغربية لا تريد حلاً سلمياً في أوكرانيا و"إذا تعرضت وحدة أراضينا للتهديد، فستستخدم روسيا جميع الوسائل المتاحة، وهذا ليس خدعة". ...

0:00 0:00
Speed:
September 26, 2022

لا يتطلب النجاح في الحرب القوة العسكرية فحسب، بل يتطلب أيضاً التفكير السياسي

لا يتطلب النجاح في الحرب القوة العسكرية فحسب، بل يتطلب أيضاً التفكير السياسي

الخبر:

أعلن الرئيس الروسي فلاديمير بوتين تعبئة عسكرية جزئية. كما أعلن أنهم يدعمون استقلال دونيتسك ولوهانسك.

وقال بوتين: الدول الغربية لا تريد حلاً سلمياً في أوكرانيا و"إذا تعرضت وحدة أراضينا للتهديد، فستستخدم روسيا جميع الوسائل المتاحة، وهذا ليس خدعة".

وأكد بوتين أنه وقع المرسوم الخاص بالتعبئة الجزئية، مؤكدا أن أنشطة التعبئة الجزئية ستبدأ من اليوم.

وقال: "هدف الغرب هو إضعاف روسيا وتقسيمها وتدميرها، لقد قسموا الاتحاد السوفيتي مباشرة في عام 1991 والآن حان وقت روسيا".

وواصل بوتين خطابه للجمهور على النحو التالي:

"بدأ الغرب حرباً في عام 2014 وحول الشعب الأوكراني إلى مدفع الحرب. كان قرار العملية العسكرية الوقائية في أوكرانيا ضرورياً للغاية والقرار الوحيد الممكن، كان علينا أن نتخذه. لم نتمكن من ترك شعب دونباس وشأنه في المعنويات". (rudaw، 2022/09/21)

التعليق:

من الحقائق المعروفة أن روسيا غير القادرة على القيام بمناورات سياسية فعالة على المسرح الدولي وقعت في الواقع في فخ نصبته لها أمريكا. حتى إنه بدئ بالتعبير عنه من طرف السياسيين الغربيين. فقد صرح رئيس الوزراء الإيطالي السابق سيلفيو برلسكوني أن الرئيس الروسي فلاديمير بوتين تم دفعه إلى الحرب في أوكرانيا وأراد جلب المزيد من الأشخاص المناسبين إلى الحكومة في كييف. (يورونيوز تركيا، 2022/09/23).

في واقع الأمر فإن الخطوات الأخيرة التي اتخذتها روسيا تثبت أن أمريكا تتجه نحو تحقيق هذا الهدف؛ لأنه بعد توقيع بوتين على المرسوم الذي أعلن عن التعبئة الجزئية، كان هناك رد فعل سلبي من الصين ضد روسيا. فبعد خطوة بوتين دعا وزير الخارجية الصيني وانغ يي البلدين، مطالبا بإنهاء الحرب، وأصدر بيانا قال فيه: "الصين تدعم الجهود من أجل جميع الحلول السلمية". حتى إن وانغ عقد اجتماعاً مع وزير الخارجية الأوكراني ديميترو كوليبا في نيويورك، وقد لفت هذا الاتصال الانتباه لأنه كان أول اتصال منذ بدء الحرب. كان أحد أكبر أهداف أمريكا هو خلق شقاق كبير بين روسيا والصين. ويمكن اعتبار تصريح وزير الخارجية الصيني وانغ يي بمثابة الخطوة الأولى نحو تحقيق أعظم أهداف أمريكا.

في الواقع، في اجتماع الجمعية العامة للأمم المتحدة الذي عقد الأسبوع الماضي، بينما كان الضغط على روسيا مستمراً أدت حقيقة عدم وجود دولة بما في ذلك الصين، إلى دعم إدارة موسكو، إلى تعليقات مفادها "تم استبعاد بوتين تماماً". بالإضافة إلى ذلك جاءت ضربة أخرى من الهند التي تتمتع بعلاقات وثيقة مع أمريكا ولكنها تتعاون منذ سنوات عديدة في صناعة الدفاع وتُعرف بأنها داعمة لروسيا في الرأي العام العالمي. حيث قال وزير الخارجية الهندي سوراهمانيام جايشانكار: "كثيراً ما يسألون عن الجانب الذي نقف إلى جانبه. نحن إلى جانب السلام ونحن إلى جانب الحوار والدبلوماسية للخروج من هذه الأزمة". (وكالات).

والأسوأ من ذلك بعد إعلان بوتين التعبئة، بدأ الشعب الروسي في الفرار من البلاد بسرعة. في ماخاتشكالا، ياكوتيا، إيركوتسك، ريفتينسكي وأرخانجيلسك، عاصمة جمهورية داغستان المتمتعة بالحكم الذاتي في روسيا خرجت النساء اللواتي لا يرغبن في إرسال أزواجهن وأطفالهن إلى الجيش إلى الشوارع "لماذا تأخذ أبناءنا؟" ورددوا هتافات "من هوجم؟ روسيا تعرضت للهجوم؟ نحن من هاجم أوكرانيا. روسيا هاجمت أوكرانيا!" وقالوا "أوقفوا الحرب!".

أدى هذا الهروب من روسيا والانتشار الواسع للمظاهرات الاحتجاجية في وسائل الإعلام إلى جر روسيا إلى حالة من الشعور بالوحدة التامة والمأزق. مع نفسية الشعور بالوحدة واليأس، أدلى بوتين بالبيان التالي الذي يهدد الغرب بأسره: "إذا تعرضت وحدة أراضينا للتهديد، فستستخدم روسيا جميع الوسائل المتاحة، وهذا ليس خدعة". يعني مع هذا البيان، يقصد به أولئك الذين سيتم تجنيدهم بإعلان التعبئة العسكرية الجزئية وأنهم لن يستسلموا أبداً في المعركة. في واقع الأمر وفقاً لبيان وزير الدفاع الروسي سيرغي شويغو فإن عدد هؤلاء الجنود الاحتياطيين يبلغ 300 ألف. وستظهر الأيام التالية ما إذا كان بإمكان روسيا تحقيق النجاح في ذلك.

ومع ذلك يبدو أن أمريكا ستحقق أكبر مكاسب نتيجة لذلك؛ لأن أمريكا تريد بالفعل من روسيا أن تستنفد كل قدراتها العسكرية في هذه الحرب. عندها إما أن تقبل روسيا استنفادها الكامل وتخضع لرغبات أمريكا أو أن تقوم روسيا بخطوات غير متوقعة وتتطور الحرب الروسية الأوكرانية إلى جو يغير مسار العالم كله.

نسأل الله سبحانه وتعالى أن يكون هذا الصراع بين الدول الكافرة التي لا تقدر الإنسانية في أقل تقدير إلا طموحاتها الرأسمالية، أن يكون بداية تتويج المسلمين على وجه الخصوص وكل البشرية بشكل عام بدولة الخلافة الراشدة الثانية التي هي وصفة الخلاص. ﴿فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيباً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست