لم يعد سرا: تواصل كيان يهود مع دول الخليج العربي (مترجم)
لم يعد سرا: تواصل كيان يهود مع دول الخليج العربي (مترجم)

الخبر:   تباهى رئيس وزراء كيان يهود نتنياهو منذ سنوات بالعلاقات مع الدول العربية الرئيسية، لكن هذه العلاقات نادراً ما كانت تُرى. كان مشهداً لا يصدق قبل بضعة أسابيع: وزيرة في حكومة كيان يهود، دموع الفرح تملأ عينيها، وهي تنشد بفخر النشيد الوطني لبلادها في حدث رياضي في قلب العالم العربي. كان مشهد ميري ريجيف وهي تغني "هاتيكفا"، الذي يصف التوق اليهودي لإقامة وطن في صهيون، واحداً فقط من سلسلة من الظهورات العامة لمسؤولين في كيان يهود في دول الخليج العربي والتي خرقت المحرمات ودفعت القنوات الخلفية التي كانت سائدة في السابق إلى الوصول إلى الرأي العام.

0:00 0:00
Speed:
November 06, 2018

لم يعد سرا: تواصل كيان يهود مع دول الخليج العربي (مترجم)

لم يعد سرا: تواصل كيان يهود مع دول الخليج العربي

(مترجم)

الخبر:

تباهى رئيس وزراء كيان يهود نتنياهو منذ سنوات بالعلاقات مع الدول العربية الرئيسية، لكن هذه العلاقات نادراً ما كانت تُرى.

كان مشهداً لا يصدق قبل بضعة أسابيع: وزيرة في حكومة كيان يهود، دموع الفرح تملأ عينيها، وهي تنشد بفخر النشيد الوطني لبلادها في حدث رياضي في قلب العالم العربي. كان مشهد ميري ريجيف وهي تغني "هاتيكفا"، الذي يصف التوق اليهودي لإقامة وطن في صهيون، واحداً فقط من سلسلة من الظهورات العامة لمسؤولين في كيان يهود في دول الخليج العربي والتي خرقت المحرمات ودفعت القنوات الخلفية التي كانت سائدة في السابق إلى الوصول إلى الرأي العام.

يتباهى رئيس وزراء يهود بنيامين نتنياهو منذ سنوات بتوثيق العلاقات مع الدول العربية الرئيسية التي لا تقيم علاقات دبلوماسية مع كيان يهود. لكن تلك الروابط - التي لا تزال غير شعبية إلى حد كبير بين الجمهور العربي - نادراً ما كانت في العلن. تغير ذلك يوم الجمعة عندما قام نتنياهو بزيارة لم يعلن عنها مسبقا لسلطنة عمان حيث التقى السلطان قابوس بن سعيد الذي يقبع على سدة الحكم منذ فترة طويلة. وهذه أول زيارة يقوم بها رئيس من كيان يهود منذ أكثر من 20 عاما إلى الدولة الخليجية الصغيرة وهي الحليف للولايات المتحدة والتي سهلت في الماضي المفاوضات بين الولايات المتحدة وايران. (Aljazeera.com 2018/10/31)

التعليق:

لم تعد الأمة تندهش من خيانة حكامنا. هذه الدمى تفتقر إلى أي تفكير استراتيجي يرعى شؤون الأمة. هم لا يرون مصالحهم المادية إلا من خلال الحفاظ على الأجندة والأهداف التي يحددها الغرب لهم. كان هذا يحصل منذ إسقاط الخلافة، ولكن الآن يقف حكامنا بصحبة يهود بشكل علني، في الوقت الذي لا زلنا فيه ندفن شهداءنا، وإخواننا وأخواتنا في الأرض المباركة فلسطين يصيبهم الوهن يوما بعد يوم. هذا غير معاناة الملايين من الأمة في كل مكان في العالم.

في الأسبوع الماضي، سعى محمد بن سلمان، لصداقة وبركات الفاشية الجديدة والصهيونية المتخفية كنصارى إنجيليين من أمريكا. كان هذا الرجل نفسه يحاول في البداية تبرير جريمة قتل جمال خاشقجي، وذلك بتصويره كعضو في جماعة إسلامية. لا شك أنه كان يقول في نفسه، إن كان هذا العذر جيداً بما يكفي لسيسي مصر، فلا بد أنه سيفي بالغرض معه أيضا.

إنه من الواضح، بالنسبة لبعض حكامنا، أن السعي إلى الإسلام هو سبب كافٍ للموت الآن. فيما في الوقت ذاته، ينقلبون على أنفسهم بلا خجل للحصول على رضا أولئك الذين يلقون الخطب ويقسمون على كراهيتهم للإسلام. ليس الحكام الدمى التابعون للغرب ما جلب لأمتنا المصائب فحسب، ولكن ما يسمى "الأنظمة" فعلت ذلك أيضا.

في مصر، عندما لم يكن الحاكم المنتخب ديمقراطياً والذي سبق الإشادة به (من خلال "الربيع العربي") يتناسب مع الغرب، قاموا ببساطة باستبدال ديكتاتور به لضمان مصالحهم - بغض النظر عما إذا كان سيقتل ويسجن المئات ليصل إلى ما يريدون.

في ماليزيا، فتحت "الديمقراطية" الباب أمام أول حكومة بغالبية كافرة في أعضائها، ليكون لهم حكم دولة ذات أغلبية مسلمة. وينتمي عدد قليل منهم إلى منظمات معادية ومناهضة للإسلام بشكل صارخ. تسمح الديمقراطية لمن يمثلون الدول الغربية، باستعباد الدول صاحبة السيادة بصمت، كما هو الحال هذه المرة مع ماليزيا. المعهد الديمقراطي الوطني، والصندوق الوطني للديمقراطية يعملان بالتنسيق مع USAID والمعهد الجمهوري الدولي. لم يتآمر هؤلاء فقط مع منظمات العمال الماليزيين المحليين والأحزاب السياسية، بل تم توجيه ملايين الدولارات لدعم هذا الجهد. لقد حشدوا وسائل التواصل الإلكتروني وسلحوها بتوجيه خاطئ، وأخبار مزيفة، ومعلومات مضللة لتشكيل "أجندة" عامة تشكل خوارزميات لاستهداف الناخبين الذين لم يحسموا أمرهم بعد. في الظاهر يدعون أنهم يصلحون أخطاء "اللص" ومنظومته الفاسدة، لكن الواقع هو أن السلطة والسيطرة سُرقت من المسلمين.

والآن لضمان غزوهم الدائم، يعملون على تقويض الإسلام عبر تحالف من هم في السلطة، ممن يكرهون الإسلام، و"الليبراليين المسلمين" الحريصين على "تصحيح" الإسلام، والذين يعتبرونه دينا عفا عليه الزمن ولا يتماشى مع الزمان والمكان. ويعتزمون إعادة تشكيل إسلام محمد e، ليكون أكثر قبولا عند الكفار في ماليزيا وعلى صورة ترضي أسيادهم المستعمرين!

ومن المثير للسخرية أن أمريكا وبريطانيا وألمانيا من الدول الغربية يدافعون بقوة عن سيادتهم إذا ما تم استغلال ديمقراطيتهم من قبل قوى أجنبية. لكنهم لا يشعرون بالسخرية ولا بالعار من التدخل في بلدان أخرى ذات سيادة، لا سيما البلاد الإسلامية.

لا يمكن لرئيس مسلم حقيقي أن يبيع بلاد المسلمين، أو أن يسمح للعدو أن يغزو بلادنا، سواء أكان ذلك عن طريق القوة المادية، أم من خلال الأنظمة الحاكمة الكاذبة. كما أنه لا يمكن أن يعمل على تقويض الإسلام أبداً أو ذبح المسلمين. وعوضا عن ذلك، سيطبق الإسلام الذي سيوفر الرعاية الصحيحة لشؤون الأمة وسيحرر بلادنا من المستعمر.

ولننظر إلى ما فعله رسول الله r وكيف تشكلت بسرعة حضارة جديدة قوية في المدينة المنورة كانت منارة للتنوير في العالم، قائمة على أساس عقيدة الإسلام. ونرى أمثلة متكررة في تاريخ الخلافة حين جيشت الجيوش لحماية الأمة في ملقا، أو لاستعادة شرف وكرامة امرأة في عهد الخليفة المعتصم أو عندما رفض الخليفة العثماني، السلطان عبد الحميد الثاني، بيع الأرض المباركة فلسطين. أو كيف قدمت الخلافة العثمانية فعليا الأمن والمأوى لليهود، عندما اضطهدتهم أوروبا وكرهتهم.

لا الحكام، ولا أنظمة الكفر المحتالة ستنقذ هذه الأمة. إن الأمر يقع على عاتق كل واحد منا، ليحمل دين رسول الله r ويسعى لتطبيق حلول من الإسلام. حيث أمرنا الله سبحانه وتعالى: ﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾.

نحن تلك الأمة التي لن تقبل أن يستعبدها الكفار ولا خَلْق الله سبحانه وتعالى. لقد أنزل الله لنا الحل والهدى لمشاكل الأمة والبشرية كافة. لننقي أنفسنا وأهل الخير من الناس في هذا العالم، فإن علينا اتباع طريقة رسولنا محمد r بحذافيرها لإعادة تحكيم الإسلام وتطبيقه كما فعل r ‎ ﴿ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حمزة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست