لن تتحقق الوحدة إلا إذا توقف جيش بنغلادش عن خدمة الدول الاستعمارية  والدفاع عن مشروع الخلافة
لن تتحقق الوحدة إلا إذا توقف جيش بنغلادش عن خدمة الدول الاستعمارية  والدفاع عن مشروع الخلافة

  الخبر: ليس كل شيء على ما يرام في بنغلادش، إن جيش بنغلادش الذي هندس الانقلاب ضد حكومة الشيخة حسينة وجلب محمد يونس كدمية أصبح الآن عند مفترق طرق مع النظام الحالي، حيث أصدر قائد جيش بنغلادش واكر الزمان تحذيراً صارخاً للقادة السياسيين في البلاد، مشيراً إلى أن صراعهم الداخلي المستمر يعرّض سيادة الأمة للخطر، كما أعرب عن انزعاجه من العداء المتزايد تجاه الجيش،

0:00 0:00
Speed:
March 07, 2025

لن تتحقق الوحدة إلا إذا توقف جيش بنغلادش عن خدمة الدول الاستعمارية والدفاع عن مشروع الخلافة

لن تتحقق الوحدة إلا إذا توقف جيش بنغلادش عن خدمة الدول الاستعمارية

والدفاع عن مشروع الخلافة

الخبر:

ليس كل شيء على ما يرام في بنغلادش، إن جيش بنغلادش الذي هندس الانقلاب ضد حكومة الشيخة حسينة وجلب محمد يونس كدمية أصبح الآن عند مفترق طرق مع النظام الحالي، حيث أصدر قائد جيش بنغلادش واكر الزمان تحذيراً صارخاً للقادة السياسيين في البلاد، مشيراً إلى أن صراعهم الداخلي المستمر يعرّض سيادة الأمة للخطر، كما أعرب عن انزعاجه من العداء المتزايد تجاه الجيش، متسائلاً عن سبب مواجهة القوات المسلحة للنقد على الرغم من خدمتها للأمة، وقال: "أرى غضباً وكراهية متزايدين تجاه الجيش ورئيس الجيش، ولا أستطيع أن أفهم هذا، ويعمل الجيش والبحرية والقوات الجوية من أجل الشعب، ونحن لسنا هنا للانحياز لأي جانب". وفي نداء أخير للوحدة، حث قائد الجيش جميع الفصائل السياسية على التكاتف وإعطاء الأولوية للمصلحة الوطنية على الصراعات على السلطة. (المصدر)

التعليق:

أدت الاضطرابات القوية التي اندلعت على مدى السنوات الست عشرة الماضية من الحكم القمعي لحسينة المخلوعة إلى انتفاضة جماهيرية في بنغلادش عام 2024. ومع ذلك، سرعان ما شعر الناس بالإحباط لرؤية الصراع السياسي نفسه المتعطش للسلطة بين بقية الفصائل السياسية العلمانية. ومن الواضح أن تصريحات قائد الجيش حول التنافس بين الفصائل السياسية تردد صداها في عقول الناس. وقد أدى الصراع الداخلي المستمر بالفعل إلى تعريض سيادة البلاد للخطر، لأنه كلما تفتتت الأمة بسبب غنائم وثروات السياسة، تسلل الأعداء الأجانب للاستفادة الكاملة من هذا الصراع الداخلي. وفي هذا السياق بالذات، نستطيع مشاهدة أن أمريكا تحاول بشكل يائس الحد من نفوذ الجيش ورئيسه في السياسة العامة، وذلك لأن من المفترض أن الجيش لا يتعاون بشكل كامل مع الحكومة المؤقتة الموالية لأمريكا بقيادة الدكتور يونس. لذلك، فإن بعض الجهات التي تعمل على خدمة المصالح الأمريكية في بنغلادش تدعو قائد الجيش إما إلى إظهار الولاء الكامل للحكومة أو الاستقالة. وتحاول هذه الجهات إثارة الناس ضد قائد الجيش من خلال الزعم بأن بعض المتعاونين مع حسينة والذين لديهم سجلات جنائية شنيعة ظلوا سالمين بسبب التدخلات المباشرة لقائد الجيش، وبعض الادعاءات الأخرى. ويعتقد أن قائد الجيش السابق إقبال كريم بهويان يقود هذه الجهات المؤيدة لأمريكا. إن المناورات السياسية المتأثرة بالخارج هي وحدها المسؤولة عن عدم الاستقرار والانقسام المستمر في بنغلادش. وبكل الوسائل، يحتاج أهل بنغلادش إلى التخلص من هذه العناصر الأجنبية وتأثيرها على السياسة، وهذا هو الشرط الأول "للوحدة الوطنية".

إن النفوذ الأجنبي خنجر ذو حدين ويجعلنا ننزف في كلا الاتجاهين، لقد أنشأت أمريكا من خلال التدريب واللوجستيات والمال، أنشأت كتيبة التدخل السريع لقمع الإسلام السياسي. ولكن بعد أن أصبح الرأي العام ضد هذه القوة بسبب عمليات القتل والتعذيب خارج نطاق القضاء، فرضت أمريكا عقوبات على كتيبة التدخل السريع وجعلتها أداة أخرى للتأثير على السياسة في بنغلادش. والمفارقة هي أن الناس لا يرون الجاني الرئيسي، أي أمريكا. حيث إن كل جذور الانقسام بين الناس مرتبطة بشكل مباشر بهؤلاء المستعمرين الكفار. إنهم يخططون باستمرار لإبقائنا منقسمين، حتى يتمكنوا من البقاء في السلطة مستغلين العداوة الداخلية. لذا، أصبح من شروط "الوحدة الوطنية" أن يتم إعلان الدول الاستعمارية الكافرة كتهديد للأمن القومي، ومن ثم تتحد الأمة بأكملها تلقائياً وتتجمع ضد هذا التهديد المشترك.

سيكون من الحكمة أن يتخلى الجيش وقائده عن الفكرة العبثية التي أطلق عليها "نحن لسنا هنا للانحياز لأي جانب"، إن وجودهم وقَسَمهم يمليان عليهم الانحياز إلى الجانب الصحيح. إن الشخصية الشريرة للسياسيين العلمانيين، والاختلالات المالية، والجشع والفضائح معروفة جيداً. فكيف إذن تتولى قوة كريمة ومنضبطة مثل القوات المسلحة حماية هؤلاء الأفراد؟! كيف تتولى هذه القوات بكل جدية تمهيد الطرق أمام هذه النفوس الشريرة للوصول إلى السلطة؟! هذا عار على الجيش لاعتبارات عديدة. ويجب على الجيش أن يرفع هذا الدعم والحماية المخزيين على الفور، ويجب أن يسحب نفسه من الولاء والتبعية للدول الاستعمارية الكافرة، أمريكا وبريطانيا. وفي الوقت نفسه، يجب على القوات المسلحة أن تبدأ على الفور في الدفاع عن مشروع الخلافة وإيجاد السبل لتنفيذ هذا المشروع في أقصر وقت ممكن، من أجل جعل بنغلادش نقطة ارتكاز القوة العظمى القادمة. إن مشروع الخلافة هذا في الواقع هو مخطط القوة العظمى القادمة مع أكثر من ألف عام من السجلات المثبتة، التي لا مثيل لها في تاريخ البشرية بأكمله. هذا هو الجانب الصحيح من التاريخ ويجب على القيادة العسكرية أن تعترف بالحقيقة. إن انحيازهم إلى هذا الجانب سيجعلهم أبطالاً وستمجد بطولاتهم، ليس فقط من أهل الأرض بل أيضاً من ملائكة السماء، ورضوان من الله أكبر ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ريسات أحمد

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست