ما بين سياسات التجويع والتهجير والقتل والسجن ماذا بقي لكم يا أهل الكنانة؟!
ما بين سياسات التجويع والتهجير والقتل والسجن ماذا بقي لكم يا أهل الكنانة؟!

الخبر: نقلت جريدة مصر العربية الأحد 2016/10/2م، عن بنك الاستثمار "بلتون"، أن البنك المركزي سيقدم على إجراء تعويم للجنيه المصري خلال ساعات، معتبرا لقاء الرئيس عبد الفتاح السيسي مع محافظ البنك المركزي السبت بمثابة "تأييد سياسي نهائي للقرار "التعويم"، وتوقع بلتون فاينانشال، في مذكرة بحثية تحت عنوان "التنبيه الأخير: التعويم خلال ساعات"، أن يصل سعر الدولار بعد التعويم إلى 11.5 أو 12.5 جنيه، يأتي هذا بينما وصل سعر صرف الدولار في سوق الصرف وبحسب الجريدة نفسها بتاريخ 2016/10/5 إلى 14 جنيها للبيع بينما وصل الشراء لـ 13.90 جنيها، وسط توقعات لمتعاملين بزيادة الأسعار ظهر اليوم نفسه الأربعاء.

0:00 0:00
Speed:
October 09, 2016

ما بين سياسات التجويع والتهجير والقتل والسجن ماذا بقي لكم يا أهل الكنانة؟!

ما بين سياسات التجويع والتهجير والقتل والسجن

ماذا بقي لكم يا أهل الكنانة؟!

الخبر:

نقلت جريدة مصر العربية الأحد 2016/10/2م، عن بنك الاستثمار "بلتون"، أن البنك المركزي سيقدم على إجراء تعويم للجنيه المصري خلال ساعات، معتبرا لقاء الرئيس عبد الفتاح السيسي مع محافظ البنك المركزي السبت بمثابة "تأييد سياسي نهائي للقرار "التعويم"، وتوقع بلتون فاينانشال، في مذكرة بحثية تحت عنوان "التنبيه الأخير: التعويم خلال ساعات"، أن يصل سعر الدولار بعد التعويم إلى 11.5 أو 12.5 جنيه، يأتي هذا بينما وصل سعر صرف الدولار في سوق الصرف وبحسب الجريدة نفسها بتاريخ 2016/10/5 إلى 14 جنيها للبيع بينما وصل الشراء لـ 13.90 جنيها، وسط توقعات لمتعاملين بزيادة الأسعار ظهر اليوم نفسه الأربعاء.

التعليق:

أرض الكنانة التي حباها الله بخيرات قلما توجد في بلد آخر من حيث الموقع والمناخ ونوع التربة وحتى مسطحاتها المائية ورمال صحرائها، ثروات وموارد لا تعد ولا تحصى، بينما شعبها يعاني فقرا مدقعا جراء حكم طغمة من السفهاء يطبقون عليهم الرأسمالية النفعية في أبشع صورها، وفي المقابل نرى شعبا لا حول له ولا قوة مورست عليه سياسات تجهيل لعقود طويلة جعلته لا يفرق بين عدوه وصديقه، إلى جانب كونه شعبا عاطفيا تحركه المشاعر؛ ما سهل على الغرب سرقة ثوراته والالتفاف عليها وإعادة إنتاج أنظمته القمعية بأسوأ من سابقتها.

في عام 1945 انضمت مصر إلى صندوق النقد الدولي، وتم تحديد سعر الجنيه المصري بقيمة ثابتة من الذهب تعادل 3.6728 جراما (أو 4.133 دولار)، إلى أن وصلت به الحال في وقتنا الحالي وبعد فك الارتباط بالذهب وتعويم الجنيه، إلى أن يصبح الدولار الواحد يساوي 14 جنيهاً مصرياً وقابلة للزيادة في الأيام القادمة، فما هي أسباب هذا الانخفاض؟ وكيف نواجهها؟ وما هو المتوقع حدوثه جراء هذا الانخفاض في قيمة الجنيه؟ وما هي أسبابه؟ وكيف نعالجها؟ وما هو الحل لمشكلات العملة الورقية فاقدة القيمة بدون غطاء ذهبي؟.

إن أخطر أسباب هذا الانخفاض هو الدخول في صندوق النقد الدولي والخضوع لشروطه وقوانينه والتخلي عن الغطاء الذهبي للعملة الذي يعطيها قيمة ذاتية، مع وقوع البلاد تحت ربقة العمالة التي ترعى الرأسمالية كنظام حكم يمنح الممولين في الصندوق الحق في استثمارات وامتيازات في بلادنا مقابل ما تكبل به البلاد من قروض هي في واقعها قيود قاتلة للدولة على المدى القريب والبعيد، ولهذا فأول ما يواجه به هذا الانخفاض هو إسقاط النظام الذي يحافظ على العمالة والارتباط بالغرب الكافر وسياساته وقلع كل أدواته ورموزه من الحكام العملاء والنخب والإعلاميين والسياسيين الفاسدين وأصحاب المال الملوث، والانعتاق الكامل من التبعية للغرب الكافر بكل أشكالها وصورها، سواء أكانت في صورة صندوق النقد الدولي أو الأمم المتحدة أو حتى الأحلاف العسكرية أو ما شابه، ثم إعادة العملة إلى أصلها الذهب والفضة أو ما ينوب عنهما من عملة ورقية لها غطاء ذهبي له قيمة في ذاته وليس مجرد ورقة لا قيمة لها كما هي حال جل العملات الورقية الآن والتي تستمد قيمتها من الدولار الذي يستمد قيمته من دولته الاستعمارية وقوتها على المسرح الدولي والتي إذا اهتزت أو أزيحت عن مكانتها كدولة أولى صار الدولار في خبر كان! وفوق كل هذا فإن هذه المواجهة تحتاج إلى قيادة واعية مخلصة تحمل منهجا قادرا على قيادة الكنانة والأمة وتحقيق هذه الأمور التي سبقت، فإسقاط النظام بلا نظام بديل مغاير له قادر على علاج مشكلات الناس هو نوع من العته أو الدوران في حلقة مفرغة تتيح للغرب إعادة إنتاج نظامه بوجوه أخرى وتمكنه من خداع الناس ولو لبعض الوقت وتفقد الشعوب الثقة فيمن يقودهم نحو التغيير، لذا فلا بد من وجود النظام البديل المغاير القادر على صرع الرأسمالية وأفكارها ووجود من يحمله من رجال قادرين على بيان ما عليه العملاء وبيان تآمرهم على الأمة، أو بمعنى أدق قادرين على تحمل تبعة صراع الغرب وأدواته وتوجيه الأمة بما ينصرها عليهم في صراع الأفكار، وليس للأمة في هذا المضمار إلا حزب التحرير وشبابه وما لديه من نظام جاهز للتطبيق في ظل الخلافة على منهاج النبوة فهي وحدها الكفيلة بعودة كل ما يرنو إليه أهل الكنانة من رغد عيش وأمن وأمان، بل والأمة كلها وليس أهل الكنانة فقط.

يا أهل الكنانة! إن ما يتوعدكم به حكامكم هو مزيد من الفقر والجوع والألم والمعاناة وليس أمامكم مهرب ولا مفر وقد رأيتم مصير الفارين من جحيمهم إلى البحر كيف كان في مراكب الموت، ورأيتم كيف يبني هذا النظام السجون والمعتقلات وكيف يجهز السلاح والعتاد لا لحرب عدوكم بل لكم أنتم ولكل من تسول له نفسه أن يعترض على سياساته القائمة منها والقادمة، فما الذي تخافون عليه بعد الآن؟! ولا أمان لكم على أرواحكم ولا على أقواتكم وأرزاقكم.

يا أهل الكنانة! ليس لكم إلا أن تضعوا أيديكم في يد حزب التحرير وأن تخرجوا معه رافعين راية نبيكم مطالبين معه بالخلافة على منهاج النبوة تعيد لكم أمنكم وكرامتكم وثرواتكم وخيراتكم وتمكنكم من الانتفاع والتمتع بها وتمنع الغرب من نهبها وسلبها واستعبادكم بما يلقيه لكم من فتاتها، فكونوا معهم وحرضوا أبناءكم في جيش الكنانة على نصرتهم وتسليم الحكم لهم فلا خير لهم ولكم إلا بالخلافة التي يحملون الدعوة إليها ولن تنفعكم المشاريع والقروض الرأسمالية، ولو أغدقت عليكم الأموال فستكون أشبه بالمسكنات بينما يستشري المرض العضال حتى يصبح الفكاك منه مستحيلا، ولا علاج إلا ما ذكرنا ونذكر ونصرخ به لكم ليل نهار (خلافة على منهاج النبوة) وسنظل نقولها لكم ونقوم بها فيكم حتى تقام ويعلو سلطانها في الأرض وستذكرون ما أقول لكم وأفوض أمري إلى الله.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست