لماذا تخلى جاويش أوغلو التركي عن مسلمي تركستان الشرقية إلى الصين؟
لماذا تخلى جاويش أوغلو التركي عن مسلمي تركستان الشرقية إلى الصين؟

تقول السلطات التركية إن على السلطات الصينية احترام حقوق الإنسان للمسلمين، بما في ذلك حرية الدين. وأعرب وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو عن قلقه إزاء سوء معاملة الصين المزعومة للإيغور وغيرهم من المسلمين في منطقة شينجيانغ، ودعا بكين إلى حماية حرية الدين هناك. في ملاحظاته، لم يشر جاويش أوغلو على وجه التحديد إلى معسكرات الاعتقال الجماعية في المنطقة الغربية النائية من الصين. ومع ذلك، أخبر منتدى جنيف أن التقارير عن انتهاكات حقوق الإنسان ضد الإيغور وغيرهم من المسلمين في شينجيانغ كانت سبباً للقلق. وقال جاويش أوغلو إنه يجب التمييز بين "الإرهابيين والأبرياء".

0:00 0:00
Speed:
March 07, 2019

لماذا تخلى جاويش أوغلو التركي عن مسلمي تركستان الشرقية إلى الصين؟

لماذا تخلى جاويش أوغلو التركي عن مسلمي تركستان الشرقية إلى الصين؟

(مترجم)

الخبر:

تقول السلطات التركية إن على السلطات الصينية احترام حقوق الإنسان للمسلمين، بما في ذلك حرية الدين. وأعرب وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو عن قلقه إزاء سوء معاملة الصين المزعومة للإيغور وغيرهم من المسلمين في منطقة شينجيانغ، ودعا بكين إلى حماية حرية الدين هناك.

في ملاحظاته، لم يشر جاويش أوغلو على وجه التحديد إلى معسكرات الاعتقال الجماعية في المنطقة الغربية النائية من الصين.

ومع ذلك، أخبر منتدى جنيف أن التقارير عن انتهاكات حقوق الإنسان ضد الإيغور وغيرهم من المسلمين في شينجيانغ كانت سبباً للقلق. وقال جاويش أوغلو إنه يجب التمييز بين "الإرهابيين والأبرياء".

ثم أدخل سطراً في ملاحظاته المعدّة، مضيفاً: "ولا بد لي من التأكيد على أننا ندعم سياسة الصين الواحدة". وكان يشير إلى موقف الصين بأن البلاد تشمل تايوان ومناطق الحكم الذاتي، بما في ذلك شينجيانغ والتبت. (Aljazeera.com)

التعليق:

من خلال التأكيد على دعمه لسياسة "الصين الواحدة" التي أطلقتها الصين، يبدو الأمر أشبه بالحيلة الدبلوماسية لكشف السعودية ومحمد بن سلمان.

خلال زيارته للصين في 22 شباط/فبراير، أعلن محمد بن سلمان على التلفزيون الصيني الرسمي أن "الصين لديها الحق في اتخاذ تدابير لمكافحة الإرهاب وإزالة التطرف لحماية الأمن القومي"، مضيفاً "أن السعودية تحترمها وتدعمها وعلى استعداد لتعزيز التعاون مع الصين"، لطعن الخنجر في ظهر الأمة. وبفضل الدعم المتحمّس لمحمد بن سلمان، ستزيد الصين بلا شك خنقها البطيء للمسلمين في تركستان الشرقية.

بشكل مأساوي، التعليقات فقط تفاقم وضع المسلمين المرعب، ويبدو أن تركيا تدعم سلب أراضي المسلمين والإبادة الجماعية في حق الإيغور ما دامت الصين "تميز" ​​بين "الإرهابيين" والأبرياء! وبماذا كانت تفكر تركيا عندما منعت الصين المسلمين من ممارسة شعائر الإسلام في أرضهم؟!

التملق اللين الوديع، ليس بالطريقة التي يدافع بها الشرفاء عن الإسلام، وتحمى بها أمة رسول الله صلى الله عليه وسلم.

ما الذي يمكن أن يفعله زعماء يهود أو النصارى، إذا تم احتجاز مليون شخص منهم في معسكرات الاعتقال الصينية، وتعذيبهم، وغسل أدمغتهم، وإجبارهم على ترك دينهم؟

طريقة عيش الإيغور تم القضاء عليها، وممارسة الإسلام ممنوعة، وتجبر النساء المسلمات على الزواج من الكفار الصينيين. ماذا تسمى إبادة سلالة أو عرق ببطء عن طريق القوة؟ سواء تم ذلك بسرعة عن طريق الرصاص، أو بطغيان ممنهج للدولة، فهذه هي الإبادة الجماعية الخبيثة - إبادة متعمدة ومنهجية لجماعة قومية أو عرقية أو سياسية أو ثقافية وهذه هي حالة المسلمين الإيغور.

لماذا هذا اليأس لاتهام الإسلام؟ هل يمكن أن تكون "الاشتراكية ذات الخصائص الصينية" ليست قوية بما فيه الكفاية لهزيمة الحق؟ ألا ينبغي أن تكون "حقيقة" الاشتراكية واضحة بذاتها دون الحاجة إلى اللجوء إلى التهديدات والقتل والتعذيب؟

هل هم خائفون جدا، ومغلقو الدماغ بحيث يخافون استكشاف الإسلام وما قد يقدمه لشعب الصين؟ أم هم منفتحون فقط لبناء "أمة" على أفكار الأجانب الغربيين؟

يبدو على الصين "انفصام"؛ فمن ناحية تتبنى "الاشتراكية" (وهي ليست صينية) ومن ناحية أخرى تريد أن تسيء إلى دين الإسلام على وجه الخصوص. لم تنبع الاشتراكية ولا الشيوعية من ماو ولا شي بينغ، ولم تأت الرأسمالية من دينغ.

ولهذه المأساة الإنسانية، لم ينظر محمد بن سلمان وجاويش أوغلو بالاتجاه الآخر فقط، وإنما دعموها غدرا بلا حياء ولا خجل.

لم يفعل المسلمون الإيغور أي شيء لجلب الكراهية والإرهاب من الحزب الشيوعي. هم أبرياء. إنهم الكفار في جشعهم وبحثهم عن المكاسب المادية، أوقعوا مرة أخرى هذه الوحشية الفاشية على البشرية. وقد حذرنا الله سبحانه وتعالى بقوله ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ﴾.

الإسلام ليس مجرد "دين" بل هو مبدأ مبني على عقيدة فكرية عقلية، وهي تحتوي على كل ما يلزم لبناء نمط حياة كامل، يوفر الأمن لدم وممتلكات وشرف الناس. هذا ما يخافه المغتصبون في جميع أنحاء العالم.

فالإسلام يزيل استعباد الإنسان من طغيان حزب سياسي جشع ووحشي، ومن إمبراطور لا يحاسَب، إلى الحرية كطريقة للعيش التي تحمي حقوق كل فرد بعينه، رجلا كان أو امرأة أو طفلا، وتحاسب كل الزعماء وتخضعهم لتطبيق عدالة الإسلام، لعبادة الخالق والراعي الحقيقي الوحيد وهو الله سبحانه تعالى.

يجب أن يتذكر أردوغان وجاويش أوغلو، أنهما جزء من الأمة الإسلامية التي لها تاريخ نبيل في تطبيق الإسلام وحمله، وتحرير الناس من طغيان ما يسمى "الملوك والأباطرة" وإقامة مجتمع مستنير مبني على الإسلام. حيث كانت الحقوق محمية ومحترمة، وكنا موحدين كأمة واحدة، بناء على مبادئ عظيمة، غير مقسمين بناء على ألواننا أو مكان ولادتنا!

لإنقاذ إخواننا وأخواتنا وأولادنا في تركستان الشرقية وحيثما يتم اضطهاد المسلمين في العالم، يجب علينا أولاً أن نرفض هذه الأصفاد الباطلة التي ورثناها عن الاستعمار، والتي تسمى "الدول القومية" بحدود تقطع وتدمر جسد أمة الإسلام. ويجب علينا أن نبحث عن الحق ونشجع القادة الذين سيقودوننا بالإسلام ولن يرهبونا بنير أعدائنا. القادة الذين يؤمنون ويحافظون على تحذير الله ﴿وَلاَ تَشْتَرُواْ بِعَهْدِ اللّهِ ثَمَناً قَلِيلاً إِنَّمَا عِندَ اللّهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حمزة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست