ما يجب أن يفعله حكام سوريا تجاه غطرسة كيان يهود
ما يجب أن يفعله حكام سوريا تجاه غطرسة كيان يهود

الخبر:   طالب رئيس وزراء كيان يهود نتنياهو يوم 2025/2/24 بأن "يكون جنوب سوريا منطقة منزوعة السلاح وتشمل محافظات القنيطرة ودرعا والسويداء"، وقال "لن نسمح لقوات هيئة تحرير الشام أو الجيش السوري الجديد بدخول الأراضي الواقعة جنوب دمشق، ولن نتسامح مع أي تهديد للطائفة الدرزية في جنوب سوريا".

0:00 0:00
Speed:
March 02, 2025

ما يجب أن يفعله حكام سوريا تجاه غطرسة كيان يهود

ما يجب أن يفعله حكام سوريا تجاه غطرسة كيان يهود

الخبر:

طالب رئيس وزراء كيان يهود نتنياهو يوم 2025/2/24 بأن "يكون جنوب سوريا منطقة منزوعة السلاح وتشمل محافظات القنيطرة ودرعا والسويداء"، وقال "لن نسمح لقوات هيئة تحرير الشام أو الجيش السوري الجديد بدخول الأراضي الواقعة جنوب دمشق، ولن نتسامح مع أي تهديد للطائفة الدرزية في جنوب سوريا".

التعليق:

إن هذا الموقف من كيان يهود ليس مستغربا، ولا من أي عدو يهددك، فعندما لا يرى ردا على عدوانه فإنه سيتمادى، ويرى السكوت انهزاما، وسيظهر غطرسته ويرفع من سقف مطالبه، فيطالب بالمزيد من التنازلات بأن يكون جنوب سوريا حتى تخوم العاصمة منزوع السلاح، وتحت تحكّمه وتهديده.

فمنذ فرار الطاغية بشار أسد يوم 2024/12/8 بدأ كيان يهود يهاجم سوريا، حيث هاجم المنشآت العسكرية، فدمر نحو 600 منها، بما فيها مطارات وطائرات ومخازن أسلحة وغيرها. ونكث باتفاقية عام 1974 المتعلقة بوقف إطلاق النار والمنطقة العازلة، فاقتحمها وتخطاها واحتل أراضي جديدة حتى درعا واحتل جبل الشيخ.

فلم ترد عليه الإدارة السورية برئاسة أحمد الشرع، فواصل عدوانه حتى هذا اليوم. فقصفت طائرته يوم 2025/2/25 بلدة الكسوة جنوبي دمشق مستهدفة موقعا عسكريا وسمع سكانها أصوات طائرات تحلق فوق رؤوسهم وسلسلة انفجارات. وكأن القصف جاء استهزاء بالتنديد بهجماته والمطالبة بانسحاب قواته كما ورد في البيان الختامي لمؤتمر الحوار الوطني السوري. فهي كتنديدات الأنظمة القائمة في البلاد الإسلامية، فلا ترد عدوانا ولا تحرر بلدانا.

وقال المتحدث باسم وزارة حرب يهود "إن سلاح الجو يهاجم بقوة في جنوب سوريا في إطار السياسة الجديدة التي حددناها لتهدئة جنوب سوريا، والرسالة واضحة لن نسمح لجنوب سوريا أن يصبح جنوب لبنان"! وهكذا يعربد كيان يهود ويظهر غطرسته والنظام السوري الجديد عاجز حتى عن التوعد بالرد والتهديد ولو بلهجة النظام السابق الكاذب "نحتفظ بحق الرد في الوقت المناسب"!

بل كان رده متخاذلا إلى أبعد الحدود ومحبطا للمعنويات، فيقول رئيسه أحمد الشرع "البلاد منهكة من الحروب وبحاجة لتنميتها وتقويتها وهي لا تشكل أي تهديد لأي دولة في العالم"، ويقول: "كان لدى (إسرائيل) حجج لتدخلهم في سوريا تتعلق بالمليشيات الإيرانية وحزب الله، ولا مبرر لتقدم القوات (الإسرائيلية) في سوريا". فأية عقلية انهزامية يتصف بها هذا الرجل؟! فكيان يهود يخوض حربا ضد سوريا ويهاجمها قبل وجود إيران وحزبها ومليشياتها هناك. فهو يحتل الجولان منذ عام 1967، ويحتل فلسطين منذ عام 1948. أم أن هذا الأمر لا يعنيك؟!

ويتبعه وزير خارجيته الشيباني ومحافظه لدمشق ماهر مروان بأنهم يريدون التعايش والسلام مع كيان يهود!! فهذه مواقف ساقطة خيانية.

ولهذا فليس مستغربا أن يقوم كيان يهود ويواصل ضرباته ويطلق تهديداته ويفرض شروطه، وسيرفع سقفها عندما يرى كل هذا التخاذل، فإذا استمر الأمر على هذه الحال فسوف يطلب نزع السلاح من السوريين واعتقال كل من يريد الجهاد كما فعل مع سلطة أوسلو في فلسطين، وهكذا يفعل كل معتد أثيم عندما يستسلم له الذين توسدت لهم الأمانة وهم ليسوا أهلا لها.

فالأصل والحكم الشرعي أن تقاتل العدو مهما كانت لديك من إمكانيات وإلا فإنه سيتمادى في عدوانه وغطرسته واستحلال حرماتك حتى يصل إلى عقر بيتك، فيبدأ باستعبادك إن لم يقتلك وينتهك عرضك ويستولي على مالك.

ولا يقال سوريا منهكة ولا نريد الحرب، فهذا القول يغري العدو بأنك لن تتصدى له، بل يجب أن تظهر أنك قوي ومستعد للقتال والتضحية، فالناس يسيرون وراء قائدهم فإن قاتل قاتلوا، يقاتلون بعزيمته، ولو كانت إمكانياتهم متواضعة كما قاتلوا سنوات طوال ضد النظام وإيران وحزبها ومليشياتها وروسيا، وصبروا ولم يستسلموا فجاءهم نصر الله من حيث لم يحتسبوا.

وهكذا يجب أن تعلن الحرب على كيان يهود اليوم قبل الغد مهما كانت إمكانياتك ولو استمرت الحرب 14 سنة ويزيد، فإن الله سيؤيدك بنصره وبملائكته وبالمؤمنين، فيأتوك من كل فج عميق، وخاصة عندما تعلنها خلافة على منهاج النبوة وأنه لا حدود مع البلاد الإسلامية، بل كلها بلد واحد، فتدعوهم ليضموا بلدانهم إلى دولة الخلافة. فلا تغمز بها من بعيد في خطبتك يا أحمد الشرع بمؤتمر الحوار المشؤوم فتقول بضرورة "عدم تحول سوريا إلى حقل تجارب لتحقيق أحلام سياسية غير مناسبة" وهذا كلام يردده المحبطون والمغرضون بأن الخلافة عبارة عن أحلام!

لقد صبرت غزة 15 شهرا وثبتت وهي محاصرة من كل جانب وليس لديها بعد استراتيجي. ولكن سوريا مفتوحة على كل الاتجاهات ولديها بعد استراتيجي فيما يحيط بها من بلاد المسلمين الأبطال، خاصة أهل الأردن ومن وراءهم وأهل الأنبار وطرابلس الشام والأناضول.

ربما تقول إن يهود لديهم أسلحة فتاكة وخلفهم أمريكا فسوف يدمرون سوريا كما دمروا غزة، إذن تريد الخنوع والاستسلام وترجيح الحياة الذليلة والرفاهية المزيفة؟! وهل ثمن العزة والسؤدد رخيص؟! بل تراق دونها الدماء وتسترخص فيها المهج. وتريد بناء سوريا بعدما دمرها الأعداء أثناء الثورة، وهل ستبنيها وكيان يهود يهاجمك كل يوم؟! اهدم كيانه، فإنك ستبنيها على أسس متينة لا تنهار إلى يوم القيامة بإذن الله.

يقول البعض لا يوجد شرط الأمان لإعلان الخلافة! وكيف سيكون ذلك إذا لم تقاتل؟! فهل الأمان يأتي بمجرد وجود قوة عسكرية ضخمة؟! أم بخوض القتال بقدر ما تملك من إمكانيات، وتبذل الجهد لأن تملكها، وسوف تتعزز عزيمة الناس على البناء وتطوير السلاح وتأمينه من كل مكان وهم يخوضون الحرب!

فالرسول ﷺ عندما أقام الدولة الإسلامية خاض القتال بأقل الإمكانيات فأوجد الأمان وحقق الانتصارات. وأبو بكر رضي الله عنه عندما تسلم الخلافة وقد ارتدت ثلاثة أرباع الجزيرة العربية أو منعوا الزكاة، فقاتلهم بما لديه من إمكانيات فحقق الانتصارات، وواصل قتاله للروم فأرسى دعائم الدولة حتى صارت أعظم دولة في العالم.

فعلى قادة سوريا إذا أرادوا العزة لأنفسهم ولأمتهم أن يعلنوا الجهاد ويخوضوا القتال مع المغضوب عليهم مهما كانت إمكانياتهم ومهما تعرضوا إلى أذى وضرر، والله سيؤيدهم بنصره وبملائكته وبالمؤمنين وسيلقي في قلوب الذين كفروا الرعب ويشتت شملهم. وعليهم أن يعلنوا البدء بتطبيق الإسلام ويدعوا المخلصين الواعين من أبناء الأمة ليساعدوهم، لا أن يسجنوهم، ولا أن يتجهوا إلى الخونة أولياء اليهود والنصارى كابن سلمان وعبد الله الثاني وأردوغان وغيرهم، ويتوسلوا لأمريكا ولأوروبا لتساعدهم وترفع عنهم العقوبات! وليتدبروا قوله تعالى: ﴿لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِن يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الأَدُبَارَ ثُمَّ لاَ يُنصَرُونَ‏﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست