لا يُتخذ الكافر صديقاً (مترجم)
لا يُتخذ الكافر صديقاً (مترجم)

الخبر:   استذكر وزير الدفاع الوطني خلوصي آكار، خلال تقييمه للتطورات الأخيرة، في محادثة هاتفية مع وزير الدفاع الأمريكي مارك إسبير في 21 آب/أغسطس والتي تم فيها الاتفاق على التوصل إلى المرحلة الأولى من خطة المنطقة الآمنة. أفاد آكار أنه من المخطط إنشاء المنطقة الآمنة دون إضاعة الوقت في إطار المبادئ المحددة في التقويم، كما قال: (نواصل التنسيق وجهودنا المشتركة في هذا المجال. في محادثتنا الهاتفية مع وزير الدفاع الأمريكي إسبير، اتفقنا على أن تجتمع الوفود العسكرية مرة أخرى في أنقرة لبدء المرحلة الأولى من التخطيط ومعالجة المراحل الأخرى. بدأ مركز العمليات المشتركة العمل بكامل طاقته. يدير المركز جنرالات أتراك وأمريكيون. بدأت التطبيقات في المجال المتعلق بأنشطة المرحلة الأولى. في هذا السياق، طارت أول طائرة بدون طيار في 14 آب/أغسطس. أول رحلة هليكوبتر مشتركة تتم بعد ظهر هذا اليوم. بالإضافة إلى ذلك، بدأنا تدمير المواقع والتحصينات الإرهابية). (سي إن إن تركية، 2019/08/24م)

0:00 0:00
Speed:
August 26, 2019

لا يُتخذ الكافر صديقاً (مترجم)

لا يُتخذ الكافر صديقاً

(مترجم)

الخبر:

استذكر وزير الدفاع الوطني خلوصي آكار، خلال تقييمه للتطورات الأخيرة، في محادثة هاتفية مع وزير الدفاع الأمريكي مارك إسبير في 21 آب/أغسطس والتي تم فيها الاتفاق على التوصل إلى المرحلة الأولى من خطة المنطقة الآمنة. أفاد آكار أنه من المخطط إنشاء المنطقة الآمنة دون إضاعة الوقت في إطار المبادئ المحددة في التقويم، كما قال: (نواصل التنسيق وجهودنا المشتركة في هذا المجال. في محادثتنا الهاتفية مع وزير الدفاع الأمريكي إسبير، اتفقنا على أن تجتمع الوفود العسكرية مرة أخرى في أنقرة لبدء المرحلة الأولى من التخطيط ومعالجة المراحل الأخرى. بدأ مركز العمليات المشتركة العمل بكامل طاقته. يدير المركز جنرالات أتراك وأمريكيون. بدأت التطبيقات في المجال المتعلق بأنشطة المرحلة الأولى. في هذا السياق، طارت أول طائرة بدون طيار في 14 آب/أغسطس. أول رحلة هليكوبتر مشتركة تتم بعد ظهر هذا اليوم. بالإضافة إلى ذلك، بدأنا تدمير المواقع والتحصينات الإرهابية). (سي إن إن تركية، 2019/08/24م)

التعليق:

توجه الحياةَ البشرية، أفكارُهم عن الحياة. لذلك، يقوم الإنسان بترتيب وتنظيم علاقاته في هذه الحياة وفقاً للمعتقدات والأفكار التي يؤمن بها وينتمي إليها والتي تنبثق عنها أحكام وتشريعات معينة. إذا لم يتصرف وفقا لأحكام المعتقدات التي يؤمن بها، فسوف يكون أفسد هذه المعتقدات وضرب بقيمها عرض الحائط، وهذا ما تعبر عنه الآية الكريمة في كتاب الله العزيز ﴿فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً﴾ [النساء: ٦٥].

في هذه الآية، أكد الله تعالى أن المقياس والمعيار الأساسي للمسلمين هو أحكام الشريعة الإسلامية وربط تعالى ذلك بالإيمان. وذكر أن الإيمان، الذي هو أساس الأحكام الإسلامية، لن يكون إيماناً حقيقياً إلا إذا كان هناك خضوع كامل للأحكام الإسلامية. لذلك، من المحتم أن يكون هذا هو المقياس الأساسي لكل فرد وكل مجتمع وكل دولة تزعم أنها مسلمة. وهذا يعني أنها إن لم تكن راضية عن الأحكام الإسلامية وخاضعة لها فيكون إيمانها مجرد نظرية. ححكام تركيا يدعون دائما أنهم هم ولاة أمور المسلمين وهم من يرعون شؤونهم. ومع ذلك يقول وزير الدفاع الوطني خلوصي آكار: "لقد بدأ مركز العمليات المشتركة المشترك عمله بكامل طاقته. يتم تنفيذ قيادة المركز من الجنرالات الأتراك والأمريكيين". ومع ذلك، فإن أمريكا، التي يصفها بالشريك، هي دولة علمانية كافرة لا تعرف حدودا لعداء الإسلام والمسلمين، وهي عبارة عن مجتمع يؤمن بالعلمانية والديمقراطية والرأسمالية وغيرها من المعتقدات الباطلة، فكيف لنا كمسلمين تقيبم هذا الأمر؟

يقول الله تعالى في كتابه العزيز: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [المائدة: ٥١]

وهذا تماما هو حال المسؤولين الأتراك اليوم، على الرغم من أن الله تعالى حرم موالاة الكفار وحرم اعتبارهم حلفاء وأصدقاء، فالمسؤولون الأتراك يفعلون ذلك على الرغم من ادعائهم اعتناق العقيدة الإسلامية لكنهم في الوقت نفسه لا يطبقون احكامها، فكيف يكون هذا الاعتناق؟ إنه مجرد اعتناق نظري!

على الرغم من أن تركيا تطالب بما يسمى بالمنطقة الآمنة في شمال سوريا للقضاء على التهديد الإرهابي إلا أن الهدف الحقيقي هو تسليم إدلب لنظام الأسد. لأن هذه العملية أدت إلى تغييرات في السياسة التركية ضد أهل سوريا، بالإضافة إلى تكثيف غارات النظام السوري وروسيا في إدلب، سقط على مسار الهجرة ما يقرب من مليون في إدلب، وأخيرا تم استهداف نقاط المراقبة العسكرية التركية في إدلب واستُهدفت قوافل عسكرية تركية، وحسب هذه التطورات كلها فإنه سوف يتم تسليم إدلب للنظام السوري في المرحلة المقبلة، وفي هذه الحالة لا يوجد أمام المدنيين في إدلب مكان يفرون إليه إلا تركيا، ولكن تركيا أعلنت بشكل واضح أنها لم تعد تتحمل المزيد من اللاجئين، وهنا نستعرض تصريحات آكار بهذا الشأن: (على الرغم من كل المقاومة والتحدي إلا أن المواطنين الأبرياء يفقدون أراضيهم، أكثر من سبعمائة امرأة وطفل وشاب بريء قتلوا خلال الهجمات وأكثر من خمسمئة ألف شخص هجروا إلى حدودنا التي يعتبرونها آمنة، تركيا تستضيف الآن أكثر من أربعة ملايين سوري وليس بإمكانها استضافة المزيد، لأن تلك الهجرة سوف تكون أكبر مأساة إنسانية).

نتيجة لهذه التطورات، سوف يتم تسليم إدلب إلى النظام قريباً، فإن الشعب السوري المسلم الذي واجه كوارث لا يمكن تصورها بسبب الخيانة الغادرة التي قام بها حكام المسلمين على مدار الأعوام الثمانية الأخيرة، سيواجه الآن الموت ويُترك للموت على الحدود. ولكن الحقيقة هي أنه ما لم توجد دولة الخلافة الإسلامية التي وعد الله المسلمين بها، وليس الشعب السوري فقط وإنما المسلمون جميعا سيستمرون في هذه المعاناة، وكما نرى في الجانب الآخر فإن وعود الشيطان وأمانيه لأوليائه الحكام هي وعود وآمال لن تتحقق. يقول تعالى في كتابه العزيز: ﴿يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلاَّ غُرُوراً﴾ [النساء: ١٢٠]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست