لن ينتهي التضخم القاتل في بنغلادش  إلا بتطبيق نظام نقدي قائم على الذهب والفضة في ظل دولة الخلافة على منهاج النبوة
لن ينتهي التضخم القاتل في بنغلادش  إلا بتطبيق نظام نقدي قائم على الذهب والفضة في ظل دولة الخلافة على منهاج النبوة

  الخبر: أعلن محافظ بنك بنغلادش عبد الرؤوف تالوكدر يوم الأحد عن السياسة النقدية الجديدة للأشهر الستة الأولى من السنة المالية المقبلة، وبالابتعاد عن نهج الاستهداف النقدي السابق، تم تبني السياسة الاقتصادية الجديدة وهي تقوم على سعر ربوي يستهدف اتباع السياسة النقدية الانكماشية. وفي السياسة النقدية الجديدة،

0:00 0:00
Speed:
July 06, 2023

لن ينتهي التضخم القاتل في بنغلادش إلا بتطبيق نظام نقدي قائم على الذهب والفضة في ظل دولة الخلافة على منهاج النبوة

لن ينتهي التضخم القاتل في بنغلادش

إلا بتطبيق نظام نقدي قائم على الذهب والفضة في ظل دولة الخلافة على منهاج النبوة

الخبر:

أعلن محافظ بنك بنغلادش عبد الرؤوف تالوكدر يوم الأحد عن السياسة النقدية الجديدة للأشهر الستة الأولى من السنة المالية المقبلة، وبالابتعاد عن نهج الاستهداف النقدي السابق، تم تبني السياسة الاقتصادية الجديدة وهي تقوم على سعر ربوي يستهدف اتباع السياسة النقدية الانكماشية. وفي السياسة النقدية الجديدة، تتم زيادة سعر الربا لتقليل المعروض النقدي بطريقة تقلل فيه الحكومة الاقتراض من البنوك، كما تم رفع نسبة الربا إلى 9٪ على القروض، ويهدف هذا الإجراء إلى زيادة تكلفة الاقتراض، التي من المتوقع أن يكون لها تأثير محدود على مؤشر أسعار المستهلك للتضخم. وعلاوة على ذلك، سيعتمد بنك بنغلادش الآن على نظام سعر صرف موحد يحركه السوق، ما يسمح بتحديد سعر الصرف بين التاكا والدولار الأمريكي أو أي عملة أجنبية أخرى بواسطة قوى التداول في السوق. وأخيراً، سيقوم بنك بنغلادش بحساب ونشر إجمالي الاحتياطيات الدولية بما يتماشى مع الإصدار السادس من دليل ميزان المدفوعات وموقف الاستثمار الدولي لصندوق النقد الدولي، مع تتبع التداولات الحالية لحساب إجمالي الأصول الأجنبية والإبلاغ عنها. (دكا تريبيون).

التعليق:

على الرغم من عدم قدرة أي من السياسات النقدية التي أعلن عنها بنك بنغلادش في الماضي على معالجة مشكلة التضخم وتقلب سعر الصرف للتاكا مقابل الدولار، فقد رحّب بعض الاقتصاديين ومحللي البنوك المزعومين بالسياسة النقدية الجديدة قائلين إن البنك المركزي جديد ومن المتوقع أن يصبح دعم السياسات محوراً للتنمية الاقتصادية الشاملة. ومع ذلك فهم لا يدركون حقيقة أن السبب الحقيقي للتضخم وتقلّب أسعار الصرف هو العملة الورقية، فقد قام بنك بنغلادش بطباعة أموال جديدة بأكثر من 500 مليار تاكا في الفترة من تموز/يوليو إلى كانون الأول/ديسمبر الماضي بذريعة دعم الميزانية. إلى جانب ذلك، لجأت الحكومة إلى بنك بنغلادش للحصول على قرض جديد بقيمة 700 مليار تاكا في السنة المالية الحالية. وبموجب شروط الاتفاقية مع صندوق النقد الدولي، لا يمكن للحكومة الاقتراض مباشرة من بنك بنغلادش، والذي تمت تغطية قرضه عملياً عن طريق طباعة المزيد من الأوراق النقدية. وقد تسبب هذا بشكل كبير في ضغوط تضخمية وأدى إلى تآكل القوة الشرائية للأفراد، حيث تعرّض الناس لضغوط شديدة من ارتفاع أسعار السلع الأساسية والكهرباء والغاز. وفي هذه الحالة، لا يوجد حل آخر متبقٍ في السياسة النقدية الرأسمالية سوى زيادة وخفض سعر الربا من أجل السيطرة على التضخم. وهذه السياسة الرأسمالية قد فشلت مراراً وتكراراً. فإذا كان سعر الربا مرتفعاً، فإنه سيبطئ من النمو الاقتصادي، لأن الناس لا يقترضون من البنوك بسبب زيادة أسعار الربا بل بسبب الحاجة. وإذا كان سعر الربا منخفضاً، فإنه يؤدي إلى التضخم، بسبب زيادة العرض النقدي في الأسواق بسبب الطلب على الاقتراض بسبب انخفاض أسعار الربا. وبالتالي، يقع البنك المركزي في فخ زيادة أسعار الربا وخفضها وهي مجرد محاولة فاشلة لكبح جماح التضخم. ومن ناحية أخرى، فإن تثبيت سعر الدولار مقابل التاكا بقيمة ثابتة أو اعتماد سعر الصرف القائم على السوق لن يحل أزمة العملة في بنغلادش، فكلا المفهومين هما نسختان من نفس النموذج النقدي للعملة الورقية، حيث لا تكون للعملة قيمة جوهرية.

لا يمكن القضاء على التضخم القاتل بشكل دائم ولا يمكن تحقيق استقرار للعملة حتى نحرر نظامنا النقدي من عبودية النظام الاقتصادي الاستعماري ونطبق نظاماً نقدياً قائماً على الذهب والفضة كما نصت عليه الشريعة الإسلامية. ولن تصدر الخلافة القائمة قريبا بإذن الله، إلا العملة المدعومة بالذهب والفضة، وبالتالي القضاء على التضخم الناجم عن طباعة العملات الورقية المعتمدة على الأصول والسلع. إنّ النظام النقدي القائم على الذهب والفضة من شأنه أن يوقف التلاعب بأسعار الصرف في المعاملات الدولية، وسيؤدي سعر الصرف المستقر لهذا النظام النقدي إلى خفض مخاطر العملة في التجارة الخارجية إلى الصفر، ما سيشجع نمو التجارة الدولية وكسر هيمنة الدولار العالمية بشكل دائم. إنه لمن العار الشديد أن نعاني من الضائقة الاقتصادية التي يسببها النظام الاقتصادي الرأسمالي في الوقت الذي يوجد بين أيدينا ديننا العظيم الذي فيه الحل الحقيقي للتضخم واستقرار العملة، لذلك يجب أن نستيقظ ونعمل على تحرير أنفسنا من براثن هذا النظام الرأسمالي القمعي بإقامة الخلافة الموعودة على منهاج النبوة، قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيفات نواز

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست