لا يزال أطفال اليمن هم الضحايا في الحرب الأنجلو أمريكية التي ابتليت بها البلاد
لا يزال أطفال اليمن هم الضحايا في الحرب الأنجلو أمريكية التي ابتليت بها البلاد

الخبر: أفادت الأمم المتحدة أن الغارات الجوية التي شنها التحالف بقيادة السعودية والإمارات يوم الخميس 6 آب/أغسطس في محافظة الجوف التي يسيطر عليها الحوثيون شمال اليمن قتلت 9 أطفال على الأقل. كما ذكرت وزارة الصحة فيما يتعلق بالمناطق التي يسيطر عليها الحوثيون أنه إلى جانب الوفيات، أصيب 12 طفلاً وامرأة. وهذا هو الهجوم الثالث من نوعه للتحالف خلال الشهر الماضي وحده والذي أدى إلى وفيات كبيرة في صفوف الأطفال في البلاد.

0:00 0:00
Speed:
August 13, 2020

لا يزال أطفال اليمن هم الضحايا في الحرب الأنجلو أمريكية التي ابتليت بها البلاد

لا يزال أطفال اليمن هم الضحايا في الحرب الأنجلو أمريكية التي ابتليت بها البلاد

(مترجم)

الخبر:

أفادت الأمم المتحدة أن الغارات الجوية التي شنها التحالف بقيادة السعودية والإمارات يوم الخميس 6 آب/أغسطس في محافظة الجوف التي يسيطر عليها الحوثيون شمال اليمن قتلت 9 أطفال على الأقل. كما ذكرت وزارة الصحة فيما يتعلق بالمناطق التي يسيطر عليها الحوثيون أنه إلى جانب الوفيات، أصيب 12 طفلاً وامرأة. وهذا هو الهجوم الثالث من نوعه للتحالف خلال الشهر الماضي وحده والذي أدى إلى وفيات كبيرة في صفوف الأطفال في البلاد. وقد أفادت الأمم المتحدة في 14 تموز/يوليو أن غارة جوية في محافظة حجة أسفرت عن مقتل 7 أطفال، بعضهم لا تزيد أعمارهم عن عامين، بينما أفاد عمال الإغاثة في اليوم التالي بوقوع ضربة جوية للتحالف بقيادة السعودية والإمارات أصابت احتفالا في الجوف قتل فيه ما لا يقل عن 10 مدنيين، بينهم 6 أطفال وامرأتان، في ختان المولود الجديد.

التعليق:

بلغ عدد القتلى من الأطفال الذين قتلوا في هذه الحرب بالوكالة بين أمريكا وبريطانيا على النفوذ السياسي في اليمن حوالي 3500 بحسب أرقام الأمم المتحدة. وهذا لا يشمل الأعداد التي لا حصر لها من المصابين جراء النزاع أو الذين ماتوا من الجوع والكوليرا وغيرها من الحالات التي كان من الممكن الوقاية منها والناتجة عن هذه الحرب التي استمرت خمس سنوات والتي خلقت أسوأ أزمة إنسانية في العالم كان الأطفال ضحاياها الأساسيين. حيث تحتاج 80٪ من البلاد الآن إلى مساعدات إنسانية. يُذكر أن طفلاً دون سن الخامسة في اليمن يموت كل 10 دقائق لأسباب يمكن الوقاية منها. وفي حزيران/يونيو من هذا العام، ذكرت اليونيسف أن 2.4 مليون طفل في البلاد على شفا المجاعة وأن 9.58 مليون طفل ليس لديهم ما يكفي من المياه الصالحة للشرب والنظافة والصرف الصحي، ما يعرضهم لخطر أكبر للوفاة من العدوى.

تلعب القوى الاستعمارية الغربية في العالم مثل رقعة الشطرنج، وتحرك قطعها، وتحرض على الحروب بين مختلف عملائها لتحقيق مكاسب سياسية ومالية، بغض النظر عن التكاليف البشرية؛ ما يعكس الطبيعة غير الواعية للسياسة الخارجية الاستعمارية الرأسمالية للدول الغربية. بالنسبة لأولئك الذين يدرسون هذا الصراع بما يتجاوز مظاهره السطحية، من الواضح أنه أكثر من مجرد حرب طائفية بالوكالة بين السعودية ودول الخليج الأخرى وإيران. لقد كانت مدفوعة برغبة الولايات المتحدة في الحصول على موطئ قدم سياسي في بلد كان في قبضة الحكم الاستعماري البريطاني والنفوذ لمدة 170 عاماً، بما في ذلك في عهد الدكتاتور علي عبد الله صالح المدعوم من بريطانيا. ولتحقيق هدفهم، دعم الأمريكيون عملاءهم من قيادة الحوثيين للوصول إلى السلطة في حكومة عبد ربه منصور هادي المدعومة من بريطانيا في صنعاء. ثم استخدموا نظامهم الدمية السعودي لتدمير البلاد، وتدمير المدارس والمستشفيات، وقتل الآلاف من المدنيين الأبرياء في "عملية عاصفة الحزم" من أجل إيجاد الدعم والشرعية العامة لحكم الحوثيين بين سكان اليمن من خلال تقديمهم على أنهم الأبطال والمدافعون عن أرضهم ضد العدوان الأجنبي. كان هذا كله لإعادة تشكيل المشهد السياسي في اليمن لصالح أمريكا من خلال تأمين شريحة أكبر لعملائها في الحكم المستقبلي لهذه البلاد الاستراتيجية والمليئة بالموارد. في غضون ذلك، استخدم البريطانيون دميتهم الإقليمية، الإمارات للاحتفاظ بنفوذهم في البلاد، من خلال شن الحرب الحقيقية ضد الحوثيين، ومحاولة اقتلاع النفوذ الأمريكي في جنوب اليمن، عبر تقديم دعمها للوصول للسلطة في المجلس الانتقالي الجنوبي المدعوم من الإمارات في عدن.

وها نحن هنا، في حرب استعمارية بالوكالة مدفوعة بالجشع المستمر للحكومات الاستعمارية الغربية، وحيث يُنظر إلى وفاة الآلاف من أطفال اليمن على أنها مجرد أضرار جانبية مقبولة وثمن يستحق دفعه مقابل مكاسبهم السياسية! هذه الحكومات لم تسع فقط إلى تأمين ميزة سياسية من إراقة دماء المسلمين ولكنها جنت الملايين من تجارة الأسلحة للأطراف المتحاربة. وها نحن في صراع تقبل فيه الأنظمة القائمة في البلاد الإسلامية وحركة الحوثيين أن تستخدم بيادق لقتال إخوانهم المسلمين خدمة للمصالح الأنجلو أمريكية، رغم أن الله سبحانه وتعالى يقول: ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً﴾، ويقول الرسول ﷺ: «كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ». إنه صراع لا يؤدي فيه أي حل مزعوم توسطت فيه الأمم المتحدة إلى إزالة اضطهاد وبؤس مسلمي اليمن، فقد أثبتت الأمم المتحدة مراراً وتكراراً أنها بعيدة كل البعد عن كونها وسيطاً محايداً في الحروب، بل خدمت دائماً كأداة للسياسة الخارجية الأمريكية ولتأمين المصالح الأمريكية عالمياً. نرى على سبيل المثال، كيف أزالت الأمم المتحدة الشهر الماضي التحالف الذي تقوده السعودية من قائمتها السوداء للدول التي قتلت وآذت الأطفال في النزاع. هذا على الرغم من حقيقة أن عمليات التحالف، وفقاً لتقريرها الخاص، قتلت أو أصابت 222 طفلاً في اليمن في عام 2019 وحده، وآلاف الأطفال طوال مدة الحرب.

وهكذا يستمر حمام دماء أطفال اليمن حتى تنقطع يد الاستعمار عن هذه البلاد، وحتى تُقتلع الأنظمة والحركات والقيادات التي تخدم مصالح القوى الاستعمارية في المنطقة ويُستبدل بها نظام مستقل وقيادة مستقلة. نظام يخدم بصدق المصالح ويحمي حقوق الجميع تحت حكمه - السنة والشيعة على حد سواء - إلى جانب تجسيد الحلول السليمة لجميع المشاكل الإنسانية. فهل يمكن لمثل هذا النظام أن يأتي من أي مصدر آخر غير رب العالمين الله سبحانه وتعالى؟ لذلك فإننا ندعو مسلمي اليمن إلى النظر إلى ما وراء الألعاب السياسية الاستعمارية التي تمزق بلادهم وتجعلها مقبرة لأبنائهم. وندعوكم جميعا لتقديم دعمكم للتعجيل بقيام الخلافة على منهاج النبوة والتي يمكنها وحدها إنهاء كابوسكم المستمر.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست