لإحياء مجدها من جديد يجب على الأمة الإسلامية التخلص من بيادق السياسة الاستعمارية الإنجلوأمريكية (مترجم)
لإحياء مجدها من جديد يجب على الأمة الإسلامية التخلص من بيادق السياسة الاستعمارية الإنجلوأمريكية (مترجم)

الخبر:   وفقا لأخبار الخليج في 22 آب/أغسطس 2017 فإنه قد تم الترحيب بحرارة بالشيخ عبد الله بن علي آل ثاني، سليل مؤسسة دولة قطر، في السعودية من قبل الأمير محمد بن سلمان، ثم أكمل وجهته نحو المغرب، حيث تمت استضافته من قبل الملك سلمان الذي كان يقضي عطلته في طنجة. وقال الشيخ عبد الله: إن الملك سلمان ونجله وافقا على فتح الحدود البرية الوحيدة في قطر، حيث توقف إغلاقها يوم 5 حزيران/يونيو، سامحين للحجاج بالسفر إلى مكة المكرمة. كما أن الملك قد عرض حتى إرسال طائرات متحملا النفقات، لييسّر لعبد الله الطيران إلى بلدان أخرى، كما وأنشأ مركزا للعمليات بطلب من الشيخ لمساعدة القطريين المتورطين في الأزمة.

0:00 0:00
Speed:
August 26, 2017

لإحياء مجدها من جديد يجب على الأمة الإسلامية التخلص من بيادق السياسة الاستعمارية الإنجلوأمريكية (مترجم)

لإحياء مجدها من جديد

يجب على الأمة الإسلامية التخلص من بيادق السياسة الاستعمارية الإنجلوأمريكية

(مترجم)

الخبر:

وفقا لأخبار الخليج في 22 آب/أغسطس 2017 فإنه قد تم الترحيب بحرارة بالشيخ عبد الله بن علي آل ثاني، سليل مؤسسة دولة قطر، في السعودية من قبل الأمير محمد بن سلمان، ثم أكمل وجهته نحو المغرب، حيث تمت استضافته من قبل الملك سلمان الذي كان يقضي عطلته في طنجة. وقال الشيخ عبد الله: إن الملك سلمان ونجله وافقا على فتح الحدود البرية الوحيدة في قطر، حيث توقف إغلاقها يوم 5 حزيران/يونيو، سامحين للحجاج بالسفر إلى مكة المكرمة. كما أن الملك قد عرض حتى إرسال طائرات متحملا النفقات، لييسّر لعبد الله الطيران إلى بلدان أخرى، كما وأنشأ مركزا للعمليات بطلب من الشيخ لمساعدة القطريين المتورطين في الأزمة.

وقد نفت السعودية والحلفاء الذين قطعوا العلاقات الدبلوماسية والتنقل مع قطر في حزيران/يونيو طلب تغيير النظام في الدوحة، مما أحدث تطورا مفاجئا في ظهور الشيخ في الصفحة الأولى. وقال عبد الخالق عبد الله المحلل السياسي في الإمارات إن الترويج لهذا يشكل جزءا من خطة تهدف لزيادة الضغط على الحاكم القطري الشيخ تميم بن حمد آل ثاني الذي رفض الاستسلام لشروط التكتل الثلاثة عشر الهادفة لإنهاء الخلاف.

التعليق:

للوهلة الأولى، قد يقول كثير من الناس إن الخلاف المستمر بين قطر والسعودية يتعلق بمكافحة (الإرهاب) وبسبب قرب قطر من إيران أو دعمها لحماس والإخوان المسلمين. ولكن، إذا تعمقنا قليلا، سوف نرى أنّ هذه القضايا قد حدثت منذ فترة طويلة جدا. وقد ظهرت هذه المسائل والقضايا بشكل مفاجئ بعد زيارة دونالد ترامب إلى السعودية، وبعدها تم اتهام قطر فجأة بدعم (الإرهاب). إن تحكم الغرب المستعمر بالبلاد الإسلامية بأكملها هو سر مكشوف. ومن المعروف أن السعودية، تعمل لضمان وتأمين المصالح الأمريكية في الشرق الأوسط، باعتبارها عميلا مخلصا لأمريكا. أما قطر فهي من خلال قناة الجزيرة، مثلا تكشف باستمرار سياسات أمريكا وتهاجم عملاءها في المنطقة نيابةً عن بريطانيا، والسعودية تعمل نيابة عن أمريكا، فتمنع أي عميل بريطاني من التدخل في الخطط الأمريكية في هذه المنطقة. ومن هنا، فإن هذا العداء ليس له علاقة بـ(الإرهاب). بل هذا العداء هو في الواقع نتيجة التنافس بين أمريكا وبريطانيا على السيطرة على حقول النفط وغيرها من المناطق ذات الأهمية الاستراتيجية في الشرق الأوسط. يقول الله سبحانه في القرآن الكريم ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ * قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ﴾.

ومع كل هذا العصيان لأوامر الله الذي يرتكبه حكام العالم الإسلامي، ما زال كثير من الناس يعتبرونهم ولاة أمر، مع أن كراهيتهم للإسلام لا تعرف أي حدود! حيث يتخذون من مصطلح "الحرب على الإرهاب" أداة للقتل وسفك الدماء. فقتل الغرب الاستعماري المسلمين بوحشية ودعم الأنظمة القاتلة في العالم الإسلامي لعقود. وبسبب هذه السياسة الغربية المروعة، قتل أكثر من 500،000 إنسان في سوريا على يد نظام بشار السفاح، وتشرد أكثر من نصف أهل سوريا، ويعيش بقية السكان تحت الرصاص والقنابل. وبدلاً من مساندة ودعم هؤلاء المسلمين الذين لا حول لهم ولا قوة، بدأ النظام السعودي حربا جديدة بالوكالة في اليمن نيابة عن أسيادهم المستعمرين. وهذه الحرب تسببت في وقوع آلاف القتلى، وتجويع الملايين من الناس. ومن ناحية أخرى، ومع أن قطر، تعتبر واحدة من أغنى دول العالم، إلا أنها لم تقدم مساعدة لإخوانها المسلمين. وبدلا من ذلك سمحوا لأمريكا بتشييد أكبر قاعدة عسكرية لها على أراضيهم، لتصبح منصة تنطلق منها الطائرات الأمريكية لنشر القتل والدمار بين المسلمين في العراق وأفغانستان وسوريا واليمن. إن صرخات المسلمات في اليمن، وسوريا، وبورما، وأفغانستان، والعراق، لم تقع في أذن الصم حكام المسلمين. فهم مشغولون بخدمة أسيادهم المستعمرين لتأمين مكاسبهم الدنيوية. كما أن السعودية وحلفاءها قاطعوا قطر لكنهم لم يقاطعوا كيان يهود المجرم على جرائمه المستمرة ضد المسلمين في فلسطين ولم تتوعد أبدا بإعلان حرب أو اتخاذ أي خطوة ضد القوى الاستعمارية الغربية التي تعتبر القوة الإرهابية الأولى في العالم. إن حكام المسلمين يحملون بين جنوبهم قلوبا قاسية مليئة بالضغينة على بعضهم بعضا ولا سيما على المسلمين ولكنهم مستعدون للتضحية بكل ما يملكون لمساندة قوى الكفر، حيث يقول الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم، ﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾.

لقد آن الأوان لرفض بيادق الغرب هذه في العالم الإسلامي. فهم لم يجلبوا شيئا سوى الدمار الذي لا نهاية له، وإخضاع الأمة الإسلامية لهم. لقد حان الوقت لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. لأنها هي فقط التي سوف تحرر العالم الإسلامي من التبعية للغرب الكافر المستعمر؛ مثل ما هو حاصل في قطر والسعودية، وبهذا تنهي هذه الحرب المستعرة على المسلمين، والأهم من ذلك كله هو أن الخلافة الراشدة ستعيد للأمة الإسلامية مجدها وعزها.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فهميدة بنت ودود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست