لا يُحتفل بذكرى فتح إسطنبول بزراعة الأشجار، بل بإعادة الخلافة الراشدة
لا يُحتفل بذكرى فتح إسطنبول بزراعة الأشجار، بل بإعادة الخلافة الراشدة

الخبر: احتفل الأتراك بمرور 569 عاماً على فتح إسطنبول بعيد الفتح الذي أقيم في حديقة مطار (أتاتورك) الوطنية. بمناسبة العيد، أقيمت منصات عملاقة في الحديقة كتب عليها "احتفالات الذكرى 569 لفتح إسطنبول" و"حفل غرس الشتلات الأول في الحديقة الوطنية". عولقت الأعلام التركية الكبيرة وملصقات مصطفى كمال وأردوغان في أماكن عدة في منطقة الاحتفال بالفتح. وخلال الاحتفال زرع أردوغان وزوجته أمينة الشجيرة الأولى مع الأطفال المرافقين لهما. (وكالة الأناضول 2022/05/29).

0:00 0:00
Speed:
June 09, 2022

لا يُحتفل بذكرى فتح إسطنبول بزراعة الأشجار، بل بإعادة الخلافة الراشدة

لا يُحتفل بذكرى فتح إسطنبول بزراعة الأشجار، بل بإعادة الخلافة الراشدة

(مترجم)

الخبر:

احتفل الأتراك بمرور 569 عاماً على فتح إسطنبول بعيد الفتح الذي أقيم في حديقة مطار (أتاتورك) الوطنية. بمناسبة العيد، أقيمت منصات عملاقة في الحديقة كتب عليها "احتفالات الذكرى 569 لفتح إسطنبول" و"حفل غرس الشتلات الأول في الحديقة الوطنية". عولقت الأعلام التركية الكبيرة وملصقات مصطفى كمال وأردوغان في أماكن عدة في منطقة الاحتفال بالفتح. وخلال الاحتفال زرع أردوغان وزوجته أمينة الشجيرة الأولى مع الأطفال المرافقين لهما. (وكالة الأناضول 2022/05/29).

التعليق:

توجد في تاريخ الأمة أيام مشرقة هي مصدر فخر لها. ولا شك أن فتح إسطنبول وتحويلها إلى دار الإسلام هي من أهم الأيام المشرقة في تاريخنا. وما يجعلها مهمة ومتميزة، أن بشرى الفتح قالها النبي ﷺ وأن القائد والجيش حظيا بمدح النبي ﷺ. حيث روى عبد الله بن بشر الخثعمي عن أبيه أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: «لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ، فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ». رواه أحمد

مُنح السلطان محمد لقب "الفاتح" بفتح القسطنطينية، التي لم تفتح رغم المحاولات العديدة عبر تاريخ الإسلام، فمحمد الفاتح نشأ على هذه الفكرة منذ الطفولة وهذا ما ساعده على الفتح. ومما لا شك فيه أن الله قد منح السلطان محمد الفاتح وجيشه هذا الفتح الكبير لأن قلوبهم امتلأت بالإيمان، فقاموا بالاستعدادات اللازمة وبقوا أوفياء للجهاد.

إن فتح إسطنبول كان بالفعل أحد نقاط التحول في تاريخ العالم. لأن هذا الفتح المبارك سبب هزيمة كبيرة للكفار، بينما زاد المسلمون شرفاً على شرفهم. فانتصر الحق على الباطل بأيدي المجاهدين الذين قاتلوا من أجل غايتين هما الفتح أو الاستشهاد، وانتهت الإمبراطورية الرومانية التي كان عمرها 1500 عام. ومع هذا الفتح، تم ضمان التكامل بين أراضي روميليا والأناضول وانتقلت السيطرة على طريق التجارة بين البحر الأسود والبحر الأبيض المتوسط ​​إلى العثمانيين. وبهذه الطريقة اكتسبت الدولة العثمانية سمعة شرعية وكرامة داخل الأمة الإسلامية، بحيث جعلت من إسطنبول عاصمة الخلافة.

لكن للأسف، احتُفل بفتح إسطنبول اليوم بأنشطة علمانية لا تتوافق أبداً مع روح الفتح. وتحت اسم ما يسمى باحتفال الفتح، نظمت الحفلات الموسيقية والترفيهية. وقد شهدت احتفالات هذا العام أحداثاً كادت أن تصل فيها الروح إلى القمة. حيث استخدمت أيام الأمة المشرقة في حسابات سياسية صغيرة من حكومة حزب العدالة والتنمية، التي تشعر بالقلق من خسارة انتخابات عام 2023. واختلط الحق والباطل ببعضهما؛ بالدعاء لكل من السلطان الفاتح وجيشه ومصطفى كمال! فتقول حكومة حزب العدالة والتنمية إنهم أنقذوا (أتاتورك) من انتهاكات حزب الشعب الجمهوري بهذه السياسة. ومع ذلك، في الواقع، من خلال استغلال مشاعر وأفكار المسلمين، فهو يفعل ما لا يستطيع حزب الشعب الجمهوري أن يفعله ويصرفهم عن الحقيقة.

وإلا فكيف يمكن أن يختلط غرس الأشجار في مطار بفتح أنهى حقبة وفتح حقبة أخرى؟! علاوة على ذلك، كيف يمكن لملصق مصطفى كمال، الذي حوّل آيا صوفيا - رمز الفتح - إلى متحف بعدما كانت مسجداً، كيف يمكن الثناء والتلويح به خلال الاحتفال بالفتح؟! فهذه الأحداث تثير غضباً وخيبة أمل كبيرة بين المسلمين المؤمنين بمعنى الفتح. بالإضافة إلى ذلك، موقف أردوغان عند إعادة آيا صوفيا إلى مسجد يبين أنه لا يهتم إلا بكم الأصوات والمصالح بدلاً من أن يحركه الوازع الإسلامي.

والفرق في الأمر أن الجهاد والفتح مفهومان إسلاميان مباشران، لكنهما مفهومان متجذران في دولة الخلافة العثمانية. لأن الدولة العثمانية أصبحت دولة عالمية من خلال تبني هذه المفاهيم كمبدأ. ومبدأ الجمهورية الكمالية التي تبنت شعار "سلام في الوطن، سلام في العالم"، تقوم على العداء لروح الجهاد والفتح الإسلامي. ففي مؤتمر إزمير الاقتصادي، أعرب مصطفى كمال عن هذا العداء بقوله: "وأمتنا تائهة وراء هذا الفاتح". وعندما نتذكر أن مصطفى كمال نفسه ألغى الخلافة في الثالث من آذار/مارس عام 1924م بمساعدة إنجلترا وترك الأمة الإسلامية بلا درع، فلن تكون هناك كلمات تعبر عن مشاعرنا!

الخلاصة، لا يحتفل بفتح إسطنبول بغرس الأشجار في حدائق المطار! ولا يتم الاحتفال به من خلال التلويح بملصق مصطفى كمال في ما يسمى بأعياد الفتح! على العكس من ذلك، يحتفل به بفتح إسطنبول مرة أخرى بتنظيفها من الكفر والشرك وكل أنواع الفحش وبمحاولة جعلها إسلامبول مرة أخرى، من خلال وضع راية التوحيد على قبة آيا صوفيا وإعادة الخلافة. لأن رسول الله ﷺ بشر بعودة الخلافة الراشدة، كما بشر بفتح إسطنبول من قبل. بجيوش الخلافة سيتم تطهير القدس من اليهود الملعونين، وكما بشر مرة أخرى، سيسعد المسلمون بسماع التكبيرات في روما عند فتحها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست