لماذا تخرج أمريكا حكام أفغانستان واحدا تلو الآخر؟ (مترجم)
لماذا تخرج أمريكا حكام أفغانستان واحدا تلو الآخر؟ (مترجم)

الخبر:   في خطوة رئيسية وقع الرئيس أشرف غاني يوم الأحد أوامر بالتقاعد لـ164 جنرالا. وكتب على حسابه الرسمي في تويتر بأنه وضع قانون ضباط الجيش الجديد قيد الممارسة. وأشار أيضا "إننا نريد أن نحقق الإصلاحات لربح الحرب والسلام، وإننا لا نريد إصلاحات لمجرد الإصلاحات، وستستمر هذه العملية لمستقبلنا الأكثر إشراقا". وبموجب مشروع القانون الذي وافق عليه البرلمان الأفغاني في تشرين الثاني/نوفمبر من عام 2017 فإن أكثر من 70 في المائة أو ما يقرب من ألفي جنرال وضابط عسكري رفيعي المستوى في قوات الأمن القومي الأفغانية سيتم الاستغناء عنهم في العامين القادمين.

0:00 0:00
Speed:
February 07, 2018

لماذا تخرج أمريكا حكام أفغانستان واحدا تلو الآخر؟ (مترجم)

لماذا تخرج أمريكا حكام أفغانستان واحدا تلو الآخر؟

(مترجم)

الخبر:

في خطوة رئيسية وقع الرئيس أشرف غاني يوم الأحد أوامر بالتقاعد لـ164 جنرالا. وكتب على حسابه الرسمي في تويتر بأنه وضع قانون ضباط الجيش الجديد قيد الممارسة. وأشار أيضا "إننا نريد أن نحقق الإصلاحات لربح الحرب والسلام، وإننا لا نريد إصلاحات لمجرد الإصلاحات، وستستمر هذه العملية لمستقبلنا الأكثر إشراقا".

وبموجب مشروع القانون الذي وافق عليه البرلمان الأفغاني في تشرين الثاني/نوفمبر من عام 2017 فإن أكثر من 70 في المائة أو ما يقرب من ألفي جنرال وضابط عسكري رفيعي المستوى في قوات الأمن القومي الأفغانية سيتم الاستغناء عنهم في العامين القادمين.

التعليق:

من خلال هذه الخطوة يريدون إغلاق وصول الأمة وأحزاب الصحوة الإسلامية لمراكز القوة الحقيقية للأمة التي تتركز في جيوشها، مثل مصر وتركيا وباكستان.

الجميع يدرك أن أمريكا تستخدم أفغانستان وموقعها الجغرافي كمشروع حرب في المنطقة. وبالتالي فإنها تحتاج إلى تغليب الحرب على السلام؛ بإبقاء الحكومة الأفغانية ضعيفة واستغلال الشعب في نزاع داخلي بدلا من التركيز على بناء دولة مركزية قوية تقوم بحماية مصالحهم الخاصة. ومع ذلك، فقد بدأوا في هذه الأثناء بعملية تغيير موازية وواسعة النطاق لإرساء الديمقراطية في المجتمع القبلي الأفغاني والحكومة.

في السنوات الـ17 الماضية كانت أمريكا قادرة على السيطرة على أي تأثير للاتحاد السوفياتي السابق في أفغانستان وتنجح باستخدام أي تأثير من بريطانيا وباكستان وإيران والسعودية لمصالحها الخاصة.

وخلال السنوات الأولى من الاحتلال، استخدمت أمريكا غالبية الزعماء المجاهدين والشيوعيين السابقين كحلفاء لها خلال حكم الرئيس كرزاي. لكنها - تحت إشراف زلماي خليل زاد، السفير الأمريكي السابق والمبعوث الرئاسي الخاص لأفغانستان - أزالتهم من السلطة من خلال عملية حاذقة وتدريجية وحل محلهم آخرون تكنوقراطيون مدربون في الغرب. ومن الأمثلة عليهم الأستاذ عبد الرب رسول سياف وأمير محمد إسماعيل خان ويونس قانوني وبسميلة محمدي ومؤخرا أحمد ضياء مسعود والجنرال دوسوم وعطا محمد نور.

وفي حين اغتيل آخرون مثل الحاج قدير وبرهان الدين رباني والجنرال داود والجنرال سيدخلي وأحمد والي قرضاي. وبالإضافة إلى ذلك، اغتيل العديد من الأفراد المؤثرين محليا وثلاثة أضعافهم من خلال العديد من الحيل الاستعمارية والمخططات على مرحلتين؛ أولا في الجنوب والآن في شمال أفغانستان. والسبب في اتخاذ هذه الخطوات هو إزالة النظام القبلي الأفغاني الذي كان أحد العقبات الرئيسية في طريق الفردانية وإضفاء الطابع الديمقراطي الغربي على هذه الأرض.

ومع ذلك، فإن هذه العملية للتغيير الأساسي في المجتمع الأفغاني لم تكتمل بعد، لأن هناك بعض زعماء القبائل، ومجاهدين وضباط أمن سابقين الذين لا يزالون يقاومون ضد الاحتلال الأمريكي والناتو. وبالتالي، فإنهم سيجبرون على الموافقة على عملية السلام الأمريكية المقترحة التي تقوم على القيم الليبرالية وكل ما تم اكتسابه في السنوات الـ17 الماضية أو أن يتم اغتيالهم من خلال حملة ترامب الجديدة المقترحة.

وبعد أن حصل أشرف غاني على الضوء الأخضر من أمريكا، سيطر أشرف أولا على جميع السلطات المالية والإدارية وجعلها تابعة لمكتبه، ويتم ذلك بشكل كامل من خلال مجلس الأمن القومي ولجنة المشتريات الوطنية واللجنة الاقتصادية ولجنة إصلاح الخدمة المدنية ولجنة الانتخابات والعديد من المؤسسات العامة المهمة الأخرى. بعد ذلك، لإزالة الإسلاميين والشيوعيين من فلول الأنظمة السابقة - الذين اكتسبوا نفوذا خلال الغزو الروسي، وحكومة المجاهدين السابقة وفي السنوات الأولى من الغزو الأمريكي - من الحكومة والتغيير مع التكنوقراطيين تحت ستار الإصلاحات، جلبهم للأمام وجعل مستقبل المهنيين الشباب المتعلمين أكثر إشراقا. ولذلك، فإن تقاعد هؤلاء الـ164 جنرالا هو جزء من العملية وليس الإصلاح المعلن و70٪ من كبار ضباط القوات المسلحة سيواجهون الوضع نفسه قريبا.

وستشمل عملية التغيير الجذري للمجتمع في أفغانستان كل من هم من بقايا الأنظمة الشيوعية والمجاهدين السابقة التي لا تزال في السلطة أو جزءا من الحكومة وكذلك أولئك الذين سينضمون إلى السلام الليبرالي المقترح الأمريكي في المستقبل القريب. هذا هو جزء من الدورة نفسها التي وصفها عطا محمد نور، حاكم مقاطعة بولخ بالعبارات التالية: "كانت أمريكا تستخدمنا مثل علب البيبسي وتلقينا بعيدا بعد الانتهاء من الشرب".

ولذلك، فإننا ندعو بإخلاص جميع هؤلاء الإسلاميين - مرة أخرى - الذين ما زالوا نشطين في الحكومة والجماعات الإسلامية والمجتمع في أفغانستان على أي نطاق، لفهم الخطط الغربية والشرقية والمؤامرات وعدم السماح لإعادة التجارب المُرّة التي كانت تحدث في الماضي من جديد. لأن الغرب يحاول تمهيد الطريق لجلب تغييراتهم الكافرة من خلال تغيير الأجيال، وبالتالي، فرصتكم ليست لتوجيه وحماية أنفسكم فقط ولكن للكثير من الناس الآخرين كذلك؛ وذلك لأنكم قادة وحكام مؤثرين. اصعدوا وقاوموا ضد الكفر، في كل من الأيديولوجيات والنظم الغربية والشرقية. انظروا لهذه الحياة القصيرة كاختبار من الله. توبوا عن أخطائكم السابقة وخطاياكم. وانضموا إلى الكفاح المقدس للأمة ضد الكفر من أجل مستقبلنا. افعلوا ذلك ليس فقط لتخليد اسمكم في التاريخ مثل أبطالنا في الماضي، ولكن أيضا لتفوزوا بلقاء رسول الله rعلى حوض الكوثر.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست