لا يزال حكام السودان ينتظرون الوعود الأمريكية المكذوبة!
لا يزال حكام السودان ينتظرون الوعود الأمريكية المكذوبة!

الخبر:   قال وزير الخارجية السوداني، إن بلاده في انتظار إيفاء أمريكا برفع العقوبات بحلول تشرين الأول/أكتوبر. ونقل إبراهيم غندور إلى وفد من الكونغرس الأمريكي يزور الخرطوم حاليا، خلال اجتماع عقد الخميس أن السودان "أثبت التزاماً بما تم الاتفاق عليه وأنه سيواصل تعاونه، في انتظار وفاء الجانب الأمريكي برفع العقوبات الاقتصادية في تشرين الأول/أكتوبر المقبل". وقال المتحدث باسم وزارة الخارجية السودانية، قريب الله خضر، في تصريح، إن لقاء غندور بوفد الكونغرس تناول مسار العلاقات الثنائية بالتركيز على المنجزات التي تحققت على صعيد خطة المسارات الخمسة. وهي شروط وضعتها واشنطن لرفع العقوبات عن الخرطوم، وتشمل تحسين دخول المساعدات الإنسانية، المساعدة في عملية السلام بجنوب السودان، وقف القتال في "إقليم دارفور ومنطقتي النيل الأزرق وجنوب كردفان"، والتعاون مع وكالات الاستخبارات الأمريكية في مكافحة (الإرهاب) (سودان تربيون).

0:00 0:00
Speed:
September 07, 2017

لا يزال حكام السودان ينتظرون الوعود الأمريكية المكذوبة!

لا يزال حكام السودان ينتظرون الوعود الأمريكية المكذوبة!

الخبر:

قال وزير الخارجية السوداني، إن بلاده في انتظار إيفاء أمريكا برفع العقوبات بحلول تشرين الأول/أكتوبر. ونقل إبراهيم غندور إلى وفد من الكونغرس الأمريكي يزور الخرطوم حاليا، خلال اجتماع عقد الخميس أن السودان "أثبت التزاماً بما تم الاتفاق عليه وأنه سيواصل تعاونه، في انتظار وفاء الجانب الأمريكي برفع العقوبات الاقتصادية في تشرين الأول/أكتوبر المقبل". وقال المتحدث باسم وزارة الخارجية السودانية، قريب الله خضر، في تصريح، إن لقاء غندور بوفد الكونغرس تناول مسار العلاقات الثنائية بالتركيز على المنجزات التي تحققت على صعيد خطة المسارات الخمسة. وهي شروط وضعتها واشنطن لرفع العقوبات عن الخرطوم، وتشمل تحسين دخول المساعدات الإنسانية، المساعدة في عملية السلام بجنوب السودان، وقف القتال في "إقليم دارفور ومنطقتي النيل الأزرق وجنوب كردفان"، والتعاون مع وكالات الاستخبارات الأمريكية في مكافحة (الإرهاب) (سودان تربيون).

التعليق:

أذكّر بمقابلة أجرتها صحيفة الشرق الأوسط مع الرئيس البشير، يوم الخميس 28 ربيع الثاني 1438هـ، 26 كانون الثاني/يناير 2017م، العدد (13939)، بخصوص العلاقات السودانية الأمريكية، ومحاولات حكومة السودان، التقرب إلى واشنطن، والتفاني في تنفيذ المطالب الأمريكية، مظنة رفع العقوبات عن الخرطوم، فقد سألت الصحيفة: (فخامتكم، انتهى عهد الرئيس الأمريكي باراك أوباما بانفراج فيما يتعلق بالعقوبات... هل تتوقعون في عهد الرئيس الأمريكي الجديد دونالد ترمب استمرار هذا الاتجاه الإيجابي؟)

فكان رد البشير هو (إن رفع العقوبات الأمريكية عن السودان كان وعدًا قديمًا، حيث بدأت المحادثات بشأنه قبل عام 2000، بدأ بشرط واحد ولكن تلته شروط أخرى، فبدأت الطلبات بتوقيع اتفاقية سلام في جنوب السودان، فوقّعنا الاتفاقية، غير أن واشنطن طالبت باتفاقية أخرى في دارفور، والكلام نفسه تكرر بأنه في حالة وقعنا الاتفاقية في دارفور سترفع كل العقوبات، وبالفعل عملنا اتفاقية في دارفور، وجاء وعدهم الثاني أننا لو نفذنا اتفاقية السلام في جنوب السودان، أيضًا، سترفع العقوبات، وهكذا دواليك، وبالتالي إن رفع العقوبات كان وعدًا قديمًا يؤجل كل مرة، عمومًا كانت هناك جهود مستمرة لدعم موقف السودان، من أجل رفع العقوبات عنه، وبدأنا حوارًا جادًّا مع الإدارة الأمريكية السابقة في عهد الرئيس السابق باراك أوباما، وأخيرًا تم ذلك، حيث أصدر الرئيس الأمريكي السابق أوباما قرارًا بإلغاء العقوبات جزئيًا عن السودان، علمًا أنها مُررت في عهد الرئيس الأسبق بيل كلينتون، وقناعتنا أنه أزيلت عقبة مهمة جدًا أمام العلاقات السودانية - الأمريكية، وهي إزالة العقوبات من قبل رؤساء أمريكا السابقين، ولكن ما زالت لدينا ملفات مفتوحة مع أمريكا، مثل ملف (الإرهاب)، وهو ملف مهم جدًا تأكدت من خلاله أن السودان لا يؤوي (الإرهاب) ولا يغذيه ولا يموّله، بل إن السودان متعاون جدًا في مكافحة (الإرهاب)، وهناك توقعات بأن الأمور ستمضي نحو الأفضل، في عهد الإدارة الأمريكية الجديدة).

ثم سألت الصحيفة البشير: هناك خمسة مطالب كشروط لرفع العقوبات، منها ما يتعلق بجنوب السودان ومنها ما يتعلق بجيش الرب؟... فأجاب البشير: (بالفعل كانت هناك خمسة محاور لرفع العقوبات، والسودان أوفى بذلك، منها توقيع اتفاقية السلام في جنوب السودان وكنّا قد أوفينا بها، وكل العالم والدول المجاورة تعلم أن لدينا جهودًا كبيرة جدًا ومحاولة للعمل على استقرار جنوب السودان، العامل الثاني هو أننا أكدنا أنه ليست لدينا علاقة بجيش الرب بل حتى الأوغنديون أنفسهم أكدوا ذلك، فلا وجود لجيش الرب في السودان ولا ندعمه بأي شكل. على صعيد العامل الثالث المعني بقضية السلام في السودان، كنا قد نفذنا الاتفاقيات كاملة، فيما يتعلق بالمنطقتين في جنوب كردفان وفي منطقة النيل الأزرق... وبالتالي تبقى كل الملفات أمام الإدارة الأمريكية مستوفية الشروط، بما فيها ملف (الإرهاب)، مع تأكيدها على أن هذا الملف لم يكن به مشكلة أصل)!! فهل أدرك البشير حديث الرسول r: «فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ»

ثم ذهب البشير يكشف علاقة أمريكا بملف الجنوب حينما أجاب عن سؤال: متى بدأت الاتصالات السودانية - الأمريكية بهذا الشأن وأين؟ فاعترف قائلاً: (بدأت هذه الاتصالات منذ أن توسطت أمريكا لاتفاقية السلام في جنوب السودان، وكان مبعوث الرئيس الأمريكي وقتها السيناتور جون دانفورث، وهو الذي تابع معنا كل الاتصالات والمقابلات في ذلك الوقت والتي توصلنا بموجبها إلى التعاون مع دول (إيقاد)، وآخرين إلى اتفاقية السلام الشامل، فكانت هذه الاتصالات الأولى والتي بموجبها أعطونا أول وعد، بـ"روشتة" محددة جدًا، وبعد أن وقعنا هذه الاتفاقية، وعدونا بإزالة جميع العقبات أمام العلاقات الثنائية. وبعد المبعوث الأمريكي جون دانفورث جاء روبرت زوليك الذي كان رئيس البنك الدولي ونائبًا لوزير الخارجية، وجاء بعده آخرون وواصلوا معنا لفترة في الاتجاه نفسه، من بينهم الجنرال اسكوت غرايشون، وبرنستون ليمان، وأخيرًا دونالد بوث).

إذن، إن الإملاءات الأمريكية على السودان واضحة، من خلال مواقف الإدارات الأمريكية في تعامها مع قضايا السودان، حيث ترغب هذه الإدارات في تنفيذ الحكومة كل المطلوب دون جزرة موعودة بها، (وتسويفات) يسيل لها لعاب طاقم الحكم في الخرطوم. ولكن مواقف الحكومة السودانية و(عشمها) في تحقيق تقدم في مسار العلاقات الثنائية، لا يزال قائماً رغم اعتراف البشير بمراوغات أمريكا، وغشها، وخداعها لهم، وذلك لأن النظام الحاكم في الخرطوم، يغض الطرف عن واقع أمريكا المخادع، وغير مستعد لسماع قول المولى عز وجل: ﴿إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لا يُؤْمِنُونَ * الَّذِينَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لا يَتَّقُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يعقوب إبراهيم (أبو إبراهيم) – الخرطوم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست