لقاء أردوغان والبطة العرجاء أوباما في قمة مجموعة العشرين (مترجم)
لقاء أردوغان والبطة العرجاء أوباما في قمة مجموعة العشرين (مترجم)

الخبر:   "التقى الرئيس رجب طيب أردوغان الذي ذهب إلى هانغتشو للمشاركة في مؤتمر قمة رؤساء دول وحكومات مجموعة العشرين مع الرئيس الأمريكي باراك أوباما. ونتذكر المحادثة الهاتفية التي جرت مع الرئيس الأمريكي أوباما بعد محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو التي قامت بها منظمة فتح الله غولن الإرهابية (فيتو)، والتي خلالها شكر الرئيس أردوغان الرئيس أوباما على دعمه ضد محاولة الانقلاب. وقد أشار إلى الشراكة الاستراتيجية طويلة الأمد بين تركيا والولايات المتحدة والتي قد تحولت إلى شراكة نموذجية في عهد أوباما، وقال الرئيس أردوغان أيضًا إن هذه الشراكة النموذجية ستستمر، وأن البلدين بينهما علاقة خاصة تزداد قوة مع مرور الوقت". [المصدر]

0:00 0:00
Speed:
September 08, 2016

لقاء أردوغان والبطة العرجاء أوباما في قمة مجموعة العشرين (مترجم)

لقاء أردوغان والبطة العرجاء أوباما في قمة مجموعة العشرين

(مترجم)

الخبر:

"التقى الرئيس رجب طيب أردوغان الذي ذهب إلى هانغتشو للمشاركة في مؤتمر قمة رؤساء دول وحكومات مجموعة العشرين مع الرئيس الأمريكي باراك أوباما. ونتذكر المحادثة الهاتفية التي جرت مع الرئيس الأمريكي أوباما بعد محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو التي قامت بها منظمة فتح الله غولن الإرهابية (فيتو)، والتي خلالها شكر الرئيس أردوغان الرئيس أوباما على دعمه ضد محاولة الانقلاب. وقد أشار إلى الشراكة الاستراتيجية طويلة الأمد بين تركيا والولايات المتحدة والتي قد تحولت إلى شراكة نموذجية في عهد أوباما، وقال الرئيس أردوغان أيضًا إن هذه الشراكة النموذجية ستستمر، وأن البلدين بينهما علاقة خاصة تزداد قوة مع مرور الوقت". [المصدر]

التعليق:

عقد الرئيس التركي رجب طيب أردوغان والرئيس الأمريكي باراك أوباما اجتماعًا بشأن العلاقات التركية الأمريكية خلال قمة مجموعة العشرين في الصين. وبعض المعاني التي نُسبت لهذا الاجتماع من قبل بعض الأطراف لا تعكس الحقيقة. وبالمثل، فإن تفسير لغة جسد أردوغان وما نُسب لها فيما يتعلق بمزيد من الدفء تجاه بوتين، وبعدًا أكثر عن البطة العرجاء أوباما، وبالتالي فإن التحليلات التي تتعلق بالسياسة الخارجية والآثار المترتبة عليها ليست دقيقة أيضًا.

إن تركيا دولة عضو في حلف شمال الأطلسي، وأمريكا تؤثر تأثيرًا مباشرًا عليها منذ الحرب العالمية الثانية. وهذا التأثير يكشف عن نفسه في الغالب عند تتبع السياسة الخارجية. فهناك قدرٌ كبيرٌ من الأمثلة وخاصة خلال فترة حكم حزب العدالة والتنمية الحاكم. كما أن تركيا لم تكن قادرة على القيام بسياسات خارجية تتعارض مع المصالح الأمريكية، فكانت تسحب كلامها وتقوم بتحوّلات حول مختلف القضايا.

وقد تركز اجتماع أردوغان وأوباما حول قضيتين مهمتين؛ الأولى هي سوريا والثانية تتعلق بملف فتح الله غولن.

القضية السورية: فإن مجازر نظام الأسد، بما في ذلك استخدام الأسلحة الكيميائية؛ نقلت الأكاذيب عن سوريا من خلال آلة الدعاية الأمريكية، نقلت القضية إلى بعد آخر. فمنذ البداية، اختصرت أمريكا القضية "بمشكلة الإرهاب بدلًا من مشكلة نظام الأسد". فقد دخلت إيران وروسيا وقوات التحالف سوريا، وأخيرا تركيا تحت شعار "الحرب ضد تنظيم الدولة". فهذا بالضبط ما أرادته أمريكا. وهذه الخطوة لم تقم بها تركيا لتواجه السياسة الأمريكية. في الواقع، عندما بدأت العمليات في ظل حماية الطائرات الأمريكية، قال وزير الشئون الخارجية تشاويش أوغلو "خططنا لذلك منذ البداية مع أمريكا"، بينما صرحت أمريكا بعبارات مثل "سندعم العمليات التركية في جرابلس" و"سنوفر الدعم الجوي للعمليات".

أما بالنسبة للمعركة مع حزب الاتحاد الديمقراطي: فقد بيّن تحليل في صحيفة نيويورك تايمز في 28 آب/أغسطس 2016 أن الأطراف المتحاربة في أحدث مناطق الصراع في سوريا جرابلس كانت في الواقع بين فريقين من القوات السورية تدعمهما أمريكا يحاربان بعضها بعضاً، وقد كانا يتلقيان الدعم من وزارة الدفاع الأمريكية (البنتاجون) ووكالة المخابرات المركزية الأمريكية. ونتيجة لذلك، وبالإضافة لروسيا وإيران ومنظمات مثل حزب الاتحاد الديمقراطي، فإن تركيا تخوض أيضًا حربا بالوكالة باسم أمريكا، وذلك ضمن إطار تحدده أمريكا.

وأما فيما يتعلق بمسألة فتح الله غولن: فقد قام بعض وزراء حكومة حزب العدالة والتنمية وذلك بعد محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو مباشرة بإلقاء تعليقات مثل "أمريكا وراء الانقلاب". وقد جرى التصريح بتعليقات على العكس من ذلك أيضًا. وعلاوة على ذلك؛ قال وزير الخارجية مولود تشاويش أوغلو "إننا ضد المشاعر المعادية لأمريكا في تركيا".

وخلال اجتماع أردوغان وأوباما، شكر أردوغان أوباما على دعمه ضد محاولة الانقلاب. وقدمت تركيا وأمريكا مرات عديدة تصريحات متناقضة بخصوص تسليم فتح الله غولن. وقد طالبت تركيا بتسليم غولن عن طريق إرسال عشرات الوفود والرسائل. وقد قال أردوغان عبارات مثل "نحن نقوم بتسليم أعضاء المنظمات الإرهابية عندما تطلب أمريكا ذلك. لماذا لا تقوم أمريكا بفعل الشيء نفسه عندما نطلب نحن ذلك؟". ولكن أمريكا تتذرع بالإجراءات القانونية لإيجاد نوع من التوازن.

إن تركيا تقع في تناقض عندما تطالب بتسليم غولن، الذي تدعي أنه قد أعطى شخصيًا الأمر للقيام بمحاولة انقلاب 15 تموز/يوليو وأنه يمثل "رأس الإرهاب"، ولكنها في الوقت نفسه بطريقة ما تحصل على دعم أمريكا ضد الانقلاب. والنزاع بين حزب العدالة والتنمية وجماعة غولن هو تمامًا مثل المعركة بين وكالة الاستخبارات المركزية والبنتاغون في سوريا. والبطة العرجاء أوباما، الذي على وشك التقاعد من منصبه، سيقوم بنقل القضية إلى الرئيس المقبل.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عثمان يلديز

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست