لماذا يتكاثر الطلاق بين الشباب في أوزبيكستان؟
لماذا يتكاثر الطلاق بين الشباب في أوزبيكستان؟

الخبر:   أعلن المسؤول بوزارة العدل ح. ميلييف أن معدل الطلاق في أوزبيكستان هو الأدنى في رابطة الدول المستقلة. هناك أكثر من 9 ملايين أسرة في أوزبيكستان. وفي المتوسط، يتم بناء 250-300 ألف أسرة جديدة سنويا. ولكن في الوقت نفسه، تتم ملاحظة ما متوسطه 45-49 ألف حالة طلاق كل عام. 4-5% من المطلقين هم من عاشوا معاً لمدة تصل إلى سنة واحدة، و40% لمدة تصل إلى خمس سنوات.

0:00 0:00
Speed:
July 15, 2024

لماذا يتكاثر الطلاق بين الشباب في أوزبيكستان؟

لماذا يتكاثر الطلاق بين الشباب في أوزبيكستان؟

الخبر:

أعلن المسؤول بوزارة العدل ح. ميلييف أن معدل الطلاق في أوزبيكستان هو الأدنى في رابطة الدول المستقلة.

هناك أكثر من 9 ملايين أسرة في أوزبيكستان. وفي المتوسط، يتم بناء 250-300 ألف أسرة جديدة سنويا. ولكن في الوقت نفسه، تتم ملاحظة ما متوسطه 45-49 ألف حالة طلاق كل عام. 4-5% من المطلقين هم من عاشوا معاً لمدة تصل إلى سنة واحدة، و40% لمدة تصل إلى خمس سنوات.

وارتفع عدد حالات الطلاق بنسبة 41% في عام 2021، و22% في عام 2022، لكن معدل النمو في عام 2023 انخفض بشكل حاد وارتفع بنسبة 0.8% فقط مقارنة بعام 2022 (انخفض معدل النمو بمقدار 27 مرة مقارنة بعام 2022).

ووفقا للجنة الإحصاءات المشتركة بين دول رابطة الدول المستقلة، تحتل أوزبيكستان المرتبة الأولى في رابطة الدول المستقلة من حيث عدد الزيجات، والأخيرة من حيث حالات الطلاق. وفي عام 2022، بلغ عدد حالات الزواج لكل 1000 شخص في أوزبيكستان 8.4، وعدد حالات الطلاق 1.4.

التعليق:

من خلال الزواج يشكل الرجل والمرأة أسرة ويتكاثر نسلهما. ومن أجل بناء الأسرة بشكل صحيح واستمرار الحياة، وضع دين الإسلام ضوابط معينة وأحكاما شرعية. فالإسلام يأمر ويشجع على الزواج، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ» (متفق عليه).

إن السبب الرئيسي لتشتت الأسر هو أن الشباب لا يتلقون التعليم الديني. صحيح، أن المشاكل الاقتصادية في أوزبيكستان اليوم، كما هو الحال في العالم كله، تأتي في المقام الأول في تفكك العائلات، والمشاكل الاقتصادية هي من أحد الأسباب الرئيسية لزيادة حالات الانفصال الأسري. لكن إذا نظرنا إلى تاريخنا الماضي وحياة أسلافنا وأجدادنا، فسنرى أن هذا لا يمكن أن يكون هو السبب الرئيسي. ففي الحرب العالمية الأولى، وبعد غزو الروس لأراضينا وما تلا ذلك من مجاعات مصطنعة ومجازر سياسية، حدثت في التاريخ الحديث، لم يكن من الممكن أن تتسبب في تفكك العائلات. وحتى المحاكمات القاسية التي تعرض لها آباؤنا وأمهاتنا خلال الحرب العالمية الثانية لم تتسبب في تفكك العائلات، لأن عقيدتهم كانت إسلامية، وأخلاقهم إسلامية، وكان مقياسهم هو الحلال والحرام.

حتى نظام الكفر السوفييتي الذي استمر 70 عاماً لم يتمكن من إيجاد فراغ ديني، لكن سياسة الطاغية كريموف منعت شبابنا من تلقي التعليم الديني، وتستمر هذه السياسة في عهد تلميذه شوكت ميرزياييف. صحيح أنه تم افتتاح بعض المدارس لتعليم تلاوة القرآن الكريم واللغة العربية، ولكن يتم توفير التعليم وفقاً لسياسة الدولة، دون الخروج عن الإطار الذي حددته. فهناك مداهمات متكررة للتحقق من أن المعلمين لا يخالفون هذه القواعد! وبذلك لن تخرج شخصيات إسلامية أبدا.

تعمل دورات القرآن والمدارس الدينية في أوزبيكستان على إرواء عطش المسلمين للثقافة الدينية. ونتيجة لذلك، يتجول الشباب دون أن يجدوا طريقة لحل مشاكل الحياة. الرجال لا يعرفون دورهم في الأسرة، والواجبات التي يجب عليهم القيام بها. إنهم ينشئون الأسرة دون أن يعرفوا وصايا النبي ﷺ الضرورية لبقائها هادئة وقوية ودائمة. كما تتزوج النساء والفتيات دون فهم صحيح لدورهن ومكانتهن في الأسرة، ونتيجة لذلك تصبح مثل هذه الأسر ضعيفة وفاشلة، غير قادرة على الصمود في وجه اختبارات الحياة، وسرعان ما تنهار.

والحل الوحيد لهذه المشكلة هو العودة إلى الحياة الإسلامية. إن الحياة الإسلامية يجب أن تبدأ من جديد، وبهذه الطريقة فقط سيتم إنشاء المؤسسات التعليمية، التي ستخرج شخصيات إسلامية، ونتيجة لذلك، سينظم الشباب حياتهم الأسرية على أساس أوامر وتوجيهات رسول الله ﷺ. وبعد ذلك ستنشأ الثقة، والمودة، والمحبة والسكينة بين الزوجين، ويقل تفكك العائلات في المجتمع. قال سبحانه وتعالى في كتابه الكريم في سورة الروم: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾.

كتاب الله سبحانه وتعالى هو الهداية لنا، وإذا طبقناه في حياتنا فسنعيش حياة سعيدة ومزدهرة في الدنيا، وإذا تركناه فإن عدونا الأكبر الشيطان اللعين، سوف يصرفنا إلى طريق الضلالة، وهذا هو الخسران الكبير الذي يؤدي إلى عذاب جهنم. واليوم، فإن النظام في أوزبيكستان لا يسير على طريق الرحمن، بل يسير على طريق الشيطان وأوليائه ويحاول أن يرضي سادته الكفار. وذلك يؤثر على كافة مجالات المجتمع، مثلما يؤثر على تفكك الأسر. لأنه عندما تُفقد المودة والرحمة في الأسرة، فإن ذلك يسبب اضطرابات في المجتمع كله. ونتيجة لذلك، سينشأ أطفال تصعب رعايتهم، وأجيال ضائعة.

إن السبيل الوحيد للتخلص من كل هذه المشاكل هو إعادة دولة الخلافة الراشدة التي تطبق أحكام الشريعة بدلا من الحكومات العميلة اليوم. هكذا يكون الاستقرار والطمأنينة في المجتمع، والسلام والطمأنينة في العائلات. وحينها سوف تنخفض ​​عدد حالات الطلاق، ولا يتكاثر الأيتام، ولا ينتشر الزنا والفواحش. وإن هذا الأمر على الله يسير، فإنه سبحانه وتعالى قد وعد بأن يظهر دينه على الأديان كلها، ولا يخلف الله وعده. ﴿أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ﴾.

#صرخة_من_أوزبيكستان

#PleaFromUzbekistan

#ЎЗБЕКИСТОНДАН_ФАРЁД

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مخلصة الأوزبيكية

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست