لإسلاميي أنظمة الخيانة والعار  ثوبوا إلى رشدكم فما أبقت إبادة غزة وأهوال جباليا لمتهوّك من عذر!
لإسلاميي أنظمة الخيانة والعار  ثوبوا إلى رشدكم فما أبقت إبادة غزة وأهوال جباليا لمتهوّك من عذر!

الخبر: قال مراقب عام جماعة الإخوان المسلمين في الأردن، مراد العضايلة، مخاطبا شباب الجماعة، إن عليهم عدم الاستعجال، وإن المعركة قادمة. وفي حديث لإذاعة "حسنى" المحلية، قال العضايلة: "رسالتي لشباب الحركة الإسلامية بعد عملية البحر الميت هي ألا تتعجلوا، المعركة قادمة، ونحن في الأردن دولة، ولدينا جيش وقيادة".

0:00 0:00
Speed:
October 25, 2024

لإسلاميي أنظمة الخيانة والعار ثوبوا إلى رشدكم فما أبقت إبادة غزة وأهوال جباليا لمتهوّك من عذر!

لإسلاميي أنظمة الخيانة والعار

ثوبوا إلى رشدكم فما أبقت إبادة غزة وأهوال جباليا لمتهوّك من عذر!

الخبر:

قال مراقب عام جماعة الإخوان المسلمين في الأردن، مراد العضايلة، مخاطبا شباب الجماعة، إن عليهم عدم الاستعجال، وإن المعركة قادمة.

وفي حديث لإذاعة "حسنى" المحلية، قال العضايلة: "رسالتي لشباب الحركة الإسلامية بعد عملية البحر الميت هي ألا تتعجلوا، المعركة قادمة، ونحن في الأردن دولة، ولدينا جيش وقيادة".

وأكد العضايلة أن "الإخوان المسلمين" على قناعة تامة بأنه "ليس لنا في هذه المرحلة إلا أن نحافظ على الأردن واستقراره، وهذا يتطلب وحدة المجتمع وتماسكه". (عربي21، 20/10/2024م)

التعليق:

لأصحاب العقائد الباردة وزيف الفقه المستنبط من الأوراق الباردة بعيداً عن حياتنا الحارقة ومأساتنا الداهية وإبادة غزة وأهوال جباليا المزلزلة الدائرة رحاها بأشلاء أبنائنا ودماء أكبادنا نطحن ونسحق ونحرق، للمتهوكين الغاوين لمن جعلوا موالاة أنظمة الخيانة والعار دينهم وديدنهم، لمن اتخذوا دينهم حلاً وسطا واتخذوا من الزيغ فقهاً يجمع بين المتناقضات المستحيلات، ولاء لله وولاء للخائن العميل عدوه، أمانة الدين واستئمان الخونة المحادين له!

عجبا لمن تبرأوا من الجهاد وما تبرأوا من الخيانة! عجبا لمن ثبطوا المجاهدين وما أنكروا على المتخاذلين ولا حاسبوا الخوان المتآمر!

أما تستحيون؟! أما تخافون يوما كان شره مستطيرا؟!

عجبا لهذه العقول كيف تعقل ولهذه القلوب كيف تفقه، نخاطب فيكم وبكم كل المتهوكين فما أبقت إبادة غزة وأهوال جباليا لمتهوك من عذر، نقولها لكم قولا فصلا معذرة إلى ربنا:

للإسلاميين الراقصين على حبال العلمانية الغربية وحلها الوسط، للمنغمسين في أنظمة الخيانة والعمالة والعار الغارقين في مستنقعها الشديد العفن، من بديهيات هذا الدين أن لا صلاة بلا طهور ولا سياسة بلا إسلام...

للإسلاميين الذين ما انفكوا يُلدغون من جحر علمانية الغرب الكافرة الفاجرة المرة تلو الأخرى، وتنطلي عليهم خدعة وخديعة الحل الوسط، ويتوهمون في ضحالتهم الفكرية وعقمهم السياسي أن الحل الوسط العلماني هو حل توافقي بين إسلام رب العالمين وعلمانية الغرب الكافر بل وأنظمة الخيانة والعار التي أقامها الاستعمار...

نقولها لكم قولا واحدا: الحل الوسط هو آلية العلمانية في معالجة قصور العقل العلماني وعجزه ومحدوديته في حل المشكلة الإنسانية وأنظمة المجتمع المتعلقة بالعلاقات بين بني الإنسان، فلقد ابتدعت العلمانية الغربية في إفلاسها وفشلها الحل الوسط للتوافق على حلول علمانية وضعية بعد أن تَحَيَّرَ عقل الواضع الغربي وعجز عن الحل، فأسندت عقله القاصر وأمدته بعقول عاجزة تحت مسمى الحل الوسط للإيهام بأن مجموعة من العقول العلمانية العاجزة القاصرة أقدر من العقل العلماني العاجز القاصر الواحد على إيجاد الحل!!

فالحل الوسط العلماني الغربي الوضعي هو من داخل النسق العلماني وهو آلية علمانية لفرز وتوليد نتائج علمانية وضعية صرفة، فالحل الوسط لا يبحث البتة في حلول من خارج المنظومة العلمانية، وليس من العلمانية في شيء بحث الحل الذي يقدمه الدين أيّ دين، ومن باب أولى الإسلام العظيم الذي ينازع ويصارع الغرب وعلمانيته ودوله فكريا وثقافيا وحضاريا وسياسيا.

 فلا يعتبر موضوعا أصلاً من الناحية العلمانية التوافق بين الحل العلماني الغربي الوضعي والحل الشرعي الإسلامي، فإقحام الدين كحلول في المنظومة العلمانية يعتبر ردة عن العلمانية وذلك الذي ترفضه العلمانية رفضا مطلقا، فهي بالأساس قائمة على فصل الدين عن الحياة وليس التوافق معه.

لإسلاميي زمن الانحطاط والانبطاح كفى وهماً، ليس مع الحل الوسط العلماني شطر أو بعض من حكم شرعي، فالحل الوسط هو توافق على حل علماني صرف، فتوافق القوم حول تعديل نسبة الربا من 2% إلى 0% لا يعتبر تحريما للربا، بل هو حل علماني للمعضلة الاقتصادية في ظل العلمانية في ظرف معين، وبحسب الظرف الاقتصادي العلماني تعدل نسبة الربا سلبا أو إيجابا، وقس على ذلك.

ما كانت العلمانية الغربية الكافرة لتكون قنطرة لتمرير أحكام شرع رب العالمين، بل هي في جذرها الفلسفي نسف للدين واستئصال لمفاهيمه وأحكامه من حياة البشر. وأنظمة الخيانة والعار القائمة في بلاد المسلمين هي أدوات الاستعمار لتنفيذ سياساته وإنجاز مشاريعه العلمانية الاستعمارية، وقد صيرتكم جزءا من أدواتها في شراء وقت لتمديد عمر خيانتها، وهي تحيا زمن تعفنها وفنائها، فبئس الصنيع صنيعكم!

ففصل الدين عن الحياة هو مفهوم استئصالي للدين وليس مفهوما توافقيا حوله، والحل الوسط هو ماكينة العلمانية لتوليد أنظمتها الوضعية وتجريد الحياة من شرع رب العالمين.

لإسلاميي زمن الانحطاط والانبطاح كفى توهماً، فليس مع علمانية الغرب الكافرة الفاجرة تدرجٌ نحو الإسلام، بل كل أمرها تدرّكٌ صوب الردة عن الإسلام!

لقد ارتقيتم مرتقىً صعبا فما تركت لكم إبادة غزة وأهوال جباليا من عذر، تثبطون وتنكرون على الذابّين عن حرمات الله الساعين في أمره نصرة لإخوانهم رغم قلة حيلتهم وضعف حالهم، وتسكتون على النظام الخائن العميل المتآمر وهو صاحب الجيش والآلة والعدة والعتاد! ما أقبحها وأشنعها من خيانة لأمانة الدين ودماء المسلمين!

ليس مع العلمانية الغربية الكافرة الفاجرة وأنظمة الخيانة والعار أنظمة الاستعمار تقوى ولا هدى ولا رشاد ولا فلاح بل كل أمرها بوار وخسران للدنيا والآخرة.

فاعقلوها قبل أن ترتدوا على أدباركم فتنقلبوا خاسرين! ونعوذ بالله من سوء المنقلب.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست