لتقف الوزيرة الفرنسية عند حدّها، فالإسلام يعلو ولا يُعلى عليه
لتقف الوزيرة الفرنسية عند حدّها، فالإسلام يعلو ولا يُعلى عليه

 الخبر:   قالت وزيرة الأسر والطفولة وحقوق النساء في فرنسا، لورانس روسينول، في تصريحات أدلت بها لـ"راديو مونتي كارلو"، الأربعاء (30 آذار/مارس 2016): "أرى أنّ هناك من النساء من يخترن ارتداء الحجاب، ولقد كان هناك أيضًا زنوج أمريكيون يساندون الاستعباد (...)، أعتقد أنّ كثيرًا من النساء المحجبات هن مناضلات الإسلام السياسي، وأنا أواجههن على مستوى الأفكار وأندد بمشروع المجتمع الذي يحملنه". (المصدر: وكالة الأناضول)

0:00 0:00
Speed:
April 02, 2016

لتقف الوزيرة الفرنسية عند حدّها، فالإسلام يعلو ولا يُعلى عليه

لتقف الوزيرة الفرنسية عند حدّها، فالإسلام يعلو ولا يُعلى عليه

الخبر:

قالت وزيرة الأسر والطفولة وحقوق النساء في فرنسا، لورانس روسينول، في تصريحات أدلت بها لـ"راديو مونتي كارلو"، الأربعاء (30 آذار/مارس 2016): "أرى أنّ هناك من النساء من يخترن ارتداء الحجاب، ولقد كان هناك أيضًا زنوج أمريكيون يساندون الاستعباد (...)، أعتقد أنّ كثيرًا من النساء المحجبات هن مناضلات الإسلام السياسي، وأنا أواجههن على مستوى الأفكار وأندد بمشروع المجتمع الذي يحملنه". (المصدر: وكالة الأناضول)

التعليق:

خلف ستار الثقافة الغربية والتي تعطي السفهاء كما تعطي من يتربعون زورا بين صفوف المفكرين، الحق في الكلام بل بجعجعة تنفّسُ عن أحقاد سنوات مرّت بانطباع صور التاريخ الطويل في أذهان هؤلاء، عندما كانوا يخضعون صغاراً أمام سلطان الإسلام عندما ساد العالم وساد على عنجهيتهم وطأطأ رؤوسهم، كما جعلهم يحسبون لحروف كلماتهم ألف حساب قبل النطق بها.

فهذه الوزيرة والتي تدّعي الدفاع عن الحقوق وخاصة حقوق المرأة، تنفث سمّها والذي سيقتلها قبل أن تنال مرادها تجاه لباس المسلمات العفيفات، اللواتي كنّ محط أنظار نسوة مقهورات ومظلومات لا ترقى نظرة الرجال لهنّ سوى لإشباع ملذاتهم وشهواتهم الحيوانية، في حين كنّ يرين المرأة المسلمة المكرمة بدينها كزوجة وأم وابنة يذاد عن أعراضهن بجيوش لا نهاية لها.

فهذه الوزيرة وعلى الرغم من تطاولها على لباس المسلمات لتصفهن بالعبيد فهي لم تستطع البوح الصريح بمكنون داخلها العنصري، والإبانة عن وجهها البشع، ولسانها القذر تجاه كل ما له علاقةٌ بالدين الإسلامي، بالتوازي مع الهجمة الشرسة على الإسلام والمسلمين في كل أنحاء العالم، من أقصى الشمال إلى أقصى الجنوب، فالحقائق والوقائع ظاهرة بائنة لكل ذي بصيرة وليست بحاجة لكثير من الشرح وإبراز الدلائل والبراهين، بأن ما تخفي صدورهم أعظم بكثير.

فمنذ أحداث الحادي عشر من أيلول/سبتمبر والذي جاء بلسماً شافياً على أفئدة موبوئي الفكر، والذي فتحت أمامهم بوابةً كبيرةً جداً كانوا ينتظرونها ليبينوا عن عقائدهم المنحرفة، ومكنون أنفسهم المريضة. فهؤلاء الأغبياء لم يدركوا لحظةً واحدةً أن دورة التاريخ قريبة إن شاء الله وسيأتي اليوم الذي ستندحر فيه ثقافتهم وعنجيتهم راغمةً متبوعةً بلعنات التاريخ، ولم يفطن هؤلاء إلى أن الأمة الإسلامية لن تغفر لهم ما مارسوه في حقها، وما تلفظت به ألسنتهم المسمومة بالعنصرية والحقد والكره الدفين.

وسنعيد لذهنكِ أيتها الوزيرة صوراً من التاريخ الذليل لكم والعزيز لأمة ستعيد هيبتها ولو بعد حين ليقف كل ناعق عند حدّه:

* كانت كنائس أوروبا توقف دقَّ أجراسها خوفاً من الأسطول العثماني وهيبةً منه.

* في عام 1538م سحق خير الدين القائد العام للأسطول العثماني، أسطول شآرل الخامس الذي كان يُعرف بإمبراطور أوروبا في معركة بروزة التي تحالفت فيها كل أوروبا للقضاء على الإسلام.

* خلال الحرب الإيطالية 1542-1546م وتحديداً في عام 1544م أعلنت إسبانيا الحرب على فرنسا، فأرسل فرانسوا الأول ملك فرنسا في "ذلٍّ وخضوع" طلب المساعدة من السلطان سليمان القانوني، فأرسل القائد خير الدين على رأس أسطول كبير وتمركز في مارسيليا التي تنازل عنها الفرنسيون للعثمانيين لمدة 5 أعوام.

صور هي غيض من فيض، نعلم أنها لم تغب عن ذهنكِ ولكنّها إعادة في التذكير لك ولغيرك ولتعلموا أن المسلمين واعون على ما تكيدونه لهم، فكل هذه السمفونية الطويلة العريضة والمتكررة، تريدون بها أن تصل إلى نتيجة واحدة وهي أن تجتمع شعوبكم الغربية على العداء للإسلام بعد أن يثاروا ويُعبَّأوا لينخرطوا في حروبكم الصليبية التي أعلنتموها صراحة في العالم الإسلامي. وهذا إن دلّ على شيء فإنما يدل على أنكم بدأتم تتلمسون أن المسلمين بدأوا يعودون إلى دينهم بقوة ليقودهم من جديد، وأنه لم ينفع في منع ذلك كلّ ما استخدمتموه من امتلاك واستعمال القوة المفرطة ضدهم، وممارسة كل أنواع الإذلال للخضوع والاستسلام.

أيها المسلمون:

إن مواجهة ما يجري أمر مطلوب. ولو كانت هناك دولة إسلامية قائمة لتولت هي عملية المواجهة، لأن هيبة الدولة وقوتها تشكلان أكبر مانع لحدوث ما هو أقل من ذلك. لذلك لا بد من العلم أن هذا الذي يجري يوجب على كل مسلم العمل لإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي لو كانت قائمة لما وُجدت مثل هذه الحملات الشرسة، والتي لو وُجدت لتصرفت معها بما يليق، ولجعلت من يتلفظ بالسوء على المسلمات العفيفات يدفع الثمن الغالي كما فعل الرسول e مع اليهود لأنهم تواطؤوا على كشف عورة امرأة مسلمة واحدة، وكما فعل المعتصم عندما جيّش جيشاً جراراً لامرأة استغاثت وامعتصماه.

فإن كان حكام الغرب يريدون من شعوبهم أن تلتف حولهم من أجل خوض حروبهم الصليبية، ففي المقابل فإننا نريد من المسلمين وأهل القوة فيهم أن يلتفوا حول العمل لإقامة الخلافة الراشدة التي تقطع دابر أمثال هؤلاء، وتقطع ألسنتهم عن تناول الإسلام، ولا يكون الرد بأسلوب دفاع لأن الإسلام يعلو ولا يُعلى عليه. وليضع جميع المسلمين في ذهنهم أن أولى الأولويات الشرعية في المواجهة هو العمل لإقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة يكون الخليفة فيها هو جنة المسلمين والدين. قال الرسول e: «إنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به».

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رنا مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست