لن ينتهي الإرهاب إلاّ إذا غادر المستعمرون!
لن ينتهي الإرهاب إلاّ إذا غادر المستعمرون!

  الخبر: وقع هجوم بقنبلة أمام وزارة الداخلية في أنقرة، صباح الأحد. وأعلن وزير الداخلية علي يرلي كايا أنّ الحادث الذي وقع الساعة 09:30 هو هجوم إرهابي، وأصيب شرطيان، وتمّ تحييد إرهابيين اثنين أحدهما فجّر نفسه. وفي بيان صدر في اليوم التالي، ورد أن الهجوم نفذه إرهابيو حزب العمال الكردستاني الذين اختطفوا سيارته بعد مقتل طبيب بيطري في قيصري. (وكالات، 2023/10/02)

0:00 0:00
Speed:
October 12, 2023

لن ينتهي الإرهاب إلاّ إذا غادر المستعمرون!

لن ينتهي الإرهاب إلاّ إذا غادر المستعمرون!

(مترجم)

الخبر:

وقع هجوم بقنبلة أمام وزارة الداخلية في أنقرة، صباح الأحد. وأعلن وزير الداخلية علي يرلي كايا أنّ الحادث الذي وقع الساعة 09:30 هو هجوم إرهابي، وأصيب شرطيان، وتمّ تحييد إرهابيين اثنين أحدهما فجّر نفسه. وفي بيان صدر في اليوم التالي، ورد أن الهجوم نفذه إرهابيو حزب العمال الكردستاني الذين اختطفوا سيارته بعد مقتل طبيب بيطري في قيصري. (وكالات، 2023/10/02)

التعليق:

بعد إسقاط الخلافة في 3 آذار/مارس 1924م، تم تقسيم البلاد الإسلامية على أساس العرق والإقليم إلى ما يزيد على 50 كياناً، ونُصّب على كل منها أنظمة مبنية على العلمانية والقومية، وهي مرتبطة بالغرب من القلب. وتمّ زرع الحكام الخونة الذين لم يترددوا في خيانة شعوبهم على رؤوس هذه الأنظمة. لقد نفّذ الغرب الكافر المستعمر من خلال هذه الأنظمة كل أنواع الفتنة والشّر من أجل منع الأمة الإسلامية التي تعيش كجسد واحد في ظلّ الدولة الإسلامية، بأخطائها وعيوبها منذ قرون، من لم الشمل. لقد فرض الرويبضات على المسلمين العلمانية والقومية والوطنية حتى لا يعود الإسلام إلى الحكم، وحتى لا تجتمع الأمة.

إن البلاد التي لا يكفي فيها فرض الأفكار والقوانين، خاصّةً تلك التي تتمتع بديناميكية قوية عند عودة الإسلام، لجأت هي الأخرى إلى أسلوب الإرهاب الغربي. وبهذا المعنى، تُعدّ تركيا من أكثر الدول التي ينتشر فيها الإرهاب، وتحارب التنظيم الإرهابي منذ ما يقرب من 50 عاماً. وبعد بريطانيا التي لعبت الدور الرائد في تدمير الخلافة، انكشف تنظيم حزب العمال الكردستاني بإشعال نار الفتنة على يد الرجال الذين جندتهم أمريكا من الأتراك والأكراد. وهكذا بدأ الكفار المستعمرون في استخدام الإرهاب كسلاح من أجل إضعاف قوة تركيا وتعطيل السلام المجتمعي وتحقيق مصالحهم في تركيا.

إن الإرهاب هو شكل من أشكال العنف السياسي وأصله هو الغرب الكافر المستعمر. يستخدم الإرهابيون أحياناً الشوارع والمراكز التجارية التي ينشغل فيها الناس. ويهدف إلى إثارة الخوف في المجتمع من خلال استهداف الأماكن. وفي بعض الأحيان يهدف أيضاً إلى تقديم رسالة تحذير وتخويف تستهدف أهدافاً محددة ومحدودة.

إن العمل الإرهابي الذي استهدف وزارة الداخلية في أنقرة يشبه هذه الرسالة. حيث يشار إلى أن الهجوم يأتي بعد العمليات التي قامت بها وزارة الداخلية ضد التنظيمات الإجرامية وتجار المخدرات في الأشهر الأخيرة، خاصة مقتل شخصيات بارزة في تنظيم حزب العمال الكردستاني الإرهابي بغارات جوية. وكان وزير الداخلية الجديد علي يرلي كايا، الذي تولّى منصبه بعد الانتخابات التي أجريت في الفترة من 14 إلى 28 أيار/مايو، قد أعطى رسالة مفادها أن هذه العمليات ستستمر بلا هوادة، وأنه سيتمّ قتال هذه المنظمات بلا هوادة. لذلك فإن الهجوم الذي تمّ تنفيذه بواسطة انتحاري هو رد على عمليات وزارة الداخلية. وفي الوقت نفسه، فإن حزب العمال الكردستاني، الذي يتسلح بذراعه مع تجار المخدرات ويكسب دخلاً كبيراً منها، يرسل رسالة مفادها أنه لم يفقد قدرته على التعامل مع هذا الهجوم الإرهابي، وأنه قادر على العمل في قلب أنقرة. وقد ردّت الحكومة فور وقوع العمل الإرهابي بشن غارات جوية على أهداف حزب العمال الكردستاني في شمال العراق، وإطلاق عمليات اعتقال على المستوى المحلي.

ومن ناحية أخرى، يثير هذا الهجوم تساؤلات حول مدى فعالية الاستخبارات. كيف لا يستطيع المسؤولون الحكوميون، الذين يقولون إنهم يعرفون الإرهابيين حتى مقاس أحذيتهم، منع هذا العمل؟! إلى جانب كل هذا، يجب أن يؤخذ في الاعتبار أن البيئة السياسية التي ستتشكل بعد الهجوم ستزيد من الكراهية لحزب العمال الكردستاني، وحزب الشعوب الديمقراطي، وستعزّز الدعم للحكومة.

ونتيجة لذلك، عندما يقوم شخص ما بإعطاء رسالة سياسية، فإن شعبنا المسلم هو الذي يتأثر حقاً هنا. وبينما يعاني شعبنا المسلم من مشاكل كثيرة، خاصة الاقتصادية، فإن المخاوف الأمنية تُفرض عليه. إن حقيقة أن إدارة حزب العدالة والتنمية هي التي شكلت النظام الجمهوري، الذي عفا عليه الزمن وغير قادر على ضمان أمن المجتمع، تحت اسم "قرن تركيا"، لا يمكن أن تخفي فشل النظام العلماني. كما أصبح من الواضح أن النظام الذي لم يملأ وقته إلاّ بتغيير الأشخاص في إدارة الدولة، لا يمكن أن يعطى ماء الحياة.

إن الغرب الكافر المستعمر، خاصة أمريكا وحلف شمال الأطلسي، ينتج ويدعم الأنشطة الإرهابية في منطقتنا، ويضع الخطط والمناورات من أجل إبقاء منطقتنا في بيئة دائمة من عدم الاستقرار والفوضى والأزمات والصراعات، فضلاً عن أنّ الحكومة تعتبرهم أصدقاء وحلفاء رغم الأنشطة العدائية الواضحة لأمريكا وأوروبا وحلف شمال الأطلسي، وهي السّبب الرئيسي لهذه الأعمال الدنيئة.

وبطبيعة الحال فإن الصيغة الوحيدة للخروج من بيئة الصّراع المظلمة هذه هي التخلص من الأساس العلماني لإدارة الدولة وتطهير هذه الأراضي مع كل امتدادات المستعمرين من خلال الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة التي ستحمي البلاد وحياة الأمة وأموالها وأمنها وفق أوامر الله سبحانه، استنادا إلى العقيدة الإسلامية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست