لن يحمي الأسرة والأجيال القادمة إلا سياسيون ذوو رؤية إسلامية
لن يحمي الأسرة والأجيال القادمة إلا سياسيون ذوو رؤية إسلامية

  الخبر:  أعلنت تركيا عام 2025 "عام الأسرة". وفي هذا الإطار، أعلنت عن قروض بدون ربا للأزواج الجُدد وحزم دعم ولادة جديدة للأطفال المولودين بعد 1 كانون الثاني/يناير 2025م.

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2025

لن يحمي الأسرة والأجيال القادمة إلا سياسيون ذوو رؤية إسلامية

لن يحمي الأسرة والأجيال القادمة إلا سياسيون ذوو رؤية إسلامية

(مترجم)

الخبر:

 أعلنت تركيا عام 2025 "عام الأسرة". وفي هذا الإطار، أعلنت عن قروض بدون ربا للأزواج الجُدد وحزم دعم ولادة جديدة للأطفال المولودين بعد 1 كانون الثاني/يناير 2025م.

التعليق:

في المؤتمر الذي حمل عنوان "أسرتنا هي مستقبلنا" والذي أُقيم لإطلاق برنامج عام الأسرة، تحدث أردوغان عن أهمية الأسرة كأساس للمجتمع، وأهمية حمايتها وتربية الأطفال على الأخلاق الحميدة، فضلاً عن انخفاض معدلات الخصوبة، وزيادة سنّ الزواج ومعدلات الطلاق، وسياسات تحييد النوع الجنسي، التي تستخدم فيها المثليين ومزدوجي الميل الجنسي والمتحولين جنسياً ككبش هدم ضدّ مؤسسة الأسرة. وقال إنّ كلّ هذا كان هجوماً واعياً ومتعمداً ومستمراً ومنهجياً ضدّ بنية الأسرة.

وأكدّ أن تركيا "تخسر دماء" من حيث سكانها الشباب المؤهلين، وأنه إذا لم يتمّ اتخاذ التدابير اللازمة ضدّ هذا التهديد الوجودي، فإنّ خسارة ليس فقط السكان ولكن أيضاً النفوذ ستكون حتمية، وبالتالي استذكر دعوته المألوفة لإنجاب ثلاثة أطفال.

هؤلاء الرجال الذين هم على رأس النظام يتحدثون عن هذه الهجمات المنهجية مثل الناس العاديين؛ إنهم يعتبرون الجميع وكل شيء باستثناء أنفسهم مشكلة ومسؤولة، ولكنهم لا يبتعدون قيد أنملة عن الدستور والقانون المدني والنظام القانوني الذي تمّ نسخه ولصقه من الغرب، ولا يتخلون عن نظامه التعليمي العلماني والاتفاقيات الدولية، ويتحدثون وكأنهم ليسوا هم من يوفرون البنية الأساسية اللازمة لصناعة الترفيه، أو يمنحون المنظمات النسوية قدراً أكبر من الكلمة والتأثير من الوزراء المنتخبين من الشعب المسلم، أو يمجدون العلمانية في التعليم. ويتحدثون وكأنهم لا يملكون الأدوات أو القوة لمنع وسائل الإعلام ووسائل التواصل من نشر أنماط الحياة الليبرالية والحريات الجنسية واللذة والأنانية والقيم الرأسمالية المادية تحت اسم حرية الرأي. ويتحدثون وكأنهم ليسوا هم من يحمون سياسات المساواة بين الجنسين وتحييد النوع الجنسي استناداً إلى الاتفاقيات الدولية التي وقعوها بأيديهم! وعلاوةً على ذلك، فإنّ أردوغان وحزبه العدالة والتنمية ساهموا بشكل كبير في تعزيز وجود المثليين في تركيا، وقالوا: "يجب أن يكون للمثليين جنسياً أيضاً ضمان قانوني في إطار حقوقهم وحرياتهم"!

ولكن بالنسبة لهم فإن القضية الحقيقية ليست هي الحفاظ على القيم التي تجعل من الأسرة أسرة، بل الحفاظ على القوى العاملة التي ستُساهم في استمرار النظام الاقتصادي الرأسمالي. وهذا ما يعنيه أردوغان بالتهديد الوجودي وخسارة السكان والنفوذ. فقد توقف معدّل النمو السكاني السنوي في تركيا تقريباً، حيث انخفض إلى 1.1 لكل ألف في عام 2023. كما تمّ تصنيف تركيا وفقاً لمعايير الأمم المتحدة الآن على أنها "دولة ذات سكان مسنين للغاية". وتواجه تركيا الآن مشكلة انخفاض القوى العاملة جنباً إلى جنب مع انخفاض عدد السكان. فقد وصلت إلى مستوى لا يمكنها فيه تنفيذ خدماتها الصناعية والزراعية والصحية والتعليمية بدون قوة عاملة من الخارج.

لا يمكنك أن تجعل الناس يؤسّسون أسرة أو ينجبون أطفالاً بالمال، إلا إذا أزلت عناصر الليبرالية واللذة والأنانية في النظرة إلى الحياة، والتي تمنع الشباب من الزواج. لا يمكنك أن تنشئ أجيالاً ذات أخلاق ما دامت هناك قنوات ومسلسلات تلفزيونية ومنشورات وأنظمة تعليمية تشجع الإلحاد والمثلية الجنسية. لا يمكنك أن تحمي وحدة الأسرة بعد إلغاء تجريم الزنا، وما دام هناك قانون رقم 6283 الذي يمزّق الأسر. وما دامت صناعة الخمور والمخدرات والدعارة مستمرة في العمل، فلا يمكنك منع العنف ضدّ المرأة والعنف المنزلي.

باختصار؛ إن إنقاذ الأسرة، أساس المجتمع، والحفاظ على الأخلاق وتعزيزها في المجتمع أمرٌ ممكن فقط للسياسيين الذين تكون أفكارهم وقيمهم وقوانينهم إسلامية، وبالتالي لديهم رؤية إسلامية ويحكمون بالإسلام. إنهم الذين يحكمون بما أراهم إياه رسول الله ﷺ. في الدولة التي يحكمون فيها؛ العوامل التي تضمن وحدة الأسرة هي التقوى والإخلاص والإحسان، والدولة التي تحافظ على هذه العوامل التي تشكّل حجر الزاوية في الأسرة وتعظّمها وتعلمها، هي القادرة على حماية مؤسسة الأسرة والأجيال القادمة في كل جانب.

قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَمَن يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللهَ وَيَتَّقْهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست