لا يوجد ماء للشرب، لكن يوجد ما يكفي للغرق!
لا يوجد ماء للشرب، لكن يوجد ما يكفي للغرق!

الخبر:   إسلام أباد، 23 آب/أغسطس (أسوشيتدبرس باكستان): شدّدت الوزيرة الفيدرالية للتغير المناخي السيناتور شيري رحمان، خلال تصريحاتها في الإحاطة حول حالة الطوارئ الحالية للفيضانات في البلاد من طرف هيئة إدارة الأزمات الوطنية في باكستان، على الحاجة إلى تعبئة دولية ووطنية فورية للجهود الإنسانية وجهود الإنقاذ الإنسانية وإعادة تأهيل المتضررين والمتشردين من الفيضانات.

0:00 0:00
Speed:
August 28, 2022

لا يوجد ماء للشرب، لكن يوجد ما يكفي للغرق!

لا يوجد ماء للشرب، لكن يوجد ما يكفي للغرق!

(مترجم)

الخبر:

إسلام أباد، 23 آب/أغسطس (أسوشيتدبرس باكستان): شدّدت الوزيرة الفيدرالية للتغير المناخي السيناتور شيري رحمان، خلال تصريحاتها في الإحاطة حول حالة الطوارئ الحالية للفيضانات في البلاد من طرف هيئة إدارة الأزمات الوطنية في باكستان، على الحاجة إلى تعبئة دولية ووطنية فورية للجهود الإنسانية وجهود الإنقاذ الإنسانية وإعادة تأهيل المتضررين والمتشردين من الفيضانات.

التعليق:

تسببت الأمطار الموسمية في إحداث فوضى في أنحاء باكستان. وفقاً لأحدث تقرير صادر عن الهيئة الوطنية لإدارة الكوارث، لقي ما لا يقل عن 903 أشخاص مصرعهم في البلاد بسبب الأمطار الغزيرة والفيضانات هذا الصيف، بينما أصبح 50.000 شخص بلا مأوى ويعيشون في الخيام الآن. وذكرت يوم الأربعاء أن 126 شخصاً لقوا مصرعهم في حوادث مرتبطة بالفيضانات خلال الـ48 ساعة الماضية، وكان معظم الضحايا من النساء والأطفال. وقد تمّ تصنيف باكستان كواحدة من أكثر البلدان تأثراً بالمناخ في جميع أنحاء العالم من خلال مؤشر مخاطر المناخ العالمي.

إنه ليس مجرد عنصر من أمطار غزيرة ولكن عدم وجود عوائق طبيعية. إنه ليس في الواقع إهمالاً في مواكبة التغيرات البيئية بل هو سلب وحشي للموارد الطبيعية في باكستان. لا ينبغي إلقاء اللّوم على جهل الناس العاديين في إزالة الغابات على نطاق واسع. في الواقع، فإن "مافيا الأخشاب" جيدة التنظيم بدعم من السياسيين والمسؤولين الحكوميين وموظفي الغابات وراء فقدان الغطاء الحرجي الأساسي. يمكن قياس مقدار الخسارة فقط بمقارنة المساحة المغطاة بالغابات لعام 1947 والآن في وقت التقسيم، فقد كانت 33 في المائة من أراضي باكستان تغطيها الغابات والتي وفقاً للتقديرات الحالية لمنظمة الأغذية والزراعة التابعة للأمم المتحدة تبلغ الآن 2.2 في المائة.

في كل عام تتدهور الأمور أكثر وكل حكومة تلقي باللّوم على الحكومة السابقة، في حين إن الحكومة السابقة تلقي باللّوم على غياب إدارتها الرائعة. مسؤولون مثل شيري رحمان، بدلاً من تركيز جهود الإنقاذ، لا يشعرون بالخجل من إنفاق المزيد من أموال دافعي الضرائب على عقد المؤتمرات الصحفية والتوسل للجميع! لقد رأينا السكان المحليين والأشخاص من بقية باكستان يساعدون ويتطوعون من أجل إخوانهم وأخواتهم. هؤلاء هم الناس الذين هم أمل وقوة للآخرين، فخدماتهم ليست لجشع الأموال أو الشهرة أو الاسم. بينما المسؤولون المتربعون على الأموال والموارد شحذوا أسنانهم لمزيد من التفجير لضحايا الدمار. أعلن الاتحاد الأوروبي تقديم 350 ألف يورو للمساعدات الإنسانية للعائلات المتضرّرة من الفيضانات في باكستان. المسؤولون الوقحون سيبيعون الشعب الباكستاني مرةً أخرى ويحتفظون بالمال في جيوبهم. إذا ألقينا نظرة على الميزانية، فسنرى أنه لم يتم اقتراح مخصصات للكوارث الطبيعية في الخطة المالية للسنة المالية 2022-2023. فقد تمّ تخصيص 9 مليارات روبية باسم التحدي البيئي، وفي الوقت نفسه تمّ تخصيص 60 مليار روبية لشعبة مجلس الوزراء!

سكان كراتشي مصدومون للغاية لدرجة أن الغيوم أصبحت مصدر إزعاج لهم. طوال العام يتوقون إلى إمدادات المياه وفي الرياح الموسمية يصبحون ضحية للفيضانات والصعق بالكهرباء. على مرّ السنين، تمّت إساءة استخدام مصارف مياه الأمطار في كراتشي. وفي العديد من مصارف مياه الأمطار الأصغر، تمّ البناء غير القانوني. في مقال بعنوان "لماذا كراتشي تفيض؟"، كتب المهندس المعماري الشهير والمخطط الحضري، عارف حسن: "في الوقت نفسه، أنشأت حكومة السند، لاستخدامها الخاص، مرافق مواقف للسيارات، ومكاتب وسكن أعضاء مجالس المقاطعات في منطقة "نولا"، وحتى جزء منها سجل المحكمة العليا لباكستان مبني على نولا". لذلك من المفارقات أن مكتب العدل الخاص بكم يجلس على قمة سلامتكم من الفيضانات. على مدار التاريخ، كانت إمدادات المياه سبباً في قيام العديد من الحضارات وتفككها أو تقييدها أو حتى اختفائها. أدرك المسلمون طوال فترة حكمهم أهمية إدارة المياه والصرف الصحي. فقد بنى الأمويون السدود على الأنهار والوديان، وشيدوا قنوات وشبكات تحويل المياه. كما قاموا بتنظيف القنوات بشكل موسمي وبنوا ممرات مقنطرة فوق الأنهار لتسهيل حركة الركاب والبضائع ولتعزيز تدفق المياه. كان من المفترض أن يكون الهدف الأساسي من بناء السدود هو منع الفيضانات المفاجئة في الوديان، لكن تخزين المياه لاستخدامها في الزراعة أو الرعي كان يمكن أن يكون فائدة ثانوية واضحة. كما أنشأ العباسيون مكتباً لإدارة المياه، أطلقوا عليه اسم ديوان الأقرع (أي دائرة المياه).

أقام العباسيون سدوداً على نهر الفرات للسيطرة على مياهه، ومن ثمّ توزيعها باستخدام المجاري والقنوات لتحقيق أقصى فائدة وتغطية مساحة أكبر. ونتيجة لذلك، تمكنوا من زراعة وري جميع الأراضي. كما أن شبكة المياه التي أقامها العرب المسلمون في الأندلس لتزويد العاصمة الإسبانية بالمياه، لا تزال تعمل منذ إنشائها قبل قرون. واهتم الحكام العثمانيون جيداً بإمدادات المياه، وتمّ بناء السدود والخزانات والآبار والصهاريج والبرك لتجميع المياه. وتمّ بناء الممرات المائية والقنوات والمقاييس المائية لنقل المياه؛ وتم بناء خطوط الأنابيب وخزانات المياه على المجاري المائية لتوزيع المياه.

هذه ليست مجرد أمثلة ولكنها الطريقة التي تهتم بها الدولة الإسلامية بشعبها ومواردها. الحاكم المسلم الحقيقي وصي على رعاياه. وديوان الخليفة هو مسؤولية كبيرة ولا يستطيع القيام بها إلاّ المسؤول والمخلص لله تعالى. عمر بن عبد العزيز مثال ممتاز للأمير الذي يدرك حجم مسؤولياته، حيث قال: "والله كم أتمنى لو كان بيني وبين هذا الحكم مسافة بين الشرق والغرب"! ودائما ما كان يصرّ على أن يحل محله قومه إذا لم يكونوا سعداء به خليفة لهم، وهو عرض رفضوه. قال عمر لقومه: "عادة ما يعين الحكام الناس على رعاياهم. وأنا أعينكم مراقبين لي وعلى سلوكي".

عن ابن عمر عن النبي ﷺ: «أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ».

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست