لقد عيّن الله لنا قائداً، أما الذين عيّنهم الكفار فليسوا قادتنا أبداً!
لقد عيّن الله لنا قائداً، أما الذين عيّنهم الكفار فليسوا قادتنا أبداً!

الخبر:   أعلن وزير الخارجية الأمريكي بلينكن عن المبادئ الأساسية التي يجب على الحكومة السورية الجديدة الالتزام بها، لضمان عدم تحوّلها إلى قاعدة للإرهاب والتطرف وتهديد جيرانها. ...

0:00 0:00
Speed:
December 25, 2024

لقد عيّن الله لنا قائداً، أما الذين عيّنهم الكفار فليسوا قادتنا أبداً!

لقد عيّن الله لنا قائداً، أما الذين عيّنهم الكفار فليسوا قادتنا أبداً!

(مترجم)

الخبر:

أعلن وزير الخارجية الأمريكي بلينكن عن المبادئ الأساسية التي يجب على الحكومة السورية الجديدة الالتزام بها، لضمان عدم تحوّلها إلى قاعدة للإرهاب والتطرف وتهديد جيرانها.

ودعا زعماء الاتحاد الأوروبي إلى عملية سياسية بقيادة سوريا تمنع عودة العنف الطائفي والتطرف والإرهاب.

ويعتقد ترامب أن "تركيا تحمل مفتاح سوريا".

وأعرب أردوغان عن رغبته في ضمان التعامل مع عملية الانتقال بهدوء دون إفساح المجال "لأي حوادث على طول الطريق". وأضاف: "نحن على اتصال مع أحمد الشرع وكلّ من في القيادة السورية الجديدة"، مؤكداً بذلك نفوذه على الميدان.

التعليق:

لقد أنعم الله سبحانه وتعالى على المسلمين في سوريا بنصر عظيم، بإنقاذهم من أحد أعتى طغاة هذا العصر. وهذا النصر، يجب أن يكون خالصاً للمسلمين الأتقياء، أما الخونة والعملاء فلا نصيب لهم فيه.

لقد رحل الأسد الفرعون، وتحرر آلاف الرجال والنساء والأطفال الذين تعرضوا للتعذيب الوحشي في زنزاناته لسنوات. إن هؤلاء الظلمة الذين بنوا الزنازين على عمق سبع طبقات تحت الأرض، وكل من ساندهم أو غضّ الطرف عنهم سوف يذوقون عقابهم في قعر طبقات جهنم السبع في الآخرة.

ولكن من الضروري أن نفهم أسس هذه الثورة، فنحن بحاجة إلى فهم أولئك الذين بدأوها، وأهدافهم والشعارات التي أطلقوها، وبالتالي روح هذه الثورة برمتها. وإلا فإن تضحيات أهل الثورة ودماءهم ستذهب هدراً، ولن ننتقم لشرفنا المنتهك، وشبابنا المدفونين أحياء، وأطفالنا الذين قتلوا بقنابل الغاز.

لذلك يجب ألا ننسى أبداً أن أهل سوريا رفعوا هتافات "هي لله هي لله"، و"الشعب يريد إسقاط النظام"، و"قائدنا للأبد سيدنا محمد"، و"إسلامية إسلامية ثورتنا إسلامية"، و"الشعب يريد الخلافة من جديد". وطالبوا بإنهاء النظام، واستبدال قيادة إسلامية به، وإقامة النظام الإسلامي، ولم يتنازلوا عن هذا المطلب.

والآن، في هذه المرحلة، تتظاهر القوى الغربية وعملاؤها الخونة، الذين غرستهم في البلاد الإسلامية، بأنها تريد أن "يشكل شعب سوريا مستقبلها"، بينما هم أنفسهم يرسمون مسار هذا المصير، فقط للحفاظ على هيمنتهم على بلادنا.

لم تتأخر أمريكا عن حماية الأسد، واستجلبت روسيا وإيران لذلك، فأمطرت المدارس والنساء والأطفال العزّل بالقنابل. وهناك الأمم المتحدة التي سممت مئات الأطفال بتوزيع البسكويت المتعفّن على الناس المحاصرين والجائعين، وانتهكت عفة النساء المسلمات مقابل المساعدات، ووقفت متفرجة على مذبحة بانياس. هؤلاء السفلة ما زالوا يريدون رسم خريطة الطريق لسوريا. لذا، سلموا "المفتاح" إلى حكام تركيا، خدمهم المخلصين، الذين يصورونهم الآن كأبطال. وأردوغان، كعادته، لم يفشل في طاعته لأمريكا. حيث سيكون الضامن لعدم تجاوز النظام الجديد في سوريا للتوجيهات الدولية، وتجاوزه لحدود العلمانية والديمقراطية. لقد تولى أردوغان، كما أراد، مهمة توجيه الإدارة الجديدة "دون حوادث طرق" نحو منع الثورة من تحقيق هدفها، الذي يحاصرها أعداؤها بـ"الطائفية والتطرف والإرهاب". باختصار، سيكون الضامن لاستمرار هيمنة المستعمرين المعادين للإسلام. وهو يفعل ذلك مدركاً تماماً لتحذير الله سبحانه وتعالى، ﴿اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء﴾.

في هذا الصّدد، وعد الجولاني وأنصاره بالفعل بأنهم سيواصلون النظام الحالي مع بقايا نظام الأسد، أي ساسته وقضاته واتفاقياته الدولية. من ناحية أخرى، على الرغم من أنهم أطلقوا سراح شبيحة الأسد وعفوا عنهم، إلا أنهم لم يطلقوا سراح المسلمين الذين سجنوهم ظلماً في إدلب لمجرد قولهم الحق! وفي المقابل، تمّ رفعهم من قائمة الإرهاب الدولية.

لذلك، فإن الثورة في سوريا لم تنته بعد. لم يتمكن الشعب السوري الذي تخلص من بشار الأسد من التخلص من النظام، أي أداة هيمنة الكفار. فقط اسم ووجوه النظام هي التي تغيرت. لا أحد من هؤلاء الأبطال المزيفين الذين يدعون أنهم قادة الشعب السوري يتمتع بنوعية القيادة التي طالب بها المسلمون منذ بداية الثورة.

يجب على أهل سوريا، خاصةً المجاهدين والإدارة الجديدة، ألا يحيدوا ولو قليلاً عن طاعة الله، مهما كلف الأمر. إنّ عليهم أن يعربوا عن رغبتهم في تحقيق أهدافهم، وتطبيق نظام الإسلام، دون أدنى خوف من أعداء الله. وعليهم أن يواصلوا نضالهم من أجل هذه القضية بمزيد من العزم والمثابرة. والأهم من ذلك، أن يتذكروا وعد الله، وأن يظلوا أوفياء لله، ولأنفسهم وللأمة كلها، ولا يعطوا الكفار أي فرصة.

إن المسلمين ليس لهم إلا قائد واحد، وهذه هي الرسالة التي أنزلها الله سبحانه وتعالى خلاصاً وهداية للبشرية جمعاء، على رسوله وعبده محمد ﷺ. حيث يحذّر رب العالمين من يتبع أي شخص أو أي جماعة، أي فكرة أو أي قيمة خارج هذه الرسالة: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوَاْ إِن تُطِيعُواْ الَّذِينَ كَفَرُواْ يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَاسِرِينَ﴾، ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾.

باختصار؛ كلّ هذه التفسيرات تكشف أنّ الله سبحانه وتعالى قد حدّد للبشرية طريقاً يجب أن تسلكه، وهذا يعني أننا لدينا بالفعل قائد معين عينه الله سبحانه وتعالى لنا، وبوجوده، لا يمكن لمن عيّنهم الكفار أن يصبحوا قادتنا أو حكاماً علينا.

لذلك، يحتاج أهل سوريا إلى السّير على الطريق الذي بدأوه، واتباع قيادة القرآن والسنة فقط. وعلينا أن نسير معهم ونتبع هذه القيادة ونجسدها كأفراد وهياكل سياسية وكأمة وأخيراً كدولة، وعندها سننجو من البؤس ونحقق الرخاء وأفضل الأفضل في كل شيء. سنحقق الرخاء ليس لأنفسنا فحسب بل وللبشرية جمعاء. إن إقامة هذه القيادة في صورة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة ليس من حق المسلمين في سوريا وفي جميع أنحاء العالم فحسب، بل إنه في الواقع مسألة حياة أو موت حقيقية.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست