لماذا يتعرض الصحفيون الأفغان لهجمات مستمرة؟ (مترجم)
لماذا يتعرض الصحفيون الأفغان لهجمات مستمرة؟ (مترجم)

الخبر:   في انفجارين وقعا يوم الاثنين 30 نيسان/أبريل في منطقة شاشدارك بكابول قُتل 26 فردا منهم 9 صحفيين ومصورين. وقد أعلن تنظيم الدولة مسؤوليته عن الهجوم. وفي أعقاب الهجوم أصدرت وسائل الإعلام الأفغانية بيانا يدعو إلى إجراء تحقيق جاد في الحادث من قبل المحكمة الجنائية الدولية ومجلس الأمن التابع للأمم المتحدة. علاوة على ذلك، في اليوم نفسه تم استهداف صحفي آخر وقتل على يد مسلحين في إقليم خوست الشرقي.

0:00 0:00
Speed:
May 08, 2018

لماذا يتعرض الصحفيون الأفغان لهجمات مستمرة؟ (مترجم)

لماذا يتعرض الصحفيون الأفغان لهجمات مستمرة؟

(مترجم)

الخبر:

في انفجارين وقعا يوم الاثنين 30 نيسان/أبريل في منطقة شاشدارك بكابول قُتل 26 فردا منهم 9 صحفيين ومصورين. وقد أعلن تنظيم الدولة مسؤوليته عن الهجوم. وفي أعقاب الهجوم أصدرت وسائل الإعلام الأفغانية بيانا يدعو إلى إجراء تحقيق جاد في الحادث من قبل المحكمة الجنائية الدولية ومجلس الأمن التابع للأمم المتحدة. علاوة على ذلك، في اليوم نفسه تم استهداف صحفي آخر وقتل على يد مسلحين في إقليم خوست الشرقي.

التعليق:

لقد بلغت أمريكا ذروة الإرهاب والتسبب في المآسي تحت اسم دعم عملية السلام بين الأفغان. يبدو أن المنطق الذي تم الإعراب عنه وراء تكثيف الحرب هو هزيمة طالبان في ساحة المعركة وإدخالها في مفاوضات السلام. بينما تحتاج أمريكا في الوقت الحالي إلى تكثيف الحرب بدلاً من السلام في أفغانستان. من خلال هذا السيناريو، من جهة تبرر أمريكا وجودها العسكري والاستخباراتي طويل الأمد في أفغانستان، ومن جهة أخرى، فإنها تخطط ضد دول إقليمية مثل الصين وروسيا. على غرار طالبان والقاعدة؛ تستخدم أمريكا اسم تنظيم الدولة لإدارة مشروعها الحربي في المنطقة.

تسببت الأنشطة الغامضة لتنظيم الدولة في أفغانستان في إشراك أشخاص بما في ذلك وسائل الإعلام والصحفيون الذين تم تجهيزهم وتمويلهم من قبل أمريكا لتحقيق الشكل الحقيقي لحرب "مكافحة الإرهاب" الأمريكية في أفغانستان، لأن التحليلات والتقارير التي تنشرها وسائل الإعلام الأفغانية تكشف أحيانًا عن سياسات أمريكا.

وحيث إن سفير أمريكا جون ر. باس في لقاء خاص في السفارة الأمريكية في كابول استجوبه الصحفيون الأفغان بشكل مباشر، "نتيجة لأنشطة تنظيم الدولة، يعتقد الأفغان أن التنظيم هو مشروع أمريكا. بدلاً من الرفض والإدانة ما هي الأسباب والأدلة المرضية التي يمكنك تقديمها للشعب الأفغاني فيما يتعلق بهذا؟" سخر السفير باس الذي كان سابقاً سفير أمريكا إلى تركيا والمعروف باسم العقل المدبر لتنظيم الدولة ولم يرد على هذا السؤال إجابة دقيقة!

وبالنظر إلى حقيقة أن أمريكا غير راضية عن حرية التعبير الحالية، فإنها تلجأ إلى أعمال تثني الإعلام والصحفيين عن انتقاد سياساتها العنيفة والمرعبة في أفغانستان. وعلاوة على ذلك، يتم ربط هذه الهجمات مع التنظيم في الواقع، والترويج لها في المجتمع. لأن الهجوم على وسائل الإعلام سيتم بثه على نطاق واسع، وهو أسهل طريقة للدعاية لهذه المجموعة.

في هذا الصدد، بعد حدوث انفجار دموي في مظاهرة قادتها "حركة التنوير"، أعلن عضو البرلمان وزعيم الحركة أحمد بهزاد صراحة أن تنظيم الدولة هو الاسم الثاني لمجلس الأمن القومي الأفغاني. وعلى نحو مماثل فقد نقلت أنيسة شهيد مراسلة تولو نيوز عن المدير السابق لإدارة الأمن الوطني الأفغاني رحمة الله نبيل أنه خلال فترة ولايته؛ كانت الحكومة قد أمرته رسمياً بتوسيع أنشطة التنظيم في أفغانستان. حتى الصحفي الذي قتل مؤخرا على يد مسلح مجهول في إقليم خوست الشرقي، قام مؤخرا بإعداد ونشر تقرير عن الجرائم الأمريكية في مقاطعة خوست.

علاوة على ذلك، في بعض الحوادث المرتبطة بالتنظيم لم يتم العثور على الموقف الرسمي له. ومع ذلك، فإن المديرية الوطنية الأفغانية للأمن (NDS) التي لديها وكلاؤها في وسائل الإعلام الأفغانية يؤثرون عليها لإسناد مثل هذه الهجمات على تنظيم الدولة عند تقديم التقارير؛ ونتيجة لذلك، سيتم اعتبار أن التنظيم مسؤول عن الحادث في عين الجمهور. حتى إن الحكومة قامت بشكل متكرر بتوزيع الصور على وسائل الإعلام التي تم تعديلها باستخدام برنامج (الفوتوشوب). وتأتي هذه الادعاءات بالتزامن مع مزاعم بعض وسائل الإعلام الروسية بأن مستشار الأمن القومي الأفغاني ومدير المديرية الوطنية الأفغانية للأمن يجهزان ويوزعان تنظيم الدولة الإسلامية في مناطق مختلفة من أفغانستان عبر طائرات هليكوبتر غير معروفة.

لذلك، بعد توقيع الاتفاقيات الاستراتيجية والأمنية مع أفغانستان، قامت أمريكا بتأمين قواتها خلف الجدران الواقية وتتابع حربها بالوكالة من قبل قوات الأمن الأفغانية ومرتزقتها ضد الشعب الأفغاني. حتى أنصار هذا الاتفاق ومناصروه يطالبون الآن بتنقيحه وإنهائه.

وأخيرا، من الجدير بالذكر أن الصداقة مع الكفار المحتلين ستؤدي بطبيعة الحال إلى مثل هذه العواقب. ولذلك، لا ينبغي لوسائل الإعلام الأفغانية أن تطلب من المؤسسات التي تنظم الاستعمار مثل المحكمة الجنائية الدولية ومجلس الأمن التابع للأمم المتحدة إجراء تحقيق في هذه الحوادث. بدلاً من ذلك، يجب أن يعملوا كمدافعين حقيقيين للجمهور من خلال الكشف عن الحقيقة وراء الكواليس لإثارة الصحوة الإسلامية بين الناس إذا كانوا يريدون بالفعل القيام بمهمتهم الإسلامية بدلاً من أن يصبحوا آلة الحرب الأمريكية-الغربية. في الواقع هذه هي وظيفة الشرفاء والشجعان.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست