لن تنجح مسلسلاتكم وأفلامكم في صرف الناس عن دينهم!!
لن تنجح مسلسلاتكم وأفلامكم في صرف الناس عن دينهم!!

الخبر:   تحتضن القاعات السينمائية الوطنية (المغرب)، ابتداء من الأربعاء 11 أيار/مايو الجاري، الفيلم السينمائي الكوميدي "الإخوان"، من إنتاج إدريس شحتان مؤسس ومالك قناة شوف تيفي. ويعد فيلم الإخوان كوميديا اجتماعية يحكي قصة 3 أصدقاء (زريقة، الشارو، عبد الصادق) يعتبرون أنفسهم إخواناً (إخوة) فيما بينهم، ينحدرون من حي صفيحي بالدار البيضاء. ...

0:00 0:00
Speed:
May 09, 2022

لن تنجح مسلسلاتكم وأفلامكم في صرف الناس عن دينهم!!

لن تنجح مسلسلاتكم وأفلامكم في صرف الناس عن دينهم!!

الخبر:

تحتضن القاعات السينمائية الوطنية (المغرب)، ابتداء من الأربعاء 11 أيار/مايو الجاري، الفيلم السينمائي الكوميدي "الإخوان"، من إنتاج إدريس شحتان مؤسس ومالك قناة شوف تيفي.

ويعد فيلم الإخوان كوميديا اجتماعية يحكي قصة 3 أصدقاء (زريقة، الشارو، عبد الصادق) يعتبرون أنفسهم إخواناً (إخوة) فيما بينهم، ينحدرون من حي صفيحي بالدار البيضاء.

لكل واحد منهم قصته وهمومه ومشاكله لكن يشتركون في مسألة واحدة هي الفشل في حياتهم التي يطبعها الفقر المادي والعاطفي والعائلي والبطالة والتهميش والفراغ، وبعد التزامهم بغية فرض احترام الناس تيمنا بقدوتهم (لفقيه سلام)، يقعون ضحية تغرير حيث تم استقطابهم وغسل أفكارهم مستغلين سذاجتهم وطيشهم بعد "البوز" الذي خلقه أحد الفيديوهات الذي صوره الإخوان وتم تسريبه على الإنترنت ليكون سببا في إصدار مذكرة بحث أمنية في حقهم عبر التراب الوطني. (وكالة المغرب العربي للأنباء 2022/05/05)

وعرف شهر رمضان بث سلسلتين "المكتوب" و"بيا أولا بيك" تميزتا معا بضرب القيم الإسلامية وإفشاء الفاحشة والرفع من شأن الفساق والفاسقات لجعلهم قدوات للمجتمع وقد نقلت عديد من المنابر الإعلامية المغربية ووسائل التواصل (الاجتماعي) الجدل الذي أحدثة المسلسل الرمضاني "المكتوب".

التعليق:

منذ بداية شهر رمضان المنصرم، بدأت تظهر ملامح الهجمة الإعلامية الشرسة على الإسلام في عدد من بلدان المسلمين، وظهر واضحاً من تزامنها أن المخطِّط لكل هذه الحملات واحد.

لقد دأب أعداء الله منذ زمن على التركيز في شهر رمضان على بث مواد تروج للتفاهة والضحالة واللهو المحرم، وكانوا يخلطون بين تلك الأعمال وبعض الأعمال الدينية كالمسلسلات التاريخية أو قصص الأنبياء، تعمية على الناس وعملاً بالتدرج في الإفساد، ثم خفضوا شيئاً فشيئاً من حصة البرامج الإسلامية حتى أوشكت أن تختفي، وزادوا بالمقابل جرعة برامج التفاهة والإلهاء، ثم انتقلوا بعد ذلك إلى إنتاج مواد لتشويه الحركات الإسلامية خصوصا الجهادية أو تشويه بعض الأفكار والأحكام الإسلامية أو الدعاية للتطبيع، ولكنهم كعادتهم لا يسأمون من رفع جرعات الإفساد، فقرروا أن يمروا إلى مرحلة أعلى، تتمثل في استعمال ما يسمى "الفن" (أفلام ومسلسلات) لضرب العقيدة الإسلامية بشكل مباشر عن طريق محاولة ربط راية التوحيد بالإرهاب، وربط القرآن وأي مظهر من مظاهر التدين والالتزام بالعنف والتطرف والتخلف و...

وتعليقاً على هذا نقول:

- من الواضح أن هذه الجهات الخبيثة تتوفر على إمكانيات مادية عالية، وأنها تتحرك بكل أريحية ولا يعيق عملها أحد، بل على العكس تتلقى كل الدعم والتسهيلات وتفتح لها القنوات الرسمية، وهذا دليل واضح على أن هذه الجهات لا تتحرك من تلقاء نفسها وإنما في إطار مُخطَّطٍ واضح ومدروس ومدعومٍ من أعلى المستويات داخلياً وخارجياً.

- إن كيد الظلمة ومكرهم وإن كان يمكن أن يبلغ ما من شأنه إزالة الجبال، إلا أنه يبور ويفشل أمام صخرة الإسلام ورسوخه في عقول المسلمين، ونبشر تلك الجهات الخبيثة ومن يقف وراءها أنهم سينفقون أموالهم وسيُجهدون أنفسهم، تماماً كما فعل ذلك أسلافهم على امتداد القرون الماضية، وفي الأخير لن ينالوا إلا كما نال من سبقهم: الخزي والحسرة في الدنيا والخسار في الآخرة، وسيظل المسلمون قابضين على دينهم، حتى يأتيهم فرج الله وهم على ذلك.

- إن واجب عموم المسلمين الإعراض عن مثل هذه الأعمال ومقاطعتها، والأخذ على أيدي كل من يشارك فيها وتقريعهم وبيان عظم جريمتهم، وتنبيههم أن الأمر ليس لهواً ومزاحاً، ولا عرضاً محايداً لظواهر مجتمعية كما يدَّعون، وإنما حرب مُعلنة على الله عز وجل ورسوله ﷺ، وأن على كل واحد منا أن يختار الصف الذي يريد أن يصطف فيه ويلقى الله عليه.

- إن واجب العلماء والمفكرين والمؤثرين أن ينكروا على الحكام هذا الذي يسيرون فيه، فالأصل في من استُرعي شؤون الناس أن يحميهم بدنياً وفكرياً، فكما أنه يجب على الحاكم أن يمنع الاعتداء على أبدان الناس وأموالهم، فإنه يجب عليه أن يمنع المساس بدينهم ومقدساتهم، لا أن يكون هو معول الهدم الذي تُنقض به عُرى الإسلام.

وفي الأخير، نقول إن اشتداد الهجمة الخبيثة، دليل على اشتداد التفاف الناس حول الإسلام وتنامي رغبتهم في الاحتكام إليه، فقوة ردة الفعل دليل على قوة الفعل، ولولا شعور الغرب بقرب سحب البساط من تحت أقدامه، ما كان لينفق هذه المبالغ الطائلة ويبذل كل هذه الجهود لصرف الناس عن دينهم، وهو الذي لا ينفق درهماً إلا إذا علم أنه يجني من ورائه مصلحة مادية. فعلى قدر ما نحزن لتبذير أموال المسلمين في إنتاج مثل هذه الأعمال القذرة المنكرة، على قدر ما نوقن أن الفرج قريب.

إن الخلافة على منهاج النبوة القائمة قريباً بإذن الله، والتي ندعوكم لمؤازرة العاملين لها، ستقطع دابر المتآمرين، وستُسخِّر إمكانيات الدولة ليس فقط لترسيخ العقيدة والالتزام في عقول المسلمين، وإنما لحمل الإسلام عقيدة هدى ونور للعالمين لإدخالهم في رحمة ديننا العظيم.

قال تعالى: ﴿وَالَّذِینَ یَمْكُرُونَ السَّیِّئاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیدࣱٌ وَمَكْرُ أُو۟لَئِكَ هُوَ یَبُورُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد بن عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست