مع ضياع الخلافة، أصبحت جيوش المسلمين أداةً لقتل أطفال الأمة بدلاً من الدفاع عنهم! (مترجم)
مع ضياع الخلافة، أصبحت جيوش المسلمين أداةً لقتل أطفال الأمة بدلاً من الدفاع عنهم! (مترجم)

الخبر:   في ليلة الثاني من نيسان/أبريل، أصابت غارة جوية أفغانية اجتماعاً لعلماء الدين والطلاب وغيرهم من المدنيين في مدرسة الهاشمية في مقاطعة قندوز شمال أفغانستان، مما أسفر عن مقتل أكثر من 100 شخص، معظمهم من الأطفال، وفقاً لعدد من شهود العيان. فقد تجمع المئات في المدرسة الدينية في ذلك الوقت لحضور مراسم تخريج الأطفال، حيث تبلغ أعمار بعضهم 11 أو 12 سنة، ويحصلون على جوائز لاستكمالهم حفظ القرآن الكريم. ووفقاً لمسؤولين صحيين في قندوز، فإن أصغر إصابة كانت لطفل يبلغ من العمر 7 سنوات فقط. وبرر محمد رادمانش المتحدث باسم وزارة الدفاع الأفغانية الهجوم على أنه استهدف كبار قادة ومقاتلي طالبان حيث زعم أنهم كانوا موجودين في المبنى في ذلك الوقت، ووصفه بعض المسؤولين الأفغان بأنه مركز لتدريب المجموعات المسلحة. قامت القوات الجوية الأفغانية، بدعم من مستشاري حلف الناتو بقيادة أمريكا، بزيادة غاراتها الجوية في البلاد في الأشهر الأخيرة ضد طالبان. ...

0:00 0:00
Speed:
April 11, 2018

مع ضياع الخلافة، أصبحت جيوش المسلمين أداةً لقتل أطفال الأمة بدلاً من الدفاع عنهم! (مترجم)

مع ضياع الخلافة، أصبحت جيوش المسلمين

أداةً لقتل أطفال الأمة بدلاً من الدفاع عنهم!

(مترجم)

الخبر:

في ليلة الثاني من نيسان/أبريل، أصابت غارة جوية أفغانية اجتماعاً لعلماء الدين والطلاب وغيرهم من المدنيين في مدرسة الهاشمية في مقاطعة قندوز شمال أفغانستان، مما أسفر عن مقتل أكثر من 100 شخص، معظمهم من الأطفال، وفقاً لعدد من شهود العيان. فقد تجمع المئات في المدرسة الدينية في ذلك الوقت لحضور مراسم تخريج الأطفال، حيث تبلغ أعمار بعضهم 11 أو 12 سنة، ويحصلون على جوائز لاستكمالهم حفظ القرآن الكريم. ووفقاً لمسؤولين صحيين في قندوز، فإن أصغر إصابة كانت لطفل يبلغ من العمر 7 سنوات فقط. وبرر محمد رادمانش المتحدث باسم وزارة الدفاع الأفغانية الهجوم على أنه استهدف كبار قادة ومقاتلي طالبان حيث زعم أنهم كانوا موجودين في المبنى في ذلك الوقت، ووصفه بعض المسؤولين الأفغان بأنه مركز لتدريب المجموعات المسلحة. قامت القوات الجوية الأفغانية، بدعم من مستشاري حلف الناتو بقيادة أمريكا، بزيادة غاراتها الجوية في البلاد في الأشهر الأخيرة ضد طالبان. ومع ذلك، فقد قتل العديد من المدنيين، بما في ذلك الأطفال خلال هذه الضربات الجوية. وقد طالبت أحدث استراتيجية عسكرية أمريكية في أفغانستان إلى استثمار كبير في القوات الجوية الأفغانية. وفي تشرين الأول/أكتوبر الماضي، أعلن القائد العسكري الأمريكي البارز في أفغانستان أن أسطولاً جديداً من 159 مروحية من طراز بلاك هوك، يقودها طيارون أفغان، سيساعد في خلق "تسونامي من القوة الجوية" ضد متمردي طالبان. كما أرسلت أمريكا طيارين أفغاناً إلى أمريكا وبلدان أخرى لتدريبهم على تشغيل أنواع القوة الجوية الجديدة.

التعليق:

أليست القوات المسلحة التابعة للأمة الإسلامية ملزمةً أمام الله سبحانه وتعالى بحماية المسلمين، بدلاُ من قتلهم وقتل أولادهم؟ ألا ينبغي استخدام المعدات العسكرية للمسلمين للقتال بهدف إعلاء الدين وضد أعداء الإسلام، أولئك الذين يضطهدون ويذبحون الأمة؟ ألم يقل الله سبحانه وتعالى في كتابه العزيز: ﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾؟ ألم يقل رسولنا الحبيب r: «قَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا»؟!!

ومع ذلك، فمع ضياع دولة الخلافة، درع المسلمين، تم تجاهل أوامر الله سبحانه وتعالى، وتحولت القوات المسلحة للأمة إلى أداة لإرهاب وقتل أطفال الأمة من قبل الحكام الطغاة لأراضينا نيابةً عن مصالح أسيادهم الغربيين - كما رأينا في أفغانستان وباكستان واليمن وسوريا والعراق... إن الادعاء بأن هؤلاء الضحايا من الأطفال هم عبارة عن الأضرار الجانبية المؤسفة في هذه الحروب ليس ذريعةً كافيةً أمام الله سبحانه وتعالى!!

في هذه الأثناء، يتم قتل الأطفال والشباب المسلمين في سوريا وفلسطين وميانمار وكشمير وأماكن أخرى من قبل أعداء الله، ومع ذلك لا يتم حشد جنديٍ مسلمٍ واحدٍ ولا طائرةٍ مقاتلةٍ واحدةٍ من جيوش هذه الأمة للدفاع عنهم! ففي السابع من نيسان/أبريل، شهدنا مرةً أخرى هجومًا كيميائيًا مروعًا على دوما في الغوطة الشرقية في سوريا، حيث قتل العشرات، العديد منهم من النساء والأطفال. لقد أوقفنا العد للمجازر والهجمات التي تستهدف المسلمين، حيث رأينا أجساد الأطفال الملطخة بالدماء في الشام وهم يلهثون من أجل التنفس، مخنوقين ويعانون من الحروق التي لحقت بهم جراء الأسلحة الكيميائية التي أطلقها عليهم الجزار بشار. وبالرغم من ذلك، وفي ظل غياب القيادة الإسلامية المخلصة، فإن هذه الأنظمة الخسيسة في البلاد الإسلامية ستستمر بلا شك في منعها للجنود في بلادنا الإسلامية من الذهاب لمساعدة إخوانهم وأخواتهم، وستمنعهم باستمرار من الوفاء بواجبهم الإسلامي تجاه ربهم، للدفاع عن دم المسلمين، وتحريرهم من مضطهديهم، مع أن الله سبحانه وتعالى قال: ﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾.

كيف يتناقض هذا الأمر مع دور وعمل الجيش المسلم في ظل الحكم الإسلامي للخلافة، حيث اكتسبوا مكانةً مرموقةً لكونهم سيوف الله سبحانه وتعالى وأبطال الأمة، والمدافعين عن حقوق الإنسان ومحرري المسلمين والمظلومين. فعلى سبيل المثال، في القرن الثامن الميلادي، عندما تم أسر بعض النساء المسلمات والأطفال من قبل الملك الهندوسي - رجا ضاهر في السند، أرسل الخليفة الأموي الوليد بن عبد الملك على الفور جيشاً قوياً، تحت قيادة القائد الشجاع محمد بن القاسم لإنقاذهم. واجه جيش المسلمين جيشاً أكبر منه بعدة مرات لكن المسلمين هزموهم، وأنقذوا النساء والأطفال المسلمين من آسريهم وحرروا جميع السند من الحكم الهندوسي الاستبدادي.

إن هذا الشهر المبارك شهر رجب، يذكرنا بالانتصارات العظيمة التي حققها المسلمون في ظل حكم الإسلام، لكنه أيضًا يذكرنا بكارثة فقدان دولة الخلافة العظيمة، وبصفتنا مسلمين علينا أن نتذكر الحاجة الملحة إلى إعادة إقامة الخلافة على منهاج النبوة؛ إن عودة هذه القيادة الإسلامية الصحيحة ستعيد جيوش المسلمين إلى هدفها الحقيقي؛ لتكون حامية لأمتها وأطفالها وتقاتل من أجل دينها.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتورة نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست