ما يجب أن يتوقف هو تمردكم على شرع الله وانبطاحكم لأمريكا!
ما يجب أن يتوقف هو تمردكم على شرع الله وانبطاحكم لأمريكا!

 الخبر: نشرت جريدة الانتباهة السودانية خبراً بعنوان: "قرار بمعاملة الجنوبيين كأجانب وتهديد بإغلاق الحدود" يوم الجمعة 2016/3/18 جاء فيه: "قرر مجلس الوزراء، معاملة رعايا دولة الجنوب المقيمين بالسودان بوصفهم أجانب لدى تلقيهم لخدمات الصحة والتعليم.

0:00 0:00
Speed:
March 22, 2016

ما يجب أن يتوقف هو تمردكم على شرع الله وانبطاحكم لأمريكا!

ما يجب أن يتوقف هو تمردكم على شرع الله وانبطاحكم لأمريكا!

الخبر:

نشرت جريدة الانتباهة السودانية خبراً بعنوان: "قرار بمعاملة الجنوبيين كأجانب وتهديد بإغلاق الحدود" يوم الجمعة 2016/3/18 جاء فيه:

"قرر مجلس الوزراء، معاملة رعايا دولة الجنوب المقيمين بالسودان بوصفهم أجانب لدى تلقيهم لخدمات الصحة والتعليم.

كما قرر المجلس في جلسته برئاسة الرئيس البشير أمس، التحقق من هوية أهل الجنوب المقيمين بالبلاد، واتخاذ الإجراءات القانونية حيال كل من لا يحمل جواز سفر وتأشيرة دخول رسمية خلال أسبوع. بالمقابل، هددت الرئاسة باتخاذ إجراءات لحماية البلاد حتى لو أدى ذلك لإغلاق الحدود مرة أخرى مع دولة الجنوب، حال لم تتوقف جوبا عن دعم التمرد في المنطقتين ودارفور. ونقل الرئيس البشير لرئيس الآلية الإفريقية رفيعة المستوى ثامبو أمبيكي، بأن السودان لا يستطيع أن يستمر بهذه الحالة إذا لم تتوقف دولة الجنوب عن دعم التمرد. وقال مساعد الرئيس إبراهيم محمود حامد، إن جوبا مستمرة في دعم المعارضة من المنطقتين والمعارضة من دارفور... إلى آخره."

التعليق:

تمر السودان بأسوأ الأوقات من كل النواحي؛ السياسية والاقتصادية والاجتماعية، حيث تستمر الحكومة في لعب دورٍ أساسيٍ في تنفيذ المخطط الأمريكي فيما يُعرف بمخرجات الحوار الوطني العلماني لتقسيم السودان على أساس عرقي كما حدث مع انفصال الجنوب، وما هذا القرار الذي اتخذه مجلس الوزراء إلا تكريس لهذه المؤامرة التي أرهقت أهل السودان وحرمتهم الأمن والأمان وعملت على نشر الكراهية والحقد بين أطياف الشعب في شمال وجنوب البلاد وغربه وشرقه. فقد أخذت السلطات أملاك أهل الجنوب ورحلتهم قسراً من شمال البلاد، وتركتهم لمصير مجهول بين أيدي عصابات التمرد المجرمة التي أصبحت بالانفصال ذات سلطة وعلاقات خارجية معترفاً بها ولديها أجهزة ودولة، وخرج عليها متمردون من قبائل جنوبية أخرى لتتفاقم المشكلة، وليعلن الشعب في الجنوب أنه يريد إلغاء هذا الانقسام الذي ضيعهم ونغص عليهم عيشهم في الجنوب وفي الشمال.

والأسوأ من هذا وذاك؛ الفئة المنسية من المسلمين في الجنوب "النصراني"، لقد أصبحوا ممنوعين رسمياً من الإقامة في الشمال العربي "المسلم"، إلا باستخراج هذه الأوراق التي يصُعب عليهم توثيقها وإثبات هوياتهم، فالأغلبية غير متعلمة وتعيش حياة بسيطة جداً وتعمل بالزراعة والرعي، فضاعت حقوق المسلمين "الأفارقة" في الجنوب، واعتُبروا رعايا تابعين للحكومة الجنوبية الحاقدة على الإسلام، حكومة هدمت مساجدهم وأحرقت أراضيهم واغتصبت نساءهم وحرمت أولادهم من التعليم والعمل، وهذا طبيعي عندما تُجعل الرابطة الوطنية والقومية والقبلية هي أساس العلاقات بين الناس بدلاً من توفير ما يحتاجه الإنسان ليعيش بكرامته، وتجد القوانين تستند إلى المصالح المادية والمنفعة لمن بيده السلطة والسلاح ولا تجد لرعاية الشؤون وحل المشاكل قيمة، وتجد الجميع ينحاز لقبيلته وجنسه ولا يكون للدين أو حياة الإنسان أي أهمية، وقد نجح الغرب حين فرقنا وفرض سيادته علينا!

إن قرارات حكومة البشير هي قرارات ظالمة مجحفة لأنها قرارات تستند إلى خارطة الطريق الأمريكية التي أعدتها وأعلنتها بكل صراحة، وما الحوار الوطني الذي يتحكم به أمبيكي، كاره الإسلام، والذي سعى جاهداً لانفصال الجنوب ليتحرر "النصارى من قبضة العرب"، إلا دليل على فشل حكومة الإنقاذ، فلا يجرؤ الرئيس على أكثر من أن يلجأ إليه أمبيكي وأن يشتكي له، فأي انبطاح هذا وأي ضياع للأمانة وأي خذلان للمسلمين ولغير المسلمين في السودان؟! والأسوأ قادم فهذا الحوار الوطني السطحي والذي يدعو لهوية سودانية ليقصي بها الهوية الإسلامية ويطمسها لا يناقش القضايا المهمة لرعاية شؤون الشعب من مأكل وملبس وسكن وعمل وتعليم وتطبيب بل هدفه ترسيخ الحريات الغربية من خلال الدستور العلماني التوافقي ليصبح أهم أدوات السياسة الأمريكية لتمزيق ما تبقى من السودان بتقسيم السلطة بين الحركات المسلحة المنخرطة في "الحوار" بحجة تقرير المصير على الأساس القبلي مرة أخرى، وتريد الحكومة الآن تكرار عملية الانفصال في دارفور وفي "المنطقتين"؛ ذلك المصطلح المبهم الذي يروج له إعلام النظام تمهيداً لتمزيق آخر، فلم يعد لرابطة العقيدة الإسلامية ولا لتطبيق الأحكام الشرعية في نظام حكم عادل يساوي بين جميع الناس بغض النظر عن عقائدهم وأجناسهم، لم يعد لنظام الإسلام مكان، ذلك النظام الذي يشهد له التاريخ بأنه النظام الوحيد القادر على توفير الرعاية للبشرية، فلم يجعل بينهم حدوداً ولا سدوداً، ولم تكن السلطة بيد السفهاء، بل بيد الحاكم الراشد الذي يطبق أحكام الإسلام كاملة في دستور مصدره القرآن والسنة وكان له الأثر العظيم في الارتقاء بالبشرية من مستنقع القتل والفساد والإفساد والكفر والبعد عن الله والمصالح المادية إلى نهضة فكرية حقيقية بالإيمان الذي ألّف بين قلوب البشر ووحّدهم في دولة واحدة يحكمها حاكم واحد حماهم من مطامع الكافر المستعمر وجعل الحوار دائماً على أساس الإسلام فعاش الناس بسلام.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست