لن تُسكتوا الأذان يا أتباع الشيطان
لن تُسكتوا الأذان يا أتباع الشيطان

الخبر: "أقرت اللجنة الوزارية "لكيان يهود" الخاصة بالتشريعات، مشروع قانون يمنع رفع الأذان عبر مكبرات الصوت في مساجد القدس والمناطق القريبة من المستوطنات وداخل الخط الأخضر، وذلك تمهيدا لعرضه على الكنيست لمناقشته والمصادقة عليه. وكان رئيس كيان يهود بنيامين نتنياهو أعلن تأييده مشروع القانون الذي سيمنح - في حال إقراره - شرطة "كيان يهود" صلاحية استدعاء مؤذنين واتخاذ إجراءات جنائية بحقهم، وفرض غرامات مالية عليهم. وورد في شرح القانون بأن مئات الآلاف من اليهود، في الجليل والنقب والقدس، وتل الربيع ويافا، وفي أماكن أخرى، يعانون بشكل غير اعتيادي وبشكل يومي من "الضوضاء الشديدة" التي يحدثها رفع الأذان عبر مكبرات الصوت في المساجد، عدة مرات في الليلة وفي ساعات الصباح الباكر".

0:00 0:00
Speed:
November 17, 2016

لن تُسكتوا الأذان يا أتباع الشيطان

لن تُسكتوا الأذان يا أتباع الشيطان

الخبر:

"أقرت اللجنة الوزارية "لكيان يهود" الخاصة بالتشريعات، مشروع قانون يمنع رفع الأذان عبر مكبرات الصوت في مساجد القدس والمناطق القريبة من المستوطنات وداخل الخط الأخضر، وذلك تمهيدا لعرضه على الكنيست لمناقشته والمصادقة عليه. وكان رئيس كيان يهود بنيامين نتنياهو أعلن تأييده مشروع القانون الذي سيمنح - في حال إقراره - شرطة "كيان يهود" صلاحية استدعاء مؤذنين واتخاذ إجراءات جنائية بحقهم، وفرض غرامات مالية عليهم. وورد في شرح القانون بأن مئات الآلاف من اليهود، في الجليل والنقب والقدس، وتل الربيع ويافا، وفي أماكن أخرى، يعانون بشكل غير اعتيادي وبشكل يومي من "الضوضاء الشديدة" التي يحدثها رفع الأذان عبر مكبرات الصوت في المساجد، عدة مرات في الليلة وفي ساعات الصباح الباكر".

التعليق:

في ظل سياسة الاستخذاء العربي والِإسلامي عن نصرة الأقصى وفلسطين يتمادى كيان يهود بعنجهيته وغطرسته وتحدّيه واستخفافه واستفزازه السافر للمسلمين في كل مكان، وما يسمّى زورا "بالقوانين والمواثيق الدولية التي تكفلت بحماية المقدسات والحق الديني والتاريخي في فلسطين". فهو لا يقيم وزنا لشيء إلا لمشروعه وحلمه لفرض هيمنته على فلسطين كلها بشرا وحجرا وشجرا وبرا وبحرا وتاريخا وحضارة!! فهو يمضي قدماً في الاستيطان وسرقة الأراضي والبيوت، ويستمر في تدنيس الأقصى وخططه لهدمه. وبعد تقسيم وتهويد المسجد الإبراهيمي في الخليل وغيره من مساجد الله في طول فلسطين وعرضها، يأتي الآن بهذا القانون المُخزي بمنع ذكر الله بمكبرات الصوت في مساجده!! وكأن فلسطين ملك لهم! وكأنه ليس لها حضارة إسلامية راسخة رسوخ الجبال! حيث يقارنها رئيس حكومة الاحتلال نتنياهو بأوروبا التي تم في أجزاء منها فرض قيود على مستوى الصوت في المكبرات قائلا: "في كل دول أوروبا توجد هذه المشكلة وهم يعرفون كيف يعالجونها. وهذا القانون في بلجيكا وفرنسا شرعي. فلماذا لا يكون شرعيا عندنا؟ لا يجب أن نكون أكثر ليبرالية من أوروبا". ونسي هذا الخنزير أو تناسى متعمدا أنهم دخلاء عليها وسيرحلون عنها عاجلا أو آجلا... نسي أو تناسى أنها أرض إسلامية عريقة في إسلامها، قال تعالى: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ﴾.

ومن الجدير بالذكر المواقف الرافضة كليا لهذا الإجراء من أهل فلسطين الداخل أو ما يسمى بمناطق الخط الأخضر، حيث تعددت التصريحات المنددة بهذا القرار الذي وصفوه بأنه مساس برمز مقدس وجزء من العقيدة. "وتساءلوا مستهجنين عن حرية الأديان التي تتمسك بها دولة الاحتلال والمجتمع الدولي، عندما يمنع الأذان الذي يصدح منذ 1400 سنة داخل مدينة القدس، وأين هي حرية الأديان عندما يمنع في القرن الواحد والعشرين؟ منوهين إلى أن كل الجيوش التي غزت فلسطين والقدس على مدار التاريخ لم تقدر ولم تستطع منع هذا الأذان! وطالبوا من يزعجه صوت الأذان ويظن أنه في أوروبا بالعودة إلى أوروبا ليأخذ راحته هناك. فهو الذي أتى واحتل وسكن في البلدات العربية وعلى أنقاضها، وأن الهدف من هذا القانون ليس انزعاج اليهود من الأذان، وإنما انزعاجهم من الوجود الإسلامي في مدينة القدس والداخل المحتل، فهو انعكاس لسياسة الاحتلال واستراتيجيته في التهويد، وهو ليس مرتبطاً بالإزعاج أو الضوضاء، بل هو قرار له أبعاد سياسية ومعد له منذ فترة طويلة".

وفي الوقت نفسه تأتي ما تسمى بالسلطة الفلسطينية بسلاح مقاومة فتاك لهذا التعدي الصارخ فتقول "مندّدة مستنكرة" أولا على لسان وزير أوقافها إن "هذا القانون يعبر عن عنصرية تجاوزت الأبعاد السياسية لتصل إلى أبعاد دينية تنذر المنطقة كلها بحرب دينية، من خلال المساس بحرية المعتقدات ووسائل التعبير عنها كما كفلته الشرائع السماوية والقوانين الدولية"! ثم على لسان الناطق الرسمي باسم الرئاسة "مهددا متوعدا "أن القيادة ستتوجه إلى مجلس الأمن الدولي وإلى كل المؤسسات الدولية، لوقف هذه الإجراءات التصعيدية الأخيرة المتمثلة بتشريع البؤر الاستيطانية ومنع الأذان عبر مكبرات الصوت، والتي ستجر المنطقة إلى كوارث وحرب دينية"!! وكأنها ليست من الأساس حرباً دينية عقائدية!! وكأن المجتمع الدولي سينصفهم ويعيد الحق إلى أصحابه ويمنع يهود من صلَفهم وظلمهم!! ألا ساء ما يحكمون.

إن هذا القانون هو مساس بشعيرة من شعائر الإسلام، لا تخص القدس أو فلسطين وحدها بل تخص مليار ونصف مليار مسلم في العالم. والذي ربما ينتظر كيان يهود رد فعلهم على هذا القانون قبل تنفيذه فعليا!! هذه الشعيرة التي شُرّعت في عهد رسول الله rفي المدينة على أثر رؤيا لأحد الصحابة. فقد تشاور رسول الله rمع أصحابه لإيجاد شيء يُعْلِم الناس بدخول الوقت لأداء الصلاة، فقال بعضهم نرفع راية إذا حان وقت الصلاة ليراها الناس، ولكن اعترض آخرون بأنه لا يفيد النائم ولا ينبه الغافل. وقال آخرون نشعل ناراً على مرتفع من الهضاب، فلم يقبل هذا الرأي أيضاً. وأشار آخرون ببوق وهو ما كانت اليهود تستعمله لصلواتهم، وأشار غيرهم باستعمال الناقوس وهو ما يستعمله النصارى فكرههما الرسول rلأنه كان يحب مخالفة أهل الكتاب في أعمالهم، وأشار فريق آخر بالنداء، فيقوم بعض الناس إذا حانت الصلاة وينادي بها فقبل هذا الرأي. ثم تشرف برؤية الأذان في المنام أحد الصحابة الأخيار، وهو عبد الله بن زيد رضي الله عنه، فأقره النبي r، وقد وافقت رؤياه رؤيا عمر بن الخطاب رضي الله عنه، والقصة بكاملها مروية في كتب السنة والسيرة... وعن أبي سعيد الخدري أن النبي rقال: «... لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»... وسينتقم الله لدينه ويحق وعده وهو القائل جل وعلا: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُوْلَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلاَّ خَآئِفِينَ لهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾.. ولن يقطع دابرهم ويقضي عليهم إلا دولة الإسلام القوية، دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة التي وعد الله بها عباده وبشر بها رسوله r.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مسلمة الشامي (أم صهيب)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست