لماذا احتاج الرئيس سعيّد إلى حكومة رابعة؟
لماذا احتاج الرئيس سعيّد إلى حكومة رابعة؟

الخبر:   دعا الرئيس قيس سعيّد جميع التونسيّين إلى الحرص على العمل، مشدّدا على أنّ العمل هو الذي يخلق الثروة. وأضاف في كلمة خلال موكب تسلّم رئيس الحكومة الجديد أحمد الحشّاني مهامه في قصر الحكومة بالقصبة يوم الأربعاء 2 آب/أغسطس 2023: "لا بدّ من العمل أكثر لأنّ لدينا من الإمكانات والثروات الكثير ولكن لا بدّ من العمل، وهذا التواكل والوقفات الاحتجاجيّة القطاعيّة لن تؤدّي إلى أيّ شيء". وأوضح سعيّد أنّ الاحتجاجات بدأت بالمطالبة بإسقاط الحكومة بعد 14 كانون الثاني/يناير، ثم بإسقاط النظام في اعتصام القصبة 2، مشيرا إلى أنّ هذا المدّ الثوري تعرّض للاحتواء بتغيير مقاربته من قضيّة وطنيّة إلى مطالب قطاعيّة وجهويّة. (بوابة تونس)

0:00 0:00
Speed:
August 08, 2023

لماذا احتاج الرئيس سعيّد إلى حكومة رابعة؟

لماذا احتاج الرئيس سعيّد إلى حكومة رابعة؟

الخبر:

دعا الرئيس قيس سعيّد جميع التونسيّين إلى الحرص على العمل، مشدّدا على أنّ العمل هو الذي يخلق الثروة. وأضاف في كلمة خلال موكب تسلّم رئيس الحكومة الجديد أحمد الحشّاني مهامه في قصر الحكومة بالقصبة يوم الأربعاء 2 آب/أغسطس 2023: "لا بدّ من العمل أكثر لأنّ لدينا من الإمكانات والثروات الكثير ولكن لا بدّ من العمل، وهذا التواكل والوقفات الاحتجاجيّة القطاعيّة لن تؤدّي إلى أيّ شيء".

وأوضح سعيّد أنّ الاحتجاجات بدأت بالمطالبة بإسقاط الحكومة بعد 14 كانون الثاني/يناير، ثم بإسقاط النظام في اعتصام القصبة 2، مشيرا إلى أنّ هذا المدّ الثوري تعرّض للاحتواء بتغيير مقاربته من قضيّة وطنيّة إلى مطالب قطاعيّة وجهويّة. (بوابة تونس)

التعليق:

ربما يتساءل كثيرون عن سبب إقالة الرئيس قيس سعيد لرئيسة الحكومة نجلاء بودن، وتعيين خلف لها، خاصة وأن بودن لم ترفض له طلبا، بل كانت مثالا للامتثال المطلق لكل ما يصدره. فهل هناك مدعاة لهذا التغيير المفاجئ؟ وما سرّ اختيار هذا التوقيت؟

والجواب على هذا السؤال بسيط متى توضحت مهمة الحكومة السابقة، فضلا عن كونه موجوداً أيضا في لحن قول الرئيس أثناء موكب تسلم رئيس الحكومة الجديد مهامه.

فالحكومة السابقة التي وجدت نفسها تحت رحمة المؤسسات المالية الدولية نتاجاً لسياسة التداين المعتمدة من حكومات ما بعد الثورة، جاءت لتنزل بقرض الـ4 مليارات الذي طلبه المشيشي من صندوق النقد الدولي إلى 1.9 مليار دولار، وقد تحقق ذلك يوم 15 تشرين الأول/أكتوبر 2022، ثم لتصادق على تنقيح قانون المنشآت والمؤسسات العمومية المطلوب من صندوق النقد وقد تحقق ذلك يوم 9 شباط/فبراير 2023، فضلا عن رفع الدعم بشكل تدريجي عن العديد من المواد ومنها المحروقات ضمن ما عرف بالتعديل الآلي لأسعار المواد البترولية، وافتعال أزمة الخبز كبالون اختبار لإمكانية رفع الدعم عن منتجات الحبوب، وهي الأزمة التي تسببت مع غيرها من الأزمات القطاعية في تفاقم الوضع مؤخرا، وزادت من حجم الاحتقان الشعبي ومن عدد الوقفات الاحتجاجية. كل هذه الإجراءات التي يطلبها الصندوق، هي خطوات اضطرارية انتهجتها الحكومة في سبيل الحصول على قرض مشروط يمكنها من إصلاح توازناتها المالية وتمويل ميزانيتها وفتح المزيد من الأبواب للاقتراض من بنوك ومؤسسات وجهات أخرى تشترط بدورها تسوية المفاوضات مع صندوق النقد الدولي، وفي مقدمة هذه الجهات، نجد الاتحاد الأوروبي الذي لم يستطع هو الآخر تجاوز عقبة صندوق النقد الدولي، أداة أمريكا في اغتيال الحكومات واستعباد دول العالم اقتصاديا.

إذن، فدور الحكومة السابقة هو تخطي المرحلة الأولى من مسار تنفيذ إملاءات الصندوق، لتأتي الحكومة الجديدة بعد تعثر مسار المفاوضات وتستلم المشعل عن سابقتها في استكمال برنامج الإصلاح المزعوم الذي يطلبه صندوق النقد، وليس أدل على ذلك من تصريح وزير الاقتصاد والتخطيط سمير سعيّد بالبرلمان يوم 2023/07/28، الذي أكد بأنه لا يوجد بديل عن صندوق النقد، وبأنه ماض في تنفيذ الإصلاحات، ثم ليضيف بأنه مستعد لمراجعة خطة الإصلاح إذا تطلب الأمر ذلك.

وإذا ربطنا هذا الاستعداد الوزاري لمراجعة خطة الإصلاح، بتصريح وزير الخارجية الأمريكي، أنتوني بلينكن، يوم 2023/06/12 الذي قال فيه بأنه يريد أن تقدم تونس خطة إصلاح معدّلة إلى صندوق النقد الدولي، فإن عنوان المرحلة القادمة سيكون "صندوق النقد يريد" وليس "الشعب يريد"، ولكن جميعنا يعلم جيدا أن ما يريده الصندوق مؤلم جدا بالنسبة للشعب، وقد تزيد مسايرته من الاحتجاجات القطاعية والجهوية التي لا تكاد تنتهي بل من حالة الاحتقان الشعبي، لأن أزمة هذا النظام قد طالت جميع القطاعات بلا استثناء، ولذلك فإن مهمة الحكومة الرابعة تنحصر أساسا في أمرين ليس أكثر، خصوصا إذا سقطت قبل تأمين انتخابات التمديد الرئاسي في 2024:

  • استكمال برنامج "الإصلاح" بعد تعديله وتقديمه مجددا على طاولة التفاوض مع الصندوق.
  • محاولة إنهاء كل الوقفات الاحتجاجية الناتجة عن تطبيق خطة "الإصلاح" المفروضة على جميع الحكومات.

بهذا التغيير الشكلي إذن، يمتص الرئيس جزءاً من السخط الشعبي ويحصره في الحكومة السابقة كما جرى مع حكومة المشيشي ومن قبلها حكومة الفخفاخ، مع أنه هو من قام بتعيينهم جميعا، مواصلا سيره إلى الأمام ومستكملا دوره في الدفاع الكلاميّ عن قوت التونسيين، وفي الحفاظ على استمرارية هذه الدولة العاجزة، بنفَس جديد يدّعي الإصلاح والتغيير، لتصبح الحكومات بمثابة كادم صدمات بالنسبة للرئيس، حيث يغتر الناس بشعارات الدفاع عن الفقراء والبؤساء ومحاسبة الفاسدين، وينشغلون بالشعارات الجوفاء والخطابات العصماء عن الجرم الذي تباشر القيام به كل الحكومات المتساقطة. وبهذا الأسلوب الماكر ينجح النظام في تغيير جلده وحصر الأزمة في أشخاص وحكومات تتعاقب على التفريط في مقدرات البلاد إلى الكافر المستعمر، وتتنافس على تقديم الشعب قربانا لأرباب الرأسمالية العالمية، ألا ساء ما يحكمون!

أما بخصوص العمل، فلا شك بأن من شأنه أن يخلق الثروة ويضيفها إلى ما نمتلكه من ثروات طبيعية، ولكن ذلك يكون في دولة الرعاية، دولة الخلافة الراشدة التي تعزز قيمة العمل وتنمي الثروات وتوزعها بالعدل، أما في دولة الجباية، فهو يفرض على أبناء الشعب الإنفاق على نظام فاسد فاجر يثقل كاهلهم ويمتص دماءهم ويرهن الأجيال القادمة للبنك الدولي وصندوق النقد الدولي. وعليه فإن التأكيد على العمل في ظل دولة عاجزة عن حل مشاكل البطالة وحكومات تساوي بين الحراك الشعبي والعبث النقابي ولا ترى بديلا للحل الأمني، هو تملص واضح من المسؤولية وإنكار لحقيقة الأزمة من كونها أزمة نظام، تنادى هذا الشعب ضدّه أيام الثورة هاتفا: الشعب يريد إسقاط النظام.

فهلّا كفّ حماة الدولة المتواكلة على شعبها والعاجزة عن حل مشاكل الخبز والماء والكهرباء عن استغباء الناس؟ وهلّا أدرك الجميع أنه لا سبيل للخروج من هذه الحلقة المفرغة ومن دوّامة الأزمات المتعاقبة والحكومات المتداعية إلا بإسقاط هذا النظام العلماني المتصدع وإقامة دولة الإسلام دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؟

قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست