ليس اتباع النهج غير التقليدي، بل النظام الاقتصادي الإسلامي سينقذ تركيا
ليس اتباع النهج غير التقليدي، بل النظام الاقتصادي الإسلامي سينقذ تركيا

  الخبر: أدلى نور الدين النبطي، وزير الخزانة والمالية، الذي ألقى كلمة افتتاحية في "قمة التحول الاقتصادي والنماذج الجديدة" التي استضافتها وزارة الخزانة والمالية، أدلى تصريحات تتعلق بالاقتصاد. وقد فسر الوزير النبطي الاقتصاد باستخدام كلمات مستعارة غريبة الأطوار حيث استخدم هذه العبارات: "النهج غير التقليدي، الذي يمثل انفصالاً معرفياً عن الفكر الاقتصادي الكلاسيكي الجديد، يكتسب أهمية أكبر مع الاقتصاد السلوكي والعصبي الذي يتصدر بشكل متزايد اليوم". (وكالات، 2022/09/29م)

0:00 0:00
Speed:
October 14, 2022

ليس اتباع النهج غير التقليدي، بل النظام الاقتصادي الإسلامي سينقذ تركيا

ليس اتباع النهج غير التقليدي، بل النظام الاقتصادي الإسلامي سينقذ تركيا

(مترجم)

الخبر:

أدلى نور الدين النبطي، وزير الخزانة والمالية، الذي ألقى كلمة افتتاحية في "قمة التحول الاقتصادي والنماذج الجديدة" التي استضافتها وزارة الخزانة والمالية، أدلى تصريحات تتعلق بالاقتصاد. وقد فسر الوزير النبطي الاقتصاد باستخدام كلمات مستعارة غريبة الأطوار حيث استخدم هذه العبارات: "النهج غير التقليدي، الذي يمثل انفصالاً معرفياً عن الفكر الاقتصادي الكلاسيكي الجديد، يكتسب أهمية أكبر مع الاقتصاد السلوكي والعصبي الذي يتصدر بشكل متزايد اليوم". (وكالات، 2022/09/29م)

التعليق:

تستمر الأزمة المالية التركية التي أثرت في كل مكان مع انخفاض قيمة الليرة التركية بعد الوباء، تستمر في إرهاق الناس عن طريق تعميقها يوماً بعد يوم، لأنه لم يتم اتخاذ خطوة واقعية بعد. ومن ناحية أخرى، يحاول المسؤولون الحكوميون الذين يشعرون بضرورة إدلاء تصريحات للشعب في أجواء الانتخابات المقبلة، تشتيت الانتباه عن المصدر الحقيقي للمشكلة عن طريق إنقاذ اليوم من مبادرات مثل "النموذج الاقتصادي التركي". ومع ذلك، يجب ترجمة كل جملة يصدرها وزير الخزانة والمالية إلى لغة منطوقة، ويغرق المسؤولون الحكوميون وهم يتكلمون، ويبتعدون عن الناس عندما يتحدثون.

نور الدين النبطي، وزير الخزانة والمالية، الذي سخر من صعوبة الناس المالية بإعطائه جواباً مفاده "هل يمكنك النظر في عيني؟ الاقتصاد هو البريق في العيون"، ردا على سؤال يتعلق بالأرقام في النظام الجديد خلال برنامج تلفزيوني حضره العام الماضي، وهذه المرة أصبح موضوع نقاش في الرأي العام بسبب الكلمات المستعارة التي استخدمها خلال "قمة التحول الاقتصادي".

الوزير النبطي، الذي ذهب بين الكلمتين غير التقليدية والتقليدية في خطابه، أظهر في الواقع أن ما يسمى بـ"النموذج الاقتصادي التركي" ليس سوى النسخة التركية من الرأسمالية. لأن كل معرفة تحمل مضموناً مبدئياً. والمفاهيم التي يستخدمها النبطي ليست مستقلة عن المبدأ الرأسمالي. علاوة على ذلك، يكفي النظر إلى النظام المطبق والسياسات الاقتصادية المنفذة منذ قيام الجمهورية لفهم تبعية تركيا للمبدأ الرأسمالي.

هذا هو الحال؛ نظام اقتصادي تعتمد فيه العملة المحلية على الدولار الأمريكي، وتعمل البنوك الربوية كمحركات في الاقتصاد، ويتم استغلال العمالة والأرباح من خلال الضرائب والتلاعب، والأهم من ذلك، يتم تحديد القوانين السارية وفقاً للقواعد الرأسمالية العالمية، ولا يغير حقيقة أنه نظام رأسمالي، بغض النظر عن الاسم الذي يُطلق عليه أو الملابس التي يُحاول ارتداءها.

ما يميز تركيا جزئياً عن الاقتصادات الأخرى، وهو ما يريد الوزير النبطي شرحه بمفهوم "غير التقليدي"، هو تخفيض الحكام والبنك المركزي المتعمد لقيمة الليرة التركية. عادةً ما يكون واجب البنوك المركزية في العالم هو إضافة قيمة إلى عملة الدولة من خلال الربا، ولكن في تركيا يتم اتباع سياسة معاكسة. وبحسب أطروحة الحكومة، فإن الصادرات ستزداد مع تنفيذ النموذج الاقتصادي التركي الجديد، وسيعطى فائض الحساب الجاري مع زيادة فائض التجارة الخارجية والإنتاج المحلي، وبالتالي سينخفض ​​التضخم. ومع ذلك، منذ أيلول/سبتمبر 2021، عندما خفض البنك المركزي سعر الربا، تضاعف التضخم، واستمر العجز المالي وعجز التجارة الخارجية في النمو واستمر سعر الصرف في الارتفاع. على الرغم من أن أردوغان يحاول تبرير هذه السياسة على أساس أطروحة "الربا هو السبب، والتضخم هو النتيجة" من خلال المعارضة المزعومة للربا، في الواقع، يكون الفائز مرة أخرى هو جماعات الضغط على أسعار الربا والخاسر هم أهل تركيا. لأننا عندما ننظر إلى المؤشرات الاقتصادية نجد أن الصورة معاكسة تماماً لما قاله أردوغان. وبالمثل، في الأشهر الستة الأولى من عام 2022، عندما تم تطبيق النموذج الجديد، الذي يقال إنه يحارب الربا، تجاوز معدل ربح البنوك 400٪. ناهيك عن العديد من البيانات السلبية الأخرى التي تؤدي إلى تآكل دخل الناس.

لذلك، فإن الكلمة الوحيدة التي يجب أن تُقال عن الاقتصاد هي حقيقة أن الرأسمالية هي السبب وأن الأزمات هي النتيجة. والحل لا يكمن في الأساليب غير التقليدية التي هي تطبيق مختلف للرأسمالية، ولكن الحل هو في تطبيق نظام الاقتصاد الإسلامي الذي يؤمن به الشعب التركي. لأنه في النظام الاقتصادي الإسلامي، لا يسمح بوجود البنوك الربوية بأي شكل من الأشكال، وتحرم جميع أشكال الربا، ويتم حل مشكلة الربا بشكل جذري. وفي النظام الاقتصادي الإسلامي، النظام النقدي ليس نظاماً نقدياً للأوراق النقدية يسبب التضخم، ولكنه معيار ذهبي له قيمة مناسبة. وأيضا، في النظام الاقتصادي الإسلامي، تكون أنواع الملكيات محددة، ولا يُسمح للشركات بنهب الملكيات العامة، ويُؤخذ التوزيع العادل للثروة بين الناس كأساس. باختصار، النظام الاقتصادي الإسلامي هو الضامن الوحيد للعدالة والتقدم، كما كان الحال في تاريخ الإسلام الممتد 1300 عام. وبصفتنا مسلمين، يجب علينا أن نعمل سوياً لإقامة دولة الخلافة الراشدة التي تطبق نظام الاقتصاد الإسلامي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست