مع أصدقاء مثل أمريكا، من يحتاج إلى أعداء؟
مع أصدقاء مثل أمريكا، من يحتاج إلى أعداء؟

  الخبر: أسقطت الولايات المتحدة منطاداً على ارتفاع عالٍ في الرّابع من شباط/فبراير بعد أن سافر عبر العديد من الولايات الأمريكية، واتُهمت الصّين بالتجسّس على مواقع عسكرية أمريكية حسّاسة. زعم أحد عناوين صحيفة الغارديان في التاسع من شباط/فبراير أن "الصين تستخدم مسرحية بالون التجسس لإثارة الحماسة القومية". كما أوضحت صحيفة الغارديان أن "آلة الدّعاية للحزب الشيوعي قد قطعت كل السبل لضمان توافق الرأي العام مع رواية الحزب".

0:00 0:00
Speed:
February 16, 2023

مع أصدقاء مثل أمريكا، من يحتاج إلى أعداء؟

مع أصدقاء مثل أمريكا، من يحتاج إلى أعداء؟

(مترجم)

الخبر:

أسقطت الولايات المتحدة منطاداً على ارتفاع عالٍ في الرّابع من شباط/فبراير بعد أن سافر عبر العديد من الولايات الأمريكية، واتُهمت الصّين بالتجسّس على مواقع عسكرية أمريكية حسّاسة. زعم أحد عناوين صحيفة الغارديان في التاسع من شباط/فبراير أن "الصين تستخدم مسرحية بالون التجسس لإثارة الحماسة القومية". كما أوضحت صحيفة الغارديان أن "آلة الدّعاية للحزب الشيوعي قد قطعت كل السبل لضمان توافق الرأي العام مع رواية الحزب".

التعليق:

لماذا تتّهم إحدى وسائل الإعلام الغربية الكبرى وسائل الإعلام الصينية بأنها هستيرية وخاضعة لرواية الحزب الشيوعي بينما يمكن قول الشيء نفسه وأكثر بكثير عن وسائل الإعلام الغربية الهزيلة التي حوّلت كل تركيزها فجأةً من الحرب الروسية الأوكرانية باعتبار بوتين العدو الأكبر للغرب إلى شيطنة الصّين بمجرد أن تمّ الإبلاغ عن منطاد غامض لأوّل مرة في المجال الجوي الأمريكي؟ منذ ذلك الحين، تمّ الإبلاغ عن ثلاثة أجسام أخرى مجهولة الهوية، وسرعان ما أسقطتها الطائرات الحربية الأمريكية في 10 و11 و12 شباط/فبراير.

في الوقت نفسه، تستعر الآن أكبر حرب برية وأكثرها دموية منذ الحرب العالمية الثانية في أوروبا بين قوة نووية كبرى ووكلاء حلف شمال الأطلسي في أوكرانيا. لقد تمّ دفع اقتصادات أوروبا إلى ركود حاد، وقد فقدت كل من روسيا وأوكرانيا ما لا يقل عن 100 ألف جندي حتى الآن في صراع سيزداد شراسة قبل أن ينتهي. لماذا إذن احتلت الصين مركز الصدارة لمدة أسبوعين؟

لا جديد في تجسّس الصين على أمريكا، فكلا البلدين يتجسس على الآخر بوسائل عديدة. قد يكون هذا الموضوع بمثابة ستار دخان لإخفاء قضايا أكثر أهمية بكثير، وهذا من شأنه أن يجعل وسائل الإعلام الغربية دمية في الأجندة السياسية أكثر من وسائل الإعلام الصينية. في الواقع، تمّ دفن العديد من القصص المروعة المتعلقة بالحرب في أوكرانيا عبر وسائل الإعلام الرئيسية خلال الأسبوعين الماضيين.

إنّ أهم القصص المدفونة هي ادّعاء الصحفي الاستقصائي الشهير سيمور هيرش أن قصف خط أنابيب نوردستريم 1 و2 قامت به أمريكا بمساعدة النرويج. وصف هيرش بالتفصيل كيف تمّ التخطيط لهذا الهجوم وتنفيذه. نظراً لأنّ مصدر القصة كان مجهولاً، فمن الصعب التحقّق منه، لكن أمريكا هي الدولة الوحيدة التي لديها دافع واضح للهجوم. يحاول السياسيون الأمريكيون منذ سنوات إجبار ألمانيا على التوقف عن شراء الغاز الرخيص من روسيا عبر خطوط أنابيب نوردستريم. بعد فشله في منع ألمانيا من المضي قدماً في افتتاح خط أنابيب نوردستريم 2، تراجع بايدن عن التهديدات السابقة وتعرّض للتوبيخ من العديد من أعضاء الكونجرس الجمهوريين. ثم هدّد بوتين أوكرانيا إذا لم يتراجع الناتو عن عسكرة أوكرانيا، وتجددت التهديدات الأمريكية ضد نوردستريم.

قال وكيل الوزارة نولاند: "إذا غزت روسيا أوكرانيا، بطريقة أو بأخرى، فإن نورد ستريم 2 لن يتحرك إلى الأمام". وفي وقت لاحق قال بايدن: "إذا غزت روسيا... لن يكون هناك نورد ستريم 2. وسنضع حداً له". وعندما سأل أحد المراسلين كيف ستنهي أمريكا مشروع نورد ستريم عندما يكون المشروع تحت سيطرة ألمانيا، ابتسم بايدن وأجاب: "سنكون، أعدك، سنكون قادرين على القيام بذلك". الآن، غزت روسيا التاريخ، وتمّ تخريب خطوط أنابيب نوردستريم، وفقدت ألمانيا خيار شراء الغاز الروسي وهي الآن تدفع أكثر بكثير مقابل شحن الغاز الأمريكي عبر المحيط الأطلسي. بالتأكيد، يجب أن تكون هذه هي القصة الأولى في الغرب! إذا فجرت أمريكا خطوط الأنابيب، فسيكون ذلك بمثابة عمل إرهابي دولي مباشر ضدّ أحد الحلفاء المفترضين لها. أبلغ التيار السائد لفترة وجيزة عن المزاعم إلى جانب الإنكار الأمريكي ثم ماتت القصة.

قصة أخرى تجاهلتها وسائل الإعلام الغربية كانت المزاعم بأنّ المليشيات الأوكرانية تستخدم أسلحة كيماوية ضدّ القوات الروسية. ظهرت مقاطع فيديو على الإنترنت تظهر على ما يبدو تركيب عبوات غاز للطائرات بدون طيار وإسقاطها على الجنود الروس. بالتأكيد، سيكون ذلك جديراً بالتقرير. هل ستتجاهل أمريكا ووسائل الإعلام المستعبدة الاستخدام المحتمل للأسلحة الكيميائية إذا ظهرت مقاطع فيديو تظهر أن روسيا تفعل ذلك؟

على الرّغم من المزاعم بأن روسيا تفشل في الحرب، فقد حشدت روسيا جميع مواردها الصناعية ومئات الآلاف من الجنود الجدد للانضمام إلى القتال، في حين إن المخزونات العسكرية الأوروبية تنخفض لدرجة أن بريطانيا وألمانيا تعرضتا لانتقادات بسبب وجود القليل منها فقط. أيام من الذخيرة إذا احتاجوا إلى تعبئة جيوشهم الصغيرة. على الرّغم من الكلمات الغربية الشجاعة، والخسائر العسكرية الروسية، يبدو أن روسيا تتمتع بميزة ساحقة تتمثل في الأرقام التي ستؤدي في النهاية إلى انهيار الدفاعات الأوكرانية وإذلال الناتو. ربما لهذا السبب تريد أمريكا وخدمها الأوروبيون الحمقى تصوير الصين الآن على أنها أكبر أعدائهم، من أجل التقليل من الإذلال الناتج عن الانهيار النهائي لحرب الناتو ضدّ روسيا في أوكرانيا. ستضعف أوروبا وستكون مشغولة بروسيا، وستدمر أوكرانيا، بينما ستكون أمريكا قادرة على التركيز على الصّين. مع أصدقاء مثل أمريكا، من يحتاج إلى أعداء؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست