لن تنتهي مناقشات النظام وستكون الكلمة الأخيرة لحزب التحرير بإذن الله (مترجم)
لن تنتهي مناقشات النظام وستكون الكلمة الأخيرة لحزب التحرير بإذن الله (مترجم)

الخبر: قال رئيس الوزراء يلدريم، في خطابه في نطاق محادثات الميزانية: "تغيير النظام. انزلاق محور المحادثات هو شيء تافه وقد بدأ يصبح عبثياً. محور تركيا واضح، طريقها واضح، مسار تركيا هو مسار الحضارات المعاصرة، لقد رسم هذا المسار من قبل غازي مصطفى كمال. لقد انتهت مناقشات النظام في عام 1923 بشكل نهائي. وبدعم من شعبنا وبرلماننا، إن برلماننا الموقر قادر على تغيير الدستور الذي سيوفر الاستقرار السياسي في بلادنا. مبارك لجمهوريتنا ولبلدنا ولشعبنا".

0:00 0:00
Speed:
December 28, 2016

لن تنتهي مناقشات النظام وستكون الكلمة الأخيرة لحزب التحرير بإذن الله (مترجم)

لن تنتهي مناقشات النظام

وستكون الكلمة الأخيرة لحزب التحرير بإذن الله

(مترجم)

الخبر:

قال رئيس الوزراء يلدريم، في خطابه في نطاق محادثات الميزانية: "تغيير النظام. انزلاق محور المحادثات هو شيء تافه وقد بدأ يصبح عبثياً. محور تركيا واضح، طريقها واضح، مسار تركيا هو مسار الحضارات المعاصرة، لقد رسم هذا المسار من قبل غازي مصطفى كمال. لقد انتهت مناقشات النظام في عام 1923 بشكل نهائي. وبدعم من شعبنا وبرلماننا، إن برلماننا الموقر قادر على تغيير الدستور الذي سيوفر الاستقرار السياسي في بلادنا. مبارك لجمهوريتنا ولبلدنا ولشعبنا".

التعليق:

منذ إعلان الجمهورية في 29 تشرين الأول/ أكتوبر، ومحادثات النظام تتعالى من وقت لآخر. وبعد أن استمرت فترة حكم رجل واحد حتى عام 1950 وبعد أن دخلت تركيا مرحلة التعددية الحزبية، ومع ذلك وفي هذه الفترة فقد كانت مناقشات النظام الضعيفة موجودة من وقت لآخر. في هذه الفترة، ومنذ تسلم حزب العدالة والتنمية السلطة في عام 2002 وخاصة بعد عام 2013 فقد نوقش هذا الموضوع بشكل أكبر. كان وصول حزب العدالة والتنمية إلى السلطة يزعج القوميين دائماً وكانوا دائماً يقولون للناس بأن الحكومة لديها أجندة خفية. بينما كان حزب العدالة والتنمية يرد على هذه الانتقادات بالقول بأنه ليس لديه أجندة خفية وأنه ليس لديهم مشكلة مع الجمهوريين. ومرة أخرى في هذه الفترة، حيث يتم مناقشة النظام الرئاسي والدستور الجديد، فقد أصبح هذا الموضوع صاحب جدل كبير بين حزب العدالة والتنمية وحزب الشعب الجمهوري. في حين يؤكد حزب الشعب الجمهوري على أهمية النظام البرلماني الإنجليزي الصنع، يقول حزب العدالة والتنمية إنه ليس من الممكن استمراره مع النظام الحالي، أو مع ضرورة وأهمية النظام الرئاسي. يرى حزب الشعب الجمهوري أن هذا الأمر هو تغيير للنظام أكثر من كونه مناقشة النظام، وكانوا قد أكدوا بشدة على أن هذا التغيير هو خط أحمر بالنسبة لهم لا جدال فيه. وبعبارة أخرى فإن حزب الشعب الجمهوري يسعى في اتجاه استمرار النظام البرلماني. حتى إن رئيس حزب الشعب الجمهوري كيليتشدار أوغلو قد قال حول مناقشات نظام الرئاسة في الأشهر الماضية: "دعونا نغير الدستور! لماذا؟ سنجلب النظام الرئاسي. حيث سيتحدث شخص واحد، وستسكت تركيا. وسيتحدث شخص واحد، وسيعطي القاضي الحكم بناءً على ذلك. وسيتحدث شخص واحد، وسيتم إعداد قوائم النواب وفقاً لذلك. لا يمكن تحقيق مثل هذا النظام الرئاسي في هذا البلد دون إراقة الدماء". وبعبارة أخرى فإن حزب الشعب الجمهوري (الموالي للإنجليز) يرى هذا التغيير بأنه أمر موجود. حيث يجب النظر إلى الهجمات الإرهابية المتزايدة من هذا السياق. حيث قال كيليتشدار: "لا يمكن تحقيق النظام الرئاسي في هذا البلد دون سفك الدماء". ويشير البيان إلى أن بريطانيا تقوم بمثل هذه الهجمات مع الجماعات التابعة لها في حزب العمال الكردستاني. حيث يريدون إثارة الخوف والفوضى بين الناس من خلال ذلك، ومن خلال ردود الفعل ضد الحكومة. حيث إنه من الملاحظ أن الهجمات الإرهابية تزداد كلما زاد النقاش حول موضوع النظام الرئاسي وموضوع الدستور الجديد. مثل التفجيرات الأخيرة التي وقعت في حي بشيكتاش في اسطنبول وفي قيصرية... حيث إن بريطانيا تحاول إيصال رسالة مفادها "إما أن تتخلى عن إصرارك على النظام الرئاسي أو أننا سنحرق البلاد". إن الأحداث في تركيا وتلك الموجودة في سوريا تشير على ما يبدو بأن الهجمات الإرهابية ستزداد.

ورداً على هذا فإن حزب العدالة والتنمية يرد على تحركات الإنجليز بتدابير أمنية مشددة ويريد أن ينفذ النظام الرئاسي مهما كان الثمن. فبعد هجوم قيصرية الأخير، قال نائب رئيس الوزراء نعمان كورتولموش خلال مقابلة أجريت معه حول التطورات الأخيرة "هذه الهجمات هي توابع لـ 15 تموز/يوليو" حيث يشير بقوله إلى الإنجليز. وبعبارة أخرى فإن كلا الطرفين يراوغان ويدليان بالتصريحات. ومن ناحية أخرى فإن حزب العدالة والتنمية يريد أن يبين للناس بأن تصريحات حزب الشعب الجمهوري حول تغيير النظام غير عادلة وليس من الممكن الاستمرار مع النظام البرلماني. وبعبارة أخرى فقد صرحوا بأنه ليس لديهم مشكلة مع النظام وأن النظام ضد مطالبات حزب الشعب الجمهوري. ولهذا السبب فقد قال رئيس الوزراء بن علي يلدريم "انتهت مناقشات النظام في عام 1923 بشكل نهائي". حيث ينبغي النظر إلى الموضوع من هذا السياق. في الواقع فإن حزب العدالة والتنمية يدافع عن الجمهورية أكثر من حزب الشعب الجمهوري ويعظم هذا النظام أكثر منهم.

لقد نسي كلا الطرفين أن الأمة تريد الخلافة وتعمل من أجلها. وحتى لو تمكن حزب العدالة والتنمية بجلب وتنفيذ النظام الرئاسي، فإن مناقشات النظام لن تنتهي. وفقط عندما يقيم حزب التحرير دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة بإذن الله، عندها فقط ستنتهي مناقشات النظام وستكون الكلمة الأخيرة حول هذا الموضوع لحزب التحرير بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست