ما كان لماكرون أن يتجرأ على الإسلام لو كان له دولة يحكمها رجال
ما كان لماكرون أن يتجرأ على الإسلام لو كان له دولة يحكمها رجال

  الخبر: نقلت صحيفة سما العالم الإلكترونية السبت 2020/10/3م، استنكار مجمع البحوث الإسلامية بالأزهر الشريف التصريحات الأخيرة الصادرة عن الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون، والتي اتهم فيها الإسلام باتهامات باطلة، ورفضه الشديد لتلك التصريحات التي تنسف كل الجهود المشتركة بين الرموز الدينية للقضاء على العنصرية والتنمر ضد الأديان، مؤكداً أن مثل هذه التصريحات العنصرية من شأنها أن تؤجج مشاعر ملياري مسلم ممن يتبعون هذا الدين الحنيف. بينما غرد شيخ الأزهر الخميس 2020/10/1م،

0:00 0:00
Speed:
October 08, 2020

ما كان لماكرون أن يتجرأ على الإسلام لو كان له دولة يحكمها رجال

ما كان لماكرون أن يتجرأ على الإسلام لو كان له دولة يحكمها رجال


الخبر:


نقلت صحيفة سما العالم الإلكترونية السبت 2020/10/3م، استنكار مجمع البحوث الإسلامية بالأزهر الشريف التصريحات الأخيرة الصادرة عن الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون، والتي اتهم فيها الإسلام باتهامات باطلة، ورفضه الشديد لتلك التصريحات التي تنسف كل الجهود المشتركة بين الرموز الدينية للقضاء على العنصرية والتنمر ضد الأديان، مؤكداً أن مثل هذه التصريحات العنصرية من شأنها أن تؤجج مشاعر ملياري مسلم ممن يتبعون هذا الدين الحنيف. بينما غرد شيخ الأزهر الخميس 2020/10/1م، معلنا استنكاره وغضبه الشديد من إصرار بعض المسئولين في دول غربية على استخدام مصطلح الإرهاب الإسلامي غير منتبهين لما يترتب على هذا الاستخدام من إساءة بالغة للدين الإسلامي والمؤمنين به، مضيفا أنَّ هؤلاء السادة الذين لا يكفون عن استخدام هذا الوصف الكريه "الإرهاب الإسلامي" لا يتنبهون إلى أنهم يقطعون الطريق على أي حوار مثمر بين الشرق والغرب ويرفعون من وتيرة خطاب الكراهية بين أتباع المجتمع الواحد.

التعليق:


قبل أيام خرج علينا الرئيس الفرنسي بتصريحات قال فيها إن الإسلام يعيش اليوم أزمة في كل مكان بالعالم، معتبرا التشتت الذي يراه العالم أثرا لتلك الأزمة معلنا استراتيجيته لما يصفه بالتشدد الإسلامي، وتباينت ردود الفعل على تصريحات ماكرون وإن كان جلها لم يتعرض للأزمة الحقيقية التي يعيشها ماكرون ورأسماليته التي يعتنقها ويدافع عنها والتي لا ترى خطرا عليها إلا في الإسلام، وماكرون يدرك بطبيعة الحال ما لا يدركه كثير ممن انتقدوا تصريحاته؛ يدرك أن الإسلام طريقة عيش تناقض وجهة النظر الرأسمالية وتفضحها وتبين عوارها وأن تلك الرأسمالية لا حياة لها مقابل الإسلام خاصة في ظل أزماتها المتلاحقة وانهيارها الوشيك مع صعود الإسلام المتنامي وقرب احتمالية عودته الحتمية للحياة ليكون فاعلا في المسرح الدولي مؤثرا وموجها لقوانينه وأعرافه وهو ما يخشاه الغرب ويعمل على منع حدوثه.


بعيدا عن تصريحات ماكرون والأزمة التي يعيشها واستراتيجيته التي ينتويها نرى تلك الردود الباهتة من أبناء الأمة وعلى رأسهم الأزهر وشيخه وهم سبب من أسباب جرأة ماكرون على الإسلام، فشيخ الأزهر الذي وقع على وثيقة الأخوة الإنسانية والذي يصمت على ثورة السيسي الدينية، كما يصمت على جرائمه في حق مصر وأهلها وقتله لشبابها وشيوخها، وغلقه للمساجد وهدمها وتفريغها من مهمتها، فكل ما يصمت عنه الأزهر وشيخه أشد وأكبر جرما عند الله مما قاله ماكرون، وإن عبّر قوله عن مدى حقده على الإسلام ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ ‏مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ﴾ إلا أن الصمت على امتهان ديننا في بلادنا هو ما جرأ مثله على القول والفعل.


إن واجب الأزهر وشيوخه ليس الرد على ماكرون وإنما توجيه الأمة نحو ما يقض مضجعه ويؤرق ليله ونهاره ويظهر له الأزمة التي يعيشها بحق حينما يكون للإسلام دولة تحميه وتدافع عنه وتقطع كل لسان يتطاول عليه، بل وأكثر من ذلك تخرج فرنسا وغيرها من الدول الاستعمارية من بلادنا وتنهي عقود نهبهم لثرواتنا، فما كان لفرنسا وغيرها أن تبقى دون ما تسرقه من خيرات بلادنا، واللصوص لا نحاورهم ولا نناقشهم بل نقطع يدهم وهو ما يجب أن يكون رد الأزهر وشيوخه على ماكرون ومن على شاكلته، ولن تقطع يد الغرب التي تسرق بلادنا غير خلافة راشدة على منهاج النبوة تحفظ للأمة كرامتها وعزتها وفي وجودها يفكر المتطاول ألف مرة قبل أن يتجرأ على دينها ونبيها فضلا عن أرضها وثروتها


يا شيخ الأزهر! إن الرد الوحيد على ماكرون والعلاج الذي يشفيه من مرض العنجهية وينسيه وساوس الشيطان، هو استئناف الحياة الإسلامية من خلال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، أنت أولى الناس بحمل رايتها والدعوة إليها ودعوة الناس للمطالبة بها، وتحريض أبناء الأمة في الجيوش على نصرتها وحثهم على إقامتها، لتنهي عقود هيمنة الغرب على بلادنا وتكسر طوق التبعية الذي يحيط أعناقنا.


أيها المخلصون في جيش الكنانة! الله الله في دينكم وأمتكم، والله ما تجرأ هذا الغر على دينكم إلا عندما أمن جانبكم وعندما رأى صمتكم على حاكم يمتهن دينكم ويهدم مساجدكم بأيديكم، ألا فلتغضبوا لله غضبة تريه منكم ما يجب، غضبة تقتلع عرش فرعون وتغرقه في اليم من جديد، وتورث الأرض الذين آمنوا وكانوا يتقون ليقيموا بكم دولة العز التي يخشى الغرب ذكرها ويسعى إلى منعها ومنعكم من نصرتها وإقامتها، فأقيموها يغتاظ الغرب ويرضى ربكم عنكم خلافة راشدة على منهاج النبوة، اللهم عجل بها واجعلنا من جنودها وشهودها.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سعيد فضل
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست