لماذا سمحت السويد بحرق المصحف؟ ومن المتسبب بحرقه؟
لماذا سمحت السويد بحرق المصحف؟ ومن المتسبب بحرقه؟

الخبر:   سمحت السويد لحاقد على الإسلام بحرق نسخة من القرآن، لتتكرر الحادثة والتمزيق في الدنمارك وهولندا. فاندلعت احتجاجات من المسلمين وصدرت إدانات من الأنظمة في البلاد الإسلامية وأعلنت تركيا وقف المباحثات مؤقتا مع السويد من أجل انضمامها إلى الناتو. 

0:00 0:00
Speed:
January 31, 2023

لماذا سمحت السويد بحرق المصحف؟ ومن المتسبب بحرقه؟

لماذا سمحت السويد بحرق المصحف؟ ومن المتسبب بحرقه؟

الخبر:

سمحت السويد لحاقد على الإسلام بحرق نسخة من القرآن، لتتكرر الحادثة والتمزيق في الدنمارك وهولندا. فاندلعت احتجاجات من المسلمين وصدرت إدانات من الأنظمة في البلاد الإسلامية وأعلنت تركيا وقف المباحثات مؤقتا مع السويد من أجل انضمامها إلى الناتو.

التعليق:

لقد وقعت تركيا مذكرة تفاهم مع السويد وفنلندا يوم 2022/6/28 بشأن انضمامهما إلى الناتو بإيعاز من أمريكا التي تعمل على تعزيز قوة الناتو وتوسيع رقعته تحت قيادتها. ولكن هناك شروط لتركيا حتى تتم الموافقة النهائية، أهمها حظر نشاط الجماعات المناوئة لتركيا والموجودة في السويد. فتضغط تركيا لوقف نشاطاتها وخاصة حزب العمال الكردستاني الانفصالي، إذ يوجد له مؤيدون وأعضاء في الأحزاب السويدية والبرلمان السويدي من أصول كردية استوطنوا السويد. فهناك ضغط داخلي على الحكومة السويدية لئلا تستجيب لتركيا مقابل الضغط القادم من تركيا لحظر الحزب وتسليم المطلوبين لها. فيظهر أن السويد قامت وسمحت لأحد الحاقدين على الإسلام بحرق المصحف فتستفز المسلمين وتحرج الحكومة التركية حتى تجعلها تتخلى عن المطالبة بحظر الحزب الكردستاني الانفصالي ونشاط أعضائه.

وعندئذ تطلب السويد من تركيا تخفيف المطالبة بحظر هذه الجماعات مقابل منع تكرار فعلة الحرق، حتى لا توقع تركيا في حرج أمام المسلمين في تركيا وفي العالم إذا سكتت عن ذلك وواصلت تفاهماتها مع السويد ومن ثم وقعت على انضمامهما. وإلا فالسويد قادرة على منع ذلك الحاقد من فعلته كما منعته فرنسا وهولندا وطردتاه من أراضيهما فلجأ إلى السويد. وما يؤكد ذلك أنه منذ أن وقعت اتفاقية التفاهم تلك، توقفت عمليات هذا الحاقد، علما أن شغله الشاغل حرق نسخ القرآن للتنفيس عن حقده ولاستفزاز المسلمين حتى يلفت النظر إليه حيث إنه مفلس فكريا وسياسيا، فليس لديه شيء يقدمه ليعالج مشاكل أوروبا المهترئة ومجتمعاتها المنهارة وعائلاتها المفككة وقيمها الساقطة.

وعندئذ قامت فنلندا وقالت إنها تفكر في أن تستمر في المباحثات مع تركيا دون السويد، حيث لا يوجد عندها مثل هذه المشاكل مع تركيا فيسهل الموافقة على انضمامها، وقد ربطت مع السويد في مذكرة التفاهم تلك. فجاء الرد الأمريكي عليها محذرا إياها حتى لا تتعقد المشكلة مع السويد ويتأخر انضمامها إلى الناتو. فقال الناطق باسم البيت الأبيض جون كيربي يوم 2023/1/27 "واشنطن تدعم بقوة انضمام السويد وفنلندا إلى الناتو، ولكنها ترى ضرورة حل الخلافات مع تركيا فيما بين الدول الثلاث".

فالسويد توظف مسألة حرق نسخ القرآن لتري تركيا أن المشكلة ليست في المناوئين عندها لتركيا، وإنما هناك أيضا مناوئون لأهل تركيا وللمسلمين كافة، ونحن لا نستطيع أن نمنع ذلك، لأنه عندنا حرية تعبير! وكذلك المناوئون لتركيا لديهم حرية تعبير لأنهم مقيمون أو رعايا في السويد كذلك الحاقد حيث منحته الجنسية السويدية.

إن المشكلة ليست هناك، إن المشكلة في تركيا نفسها، كونها عضوا في الناتو منذ 71 عاما، وهو تحالف صليبي، قائم على حماية العالم الغربي الذي يعتبر نفسه نصرانيا ويتبنى العلمانية والديمقراطية والحريات العامة، فيعتبر نفسه العالم الحر المتمدن المتقدم! وقد شاركت تركيا في صفوفه في حرب كوريا 1950-1953 وقُتل الكثير من الجنود الأتراك في سبيله، واشتركت معه في حرب أفغانستان (2001-2021)، واشتركت مع أمريكا في حرب الصومال، وأيدتها في عدوانها على العراق عام 2003، وفتحت لها قاعدة إنجرليك عام 2015 للعدوان على أهل سوريا والعراق بذريعة (محاربة الإرهاب). فكل هذه الأعمال تخالف القرآن الذي يحرم موالاة الكفار!

لقد حرقت تركيا القرآن عمليا عام 1924م عندما قام مصطفى كمال بهدم دولته التي أسسها رسول الله ﷺ والتي استمرت 1300 عام وهي تطبق القرآن. وجعلت القرآن عبارة عن كتاب مكون من أوراق مطبوعة يقرأ على الموتى والمرضى وفي المناسبات وتعمل له مسابقات فتعطى الجوائز على إتقان قراءته وحفظه! ومنعت تطبيقه في الدولة والسياسة والمجتمع، بل أباحت كل محرم ورد فيه من زنا وربا ولواط وقمار وعري واختلاط ولهو ومجون وخمور. وأبقته حبيسا في العبادات والمواعظ والخطب المكررة المملولة التي تدعو الأفراد للتحلي بالأخلاق، والدولة تنشر الفساد بنظامها التعليمي وبوسائل إعلامها الفاسدة المفسدة في الأفلام والمسلسلات والغناء الساقط والعري والخيانة الزوجية.

لقد أقامت الدولة على أساس يخالف القرآن، على أساس العلمانية التي تفصل القرآن أساس الدين عن الحياة والدولة والمجتمع، وعلى أساس الديمقراطية التي تجعل الشعب مصدر التشريع وليس القرآن وبيانه السنة المطهرة، وأعلنت الجمهورية التي تعني السيادة للأغلبية وهدمت الخلافة التي تجعل السيادة للقرآن والسنة. ومثلها باقي الأنظمة في البلاد الإسلامية التي أقامها الاستعمار على أنقاض الخلافة ووضع دساتيرها ونصب حكامها وربطها به لئلا تخرج من قبضته. ولهذا تجرؤ السويد وغيرها من الدول بالسماح بإهانة القرآن، لعدم وجود دولة تحميه وتطبقه وتدخل الرعب في قلوب من تسول له نفسه أن يقدم على إهانة المصحف الشريف بحرقه وتمزيقه والدوس عليه.

فإن أوقفت تركيا أردوغان الآن محادثاتها مع السويد ولكنها سرعان ما تستأنف وتعود المياه الآسنة إلى مجاريها، وهذا ما حصل مع كيان يهود، بل رحب برئيس هذا الكيان الغاصب لفلسطين وكأنه قائد مغوار حقق المعجزات! وكذلك سيرته السيئة المليئة بالمهاترات والجعجعات مع الإمارات والسعودية ومصر ومن ثم التصالح معها. وأخيرا استعداده للتصالح مع طاغية العصر بشار أسد ونظامه الإجرامي.

فالنظام التركي والأنظمة القائمة في البلاد الإسلامية هي المسبب الرئيس لحرق نسخ القرآن، وقد حرقت أحكامه فمنعت تطبيقها وحاربت حملة الدعوة الذين يريدون تحكيمه وإقامة دولته.

فيا حكام المسلمين: إن القرآن لم ينزل جملة في أوراق تجعلونها قراطيس تبدونها وتخفون كثيرا منها، وإنما نزل على مكث، نورا وهدى للناس، نزل آية آية تعالج مشاكل الإنسان وتبين علاقاته مع ربه من عقائد وعبادات، ومع نفسه من مطعومات وملبوسات وأخلاق، ومع غيره من بني الإنسان من معاملات وعقوبات. فأقيمت دولة على أساسه، وأصبح نبي الإسلام أول رئيس لها، وأمر الأمة بالمحافظة عليها إلى يوم الدين، بتنصيب خلفاء من بعده ومبايعتهم على تطبيق الكتاب والسنة. وقد جمعه الخليفة الراشدي الأول، ونسخه الخليفة الراشدي الثالث في كتاب من أجل حفظه وعدم ضياعه، وليس لتقديسه ككتاب دون العمل به. فإن كنتم حقا غيورين عليه فاعملوا به أو سلموا الحكم لمن هو أهله ويعمل على إقامة دولته دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست