ما المقصود من هجمات أمريكا على قوات قاتلت بجانبها في العراق؟
ما المقصود من هجمات أمريكا على قوات قاتلت بجانبها في العراق؟

  الخبر:   قال مسؤولون أمريكيون إن الجيش الأمريكي نفذ ضربات جوية يوم الأحد 2019/12/29 على جماعة كتائب حزب الله المسلحة ردا على مقتل متعاقد مدني أمريكي في هجوم صاروخي على قاعدة عسكرية عراقية فيها وجود أمريكي. وقالوا: "إن واشنطن تحلت بضبط النفس والصبر في وجه استفزازات متصاعدة من جانب إيران أو جماعات تدعمها إيران". ...

0:00 0:00
Speed:
January 01, 2020

ما المقصود من هجمات أمريكا على قوات قاتلت بجانبها في العراق؟

ما المقصود من هجمات أمريكا على قوات قاتلت بجانبها في العراق؟

الخبر:

قال مسؤولون أمريكيون إن الجيش الأمريكي نفذ ضربات جوية يوم الأحد 2019/12/29 على جماعة كتائب حزب الله المسلحة ردا على مقتل متعاقد مدني أمريكي في هجوم صاروخي على قاعدة عسكرية عراقية فيها وجود أمريكي. وقالوا: "إن واشنطن تحلت بضبط النفس والصبر في وجه استفزازات متصاعدة من جانب إيران أو جماعات تدعمها إيران".

وقد أعلن عن مقتل 25 عنصرا وإصابة 55 آخرين. وذكر مكتب رئيس الوزراء عادل عبد المهدي أن "رئيس الوزراء وصف الهجوم الأمريكي على القوات المسلحة العراقية بأنه اعتداء آثم ومرفوض وستكون له تبعات خطيرة". وقال رئيس الوزراء عبد المهدي في تصريح نقله التلفزيون العراقي يوم 2019/12/30 "إنه تم إبلاغه بالضربات الجوية قبل ساعات من تنفيذها في اتصال هاتفي مع وزير الدفاع الأمريكي مارك إسبر وإنه قام بإبلاغ كتائب حزب الله. وإنه حاول وقف الضربة الأمريكية لكن وزير الدفاع الأمريكي قال إن القرار اتخذ".

التعليق:

إننا نرفض العدوان الأمريكي، بل إننا نرفض الوجود الأمريكي في العراق كما رفضنا الاحتلال الأمريكي من أول يوم. ولكن إيران وأتباعها في العراق دعموا الاحتلال الأمريكي، وقاتلوا بجانبه ودمروا الرمادي والفالوجة والموصل ومناطق عديدة في بغداد عدا التهجير القسري للكثير ممن لا ينتمون لمذهبهم من بغداد ومناطق أخرى ليحكموا سيطرتهم على بغداد وحواليها وذلك بموافقة أمريكية، وقاتلوا بجانب القوات الأمريكية ضد المقاومين للاحتلال الأمريكي، وأفتى آيتهم في العراق بحرمة مقاومة الاحتلال، وتفاهم مع الحاكم الأمريكي بريمر. وقد اعترف المسؤولون الإيرانيون من رفسنجاني إلى أبطحي إلى نجاد بمساعدتهم لأمريكا في احتلالها للعراق وأفغانستان والاستقرار فيهما ودعموا الحكومات والأنظمة التي أقامتها أمريكا فيهما، وقام نجاد بزيارة البلدين وهما تحت الاحتلال الأمريكي. وقد أيدوا أمريكا في وضع الدستور العراقي الطائفي العفن وقاموا بتطبيقه وحرصوا عليه، وما زالوا يحرصون على تطبيقه، وانخرطوا في الحكم الذي أقامته أمريكا، ووقعوا الاتفاقيات الأمنية والاستراتيجية مع أمريكا التي تسمح بالوجود والتدخل الأمريكي في العراق إلى أجل غير مسمى.

وقد ضاق الناس من ظلمهم فانتفضوا في وجوههم الكالحة السواد وأفواههم الكاذبة التي تفوح بالنفاق والخداع السياسي، ودعوا إلى إسقاطهم وإسقاط النظام الذي أقامته أمريكا، فتصدوا للمنتفضين فقتلوا وجرحوا الآلاف منهم، إلى أن اضطر رئيس الوزراء عبد المهدي إلى إعلان الاستقالة. ولكن مطالب المحتجين لم تتحقق حتى الآن، وما زالوا منتفضين.

ففي هذا السياق يأتي ويقوم تنظيم منخرط في الدولة التابعة لأمريكا وإيران السائرة في ركاب أمريكا، وهو جزء من الجيش العراقي، يأتي ويقوم بعد غياب طويل من التشدق بمقاومة الأمريكان بإطلاق صواريخ على وجود أمريكي ويقتل متعاقدا أمريكيا، في عملية استفزازية مقصودة ليجعل أمريكا تضربهم! وقد أعلم الأمريكان رئيس الوزراء قبل ساعات بأنهم سيقومون بتوجيه ضربات ردا على ذلك، وبدوره قام رئيس الوزراء بإعلام تلك الكتائب التابعة للدولة وحذرهم، ولكن لم يأخذوا حذرهم وكأنهم يقولون لتضربنا أمريكا وهذا ما نريده. أليس كل ذلك يدل على ألاعيب مشكوك فيه؟! أي أنها مرتّبة حتى تقوم أمريكا بتوجيه هذه الضربة! والمقصود صرف أنظار الناس عن الاحتجاج عليهم وعلى نظامهم الجائر المتعفن الذي أقامته أمريكا ويقوده عملاؤها إلى إظهار بطولة زائفة بمقاومة الأمريكان! وكذلك جعل الناس يتناسون الجرائم التي ارتكبتها هذه المليشيات ضد الأهالي وأن تحافظ على مكتسباتها بل سرقاتها لثروات البلاد وظلمها للناس!

إن أمريكا عدو محتل ومهيمن على العراق بموافقة إيران وأتباعها في العراق، وقد قاتلوا لحسابها في سوريا وما زالوا يقاتلون الشعب السوري الذي ثار على النظام السوري العلماني وعلى عملاء أمريكا القائمين على النظام وعلى رأسهم الطاغية بشار أسد. فهؤلاء لن يخدعوا الناس ببطولات زائفة، وهم يقاتلون بجانب أمريكا ولحسابها ولتركيز نفوذها يقومون أحيانا بإطلاق صاروخ على يهود أو صاروخ آخر على أمريكان للتغطية على رائحتهم الكريهة وأيديهم الملطخة بدماء المسلمين الزكية المنتفضة على أمريكا وأنظمتها وعملائها والرافضة لاحتلال يهود لفلسطين.

إن مقاومة أمريكا والطريق الصحيح لطردها من المنطقة تأتي أولا بإسقاط الأنظمة التابعة لها في سوريا والعراق وغيرها والانتهاء عن الدوران في فلكها، بجانب نبذ الطائفية والنعرات العصبية والقضاء عليها والاعتراف بكل المذاهب الإسلامية واعتبارهم إخوة، والدعوة إلى تطبيق الإسلام بعيدا عن التعصب المذهبي بوضع دستور إسلامي مستنبط من الكتاب والسنة متجسدا في دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست