ما تحتاجه المرأة المسلمة هو مستقبل تعيش فيه آمنةً في ظل خلافة، لا يومًا في العام يستعرض وضعها كأقلية!! (مترجم)
ما تحتاجه المرأة المسلمة هو مستقبل تعيش فيه آمنةً في ظل خلافة، لا يومًا في العام يستعرض وضعها كأقلية!! (مترجم)

الخبر: تم إرساء السابع والعشرين من آذار/مارس يوما سنويًا للمرأة المسلمة، وذلك بعد أن توافق على ذلك موقع المرأة المسلمة "فتاة مسلمة" "MuslimGirl" بالتعاون مع شركاء آخرين في وسائط الإعلام (إم تي في وفوغ تين). وقد شجع هذا الموقع الذي أنشأته وتديره نساء مسلمات الناس على الاعتراف بالدور المجتمعي المهم الذي تقوم به المرأة المسلمة على الصعيدين المحلي والعالمي. وقد تميز هذا اليوم بمشاركة العديد من النساء المسلمات لتجاربهن في مواجهة تحديات الإسلاموفوبيا وكيف أنهن رغبن في تقديم أجندة غير نمطية ألهمت نساء مسلمات أخريات لتحدي القيود الثقافية والسياسية التي تحيط بهن.

0:00 0:00
Speed:
April 03, 2017

ما تحتاجه المرأة المسلمة هو مستقبل تعيش فيه آمنةً في ظل خلافة، لا يومًا في العام يستعرض وضعها كأقلية!! (مترجم)

ما تحتاجه المرأة المسلمة هو مستقبل تعيش فيه آمنةً في ظل خلافة،

لا يومًا في العام يستعرض وضعها كأقلية!!

(مترجم)

الخبر:

تم إرساء السابع والعشرين من آذار/مارس يوما سنويًا للمرأة المسلمة، وذلك بعد أن توافق على ذلك موقع المرأة المسلمة "فتاة مسلمة" "MuslimGirl" بالتعاون مع شركاء آخرين في وسائط الإعلام (إم تي في وفوغ تين). وقد شجع هذا الموقع الذي أنشأته وتديره نساء مسلمات الناس على الاعتراف بالدور المجتمعي المهم الذي تقوم به المرأة المسلمة على الصعيدين المحلي والعالمي. وقد تميز هذا اليوم بمشاركة العديد من النساء المسلمات لتجاربهن في مواجهة تحديات الإسلاموفوبيا وكيف أنهن رغبن في تقديم أجندة غير نمطية ألهمت نساء مسلمات أخريات لتحدي القيود الثقافية والسياسية التي تحيط بهن.

التعليق:

تواجه النساء المسلمات اليوم مستوى غير مسبوق من سوء المعاملة والفقر والتعرض للخطر في كل جزء من العالم. إن انعدام الأمن والمعاناة التي تواجهها ملايين النساء المسلمات الشابات والكبيرات ليست ناتجة عن كارثة طبيعية بل هي مخطّط لها بعناية من قبل سلطة عالمية تملك وجهة نظر استعمارية خاصة للحياة وهي تسعى جاهدة إلى حماية مصالحها التجارية الخاصة وتقويض جميع الثقافات والتأثيرات التي قد تعارضها. وإذا ما أدركت النساء المسلمات بأن وسائل الإعلام في توجهها العام ليست سوى أداة تستخدم للتأثير في المجتمع الأعمى عن فساد الطبقة المتنفذة فإنها ستفهم عندها بأن السلطات صاحبة الصلاحية ستقف إلى جانب المرأة المسلمة فقط عندما يخدم ذلك جدول أعمالها الذي يسعى إلى علمنة المسلمين بحيث يوجه طاقاتهم عن التغيير الحقيقي ويبددها ويسوقها نحو مسببات تبقي الأمور على ما هي عليه دون تغيير.

إن أيًا من أفكار الأزياء في الزي الشرعي، أو الإصلاح في أفكار الإسلام، أو الثناء على النساء اللاتي يخالفن الشريعة الإسلامية لتعزيز الصورة "الإيجابية"، إنّ أيًا من ذلك كله سوف لن يرفع من شأن ومكانة المرأة المسلمة عالميا. وإذا ما كانت القيم الليبرالية العلمانية هي حقًا مفتاح النجاة للمرأة المسلمة، إذن لن تكون هناك حاجة إلى يوم عالمي للمرأة المسلمة كونها فعلا ستعامل معاملة عادلة وستنال حقوقها كما أي شخص آخر. إنها حقيقة صائبة تمامًا كون النظام السياسي الغربي ينظر إلى الإسلام على أنه عدوّ أيديولوجي، ولذلك فإنه يجعل أكبر رمز للإسلام (اللباس الذي ترتديه المرأة المسلمة) على خط المواجهة الدائم في تشريعاته الجنائية وحملات القذف السلبية وبرامج الأقلية. إن على النساء المسلمات ألاّ يحتفين بيوم واحد في العام لا يؤكد إلاّ على أنهن غير مرحّب بهن في أي مجتمع طالما رغبن بالعيش وفقاً لأحكام الإسلام التي تعني أن يكون الولاء لنظام رب العالمين لا قوانين صنعها البشر.

وفي الواقع فإن يوم المرأة المسلمة هو احتفاء بهيمنة الغرب على حياة النساء المسلمات اللاتي لا خلافة لهن لحمايتهن ورعاية شؤونهن. وانطلاقًا من هذا المفهوم فإن المرأة المسلمة لا يمكنها إلا أن تتوقع شيئًا واحدًا في 27 آذار/مارس من كل عام وهو أن يصبح هذا اليوم معبودًا ديمقراطيًا جديدا، وتدهورًا لمحنة المرأة المسلمة في كل مكان فالتغيير الحقيقي في حقوق المرأة الاقتصادية والاجتماعية والتعليمية سيحافظ عليها بحق بيد أولئك الذين يقدرون الإسلام والنساء المسلمات. وحده النظام السياسي الإسلامي الذي يتجسد في دولة الخلافة على منهاج النبوة هو ما سيقدم حلولاً ملموسة للقمع الذي تواجهه أمتنا في كل مكان. من دون الخلافة لن تجد النساء المسلمات أي علاج لآلامهنّ في وسائل الإعلام عندما يتعرضن هن وإخوتنا وآباؤنا وأبناؤنا وأجدادنا وأعمامنا للقتل والتعذيب والخطف من قبل القوات المحتلة لبلادنا. وعندما تنتهك أعراض أخواتنا من الروهينجا وفلسطين والعراق وأفغانستان وكشمير فإن حكام المسلمين سيبقون على عهدهم في التواطؤ مع العدو وعلى أرضنا. وعندما تعامل نساؤنا وأطفالنا كقمامة لا نفع منها ويتركون ليغرقوا في البحر ويوقفون على حدود وهمية فإن القوانين العنصرية القومية اللاإنسانية ستكون قائمة.

إن الرسالة الحقيقية في يوم المرأة المسلمة تقول بأن على المرأة المسلمة أن تتمتع بما تسمح به حكومتها من شعائر الإسلام المنتقاة، فيما تسجد للقوانين العلمانية التي تتعارض مع المصالح الغربية. يخبرنا الله تعالى أنه مهما حاول المسلم التوفيق بين الأفكار خدمة للإسلام فإن رغبة أعداء الإسلام الحقيقية هي أن نتبع ملتهم كعصاة لله تعالى: ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ * الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمن يَكْفُرْ بِهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ * يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ * وَاتَّقُواْ يَوْماً لاَّ تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئاً وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ﴾ [سورة البقرة: 120-123]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عمرانة محمد

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست